شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستانی موقف کی جیت

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستانی موقف کی جیت

  

بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکیورٹی ایڈوائزرز کے اجلاس میں اُس وقت شدید سُبکی کا سامنا کرنا پڑا، جب بھارتی نمائندے اجیت دوول کا پاکستانی سیاسی نقشے پر اعتراض مسترد کر دیا گیا، جنہوں نے کہا تھا کہ نقشے میں بھارتی علاقے شامل ہیں، پاکستانی نمائندے معید یوسف نے اعتراض  کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات یو این چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں، پاکستان کشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے موقف پر قائم ہے، شنگھائی تعاون تنظیم نے پاکستان کی پوزیشن سے اتفاق کیا اور پاکستان کے موقف کی پذیرائی کی،بعد میں اجیت دوول اجلاس سے اُٹھ کر چلے گئے اور اُن کی نشست خالی رہی، پاکستان نے بھارتی نمائندے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جاری کردہ نقشے میں کوئی بھارتی علاقہ شامل نہیں،پاکستان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں۔

بھارت نے جس طرح غیر قانونی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو ضم کیا ہے اس پر اقوام متحدہ اپنی رائے کا اظہار کر چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے،جس میں مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی کہہ چکے ہیں کہ نہ صرف یہ علاقہ متنازع ہے،بلکہ اس کا حل بھی یہ ہے کہ بھارت اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں طے کرے، بھارت نے ابھی چند روز قبل بھی یہ کوشش کی  تھی کہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے نکلوا دے،لیکن اس میں بھی اُسے بُری طرح ناکامی ہوئی،اور سلامتی کونسل نے پاکستان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ بھارت کے کہنے پر کسی مسئلے کو ایجنڈا سے نہیں نکالا جا سکتا،اس کوشش کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان جنرل اسمبلی میں اس معاملے کو نہ اٹھا سکے،دو ہی ہفتوں کے اندر یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بھارت کو کسی عالمی فورم پر شکست ہوئی ہے، شنگھائی تعاون فورم میں جس نقشے پر بھارتی نمائندے نے اعتراض کیا،اس میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے اور پاکستان ہر عالمی فورم پر یہی کہتا ہے کہ اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کیا جانا چاہئے،جنہیں بھارتی حکومت نے تسلیم کیا ہوا ہے،لیکن بھارت نہ صرف اِن قراردادوں پر عملدرآمد سے گریزاں ہے،بلکہ معاہدہ شملہ کے تحت مذاکرات سے بھی انکاری ہے۔مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کر کے تو اس نے مذکورہ معاہدے کی بھی دھجیاں اڑا دی ہیں۔معاہدے کے باوجود اقوام متحدہ کا یہی موقف ہے کہ اس تنازعے کا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ہونا چاہئے، اپنی یہ پوزیشن اقوام متحدہ نے کبھی تبدیل نہیں کی،ایسے میں حیرت ہے کہ بھارت نے جس غیر قانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنایا ہے عالمی فورموں پر وہ اس کا دفاع کرنے میں نہ صرف ناکام ہے،بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں جس طرح پاکستانی نقشے پر اعتراض رد کیا گیا اس پر بھی اسے ندامت کا سامنا کرنا پڑا، اگر نقشے پر بلاوجہ اعتراض نہ کیا جاتا تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔

مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی، اب شنگھائی تعاون تنظیم نے بھی پاکستان کے موقف پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے، تو بھارت کو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر تنازعے کے پُرامن حل کی جانب آنا چاہئے،جس کی وجہ سے نہ صرف خطے،بلکہ پوری دُنیا کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے، بھارت کی سٹرٹیجی یہ لگتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائے گا،لیکن مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدامات کے باوجود اُسے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی،اب اسے عالمی فورموں پر خفت کا سامنا ہے، اسی مہینے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پھراس معاملے کی گونج سنائی دے گی۔اس بار چونکہ جنرل اسمبلی کا ورچوئل اجلاس ہو رہا ہے اور ہر مُلک کے نمائندے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں،اِس لئے بھارتی نمائندہ روایتی طور پر واک آؤٹ بھی نہیں کر سکتا، جس کا مظاہرہ ہر بار بھارت کی طرف سے ہوتا ہے، بہتر طرزِ عمل تو یہی ہے کہ بھارت کشمیر کے معاملے پر بات چیت کا آغاز کرے۔ اقوام متحدہ یا بڑی طاقتوں کی ثالثی کی پیش کش پر بھی مثبت ردعمل کا اظہار کرے، دُنیا کے بہت سے مُلک وقتاً فوقتاً کشمیر کے سلسلے میں ثالثی اور مصالحت کی پیش کش کر چکے ہیں،لیکن بھارت نے کبھی یہ پیش کش قبول نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کا تنازع اب تک لاینحل چلا آ رہا ہے۔ یہ بھارت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات کا آغاز کرے اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے۔ وقت گذاری کا یہ رویہ بھارت کو تنہائی کی طرف لے جا رہا ہے اُسے محسوس کر لینا چاہئے کہ اس طرح کشمیر کے مسئلے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی، اسے سنجیدگی سے حل  کرنا ہو گا، جب تک مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، یہ خطہ متنازع ہی کہلائے گا اور نقشے میں اس کی یہ حیثیت برقرار ہے گی۔ واک آؤٹ کر کے زمینی حقیقتوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -