وفاقی کابینہ نے انتخابی قواعد میں ترمیم کی اجازت دی!

وفاقی کابینہ نے انتخابی قواعد میں ترمیم کی اجازت دی!

  

وفاقی کابینہ نے ان تجاویز کی حتمی منظوری دے دی جو تحریک انصاف اور حکومت کے مطابق انتخابی قواعد میں مقصود ہیں۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے میں سینیٹ انتخاب کی خفیہ ووٹنگ ختم کرنے، منتخب اراکین کو دو سے تین ماہ کے اندر حلف اٹھانے کا پابند بنانے اور دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں (تارکین وطن) کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینا شامل ہے۔ یہ تینوں امور متعلقہ انتخابی قوانین میں مطلوبہ ترامیم ہی سے طے پائیں گے۔ وزارت قانون مجوزہ ترامیم تیار کرکے بل کی صورت میں پیش کرے گی۔ حکومت کا موقف ہے کہ انتخاب جیت کر حلف نہ اٹھانا حلقہ کے ووٹروں کے حقوق کی پامالی ہے اور سینیٹ میں خفیہ رائے شماری سودا کاری کی راہ کھولتی ہے۔ وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ اسحاق ڈار سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور انہوں نے اب تک حلف نہیں اٹھایا، وہ چودھری نثار علی خان کا ذکر کرنا بھول گئے، جنہوں نے اب تک صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا۔جناب شبلی فراز کے مطابق انتخابی قوانین میں مدت کا تعین نہیں ہے۔دہری شہریت کے حامل شہریوں کو اب تک انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، اس پر نااہلیت ہو چکی اور اب فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں سماعت کا سامنا کر رہے ہیں، اب تک یہ قاعدہ ہے کہ انتخابی امیدوار بننے سے قبل دوسرے ملک کی شہریت ترک کی جائے۔ اب یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کو انتخاب لڑنے کی اجازت ہو، جیت کر دوسری شہریت ترک کر سکیں گے۔ یہ وفاقی کابینہ کے فیصلے ہیں، جو انتخابی قوانین میں ترامیم سے مشروط ہیں۔ اس کے لئے آئین میں ترمیم بھی کرنا پڑے گی۔ تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوتہائی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں،اس لئے مناسب ہو گا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے راستہ ہموار کیا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -