میڈیا والو، شاباش،اب مزید محنت کرو، بے نقاب کر دو!

میڈیا والو، شاباش،اب مزید محنت کرو، بے نقاب کر دو!
میڈیا والو، شاباش،اب مزید محنت کرو، بے نقاب کر دو!

  

دور بدلے تو اطوار بھی بدل گئے، جب ہم نے صحافت کے پیشہ میں قدم رکھا تو اخلاق و آداب کا دور تھا، ان دِنوں اخبار میں شائع ہونے والی ہر سطر کا لحاظ رکھا جاتاتھا، ساٹھ کی دہائی میں حالات یہ تھے کہ اول تو مجرمانہ حملے کی خبر شائع نہیں کی جاتی تھی، بعد میں یہ ہوا کہ خبر بغیر نام کے شائع ہونے لگی، اس کے بعد یہ دور آ گیا کہ خبر میں نام کی جگہ نام کا پہلا حرف درج کیا جانے لگا،بات یہاں رُک جاتی تو ٹھیک تھا،لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھتا گیا یہاں بھی بعض حضرات کے نزدیک یہ تصور ہوا کہ پولیس ایسے جرائم میں متاثرہ فریق کو بدنامی کا خوف دِلا کر مقدمہ درج نہیں کرتی یا پھر کمزور ایف آئی آر لکھی جاتی ہے، چنانچہ ان ”دانشور“ حضرات کی بدولت پہلے نام بھی شائع ہوا اور پھر انٹرویو تک کی نوبت آ گئی۔

یہاں بھی معصوم متاثرہ فریق ہی کو نقصان ہوا کہ شہرت ہوئی تو عدالت میں مقدمہ نہ چل سکا کہ وکلاء کی جرح میں اول تو خاتون کا پسینہ بہہ جاتا اور وہ کمرہئ عدالت ہی سے چلی جاتی، بلکہ اکثر تو پیش ہی نہ ہوتیں اور ملزم مقدمہ خارج ہونے کی بنا پر بری ہوجاتا، تب آبادی تھوڑی تھی تو وارداتیں بھی کم ہوتیں، تب بھی ملزم، پولیس کا تعاون ہو جاتا، جو اب بھی ہوتا ہے، تاہم ہمارے زمانہ کورٹ رپورٹنگ میں ایک مقدمہ ایسا آیا، جس میں خاتون نے بڑی دلیری اور حوصلہ سے انتہائی سوقیانہ قسم کی جرح کا مقابلہ کیا اور بااثر ملزمان کو سات سات سال کی سزا ہوئی، زمانہ گذر گیا،اِس لئے زیادہ تفصیل میں جائے بغیر اتنا عرض کرتے ہیں کہ خاتون جرمن نژاد اور ایک بیرسٹر کی اہلیہ تھیں، اور ملزم بااثر(ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کا بیٹا) تھے، اس کے باوجود جب خاتون اور ان کے شوہر نے ہمت کی تو ماحول بدل گیا،وکلاء حضرات نے ملزموں کی وکالت سے انکار کر دیا اور ملزموں کے لئے وکیل صفائی گجرات سے لانا پڑے،اس مقدمہ کی سماعت شیخ محمد رشید(مجسٹریٹ، باختیار دفعہ 30) نے کی تھی، سزا ملزموں کو بھگتنا پڑی تھی۔

یہ گذارش اور ایک حقیقی مقدمہ کا تذکرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دور جوں جوں تبدیل ہوا، حالات بدل گئے اور پھر یہ دور آیا کہ الیکٹرونک میڈیا میں متاثرہ خاندان کے بچوں اور ان کے گھروں تک کو دکھایا جانے لگا کہ حکمران تسلی دینے ان کے گھر جاتے تو کوریج بھی ہوتی تھی،لیکن اس بار حیرت انگیز طور پر سب میڈیا والوں نے تحمل کا ثبوت دیا اور متاثرہ خاتون کا احترام کرتے ہوئے یہ سب کچھ نہیں کیا۔واقعات اور حالات کا ذکر خاتون کی نشاندہی کے بغیر کیا گیا۔ یہ بہت بڑی تبدیلی اور قابل ِ مبارک ہے،میڈیا کو مبارک باد اور یہ بھی ثابت ہوا کہ میڈیا کو بلاوجہ ناقابل ِ اعتماد سمجھا جاتا ہے،”ذرا تم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“ والی بات ہے۔ اس ذمہ داری کا ثبوت خود میڈیا نے دیا ہے، حتیٰ کہ اس میں تفتیشی خبر رسائی بھی نہیں ہوئی اور جو بھی خامی منظر عام پر آئی وہ خود پولیس اور حکمرانوں کی گھبراہٹ کی وجہ سے تھی اور اب بھی  ہے،ویسے بھی یہ بدقسمتی ہے کہ اب اس وقوعہ کے حوالے سے سیاست شروع ہو گئی، فریقین کو اپنی توجہ وجوہات کی طرف مبذول کرنا چاہئے اور میڈیا کو اب خود آگے بڑھ کر اپنے اسی دائرہ اخلاق میں رہتے ہوئے، تحقیقی صحافت کرنا ہو گی، حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان جرائم (ڈکیتی+راہزنی+ مجرمانہ حملہ) میں گینگ ملوث ہیں اور اس وقوعہ نے یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ بہتر تفتیش اور کاوش کے ذریعے ایک سے دوسرے گینگ تک بھی پہنچا جا سکتا ہے اور پھر یہ بھی انکشاف ہو گا کہ ان گینگ والوں کے سرپرست کون اور قانون کے رکھوالے بھی ملوث ہیں۔ میڈیا کو اب اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا ہو گا کہ وہ یہ ثابت کر چکا کہ ”ہم پر اعتماد کرو، ہم پورا اُتریں گے“۔

ہمیں اس سارے معاملے میں یہ افسوس ہے کہ بحث اور گفتگو کسی اور طرف نکل گئی، خصوصی طور پر سزا کے مسئلہ پر بحث چھڑ گئی ہے، اور اس وقوعہ سے یہ موقع ملا تھا کہ معاشی، معاشرتی اور اخلاقی طور پر حالات کا تجزیہ کیا جائے،اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ یہی وقوعہ کسی مہذب ملک میں ہوا ہوتا تو اب تک ملزموں کے ہر نوع کے کوائف اور ان کے کردار کے سارے پہلو سامنے آ جاتے اور پھر یہ تجزیہ ہوتا کہ معاشی اور معاشرتی حالات نے کیا اثر دکھایا،ملزموں کا تعلق دیہات سے ظاہر ہوا ہے، اور ایسا تاثر ملا کہ وہ کم پڑھ لکھے ہیں، اور پہلے بھی جرائم میں ملوث رہے، اور پھر بھی آزاد اور یہ سب استغاثہ اور تفتیش والوں کی مہربانی اور کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے ہوتا رہا ہے۔ان پہلوؤں پر بات کی ضرورت ہے، یہ نہیں کہ واوڈا صاحب کہیں کہ ملزموں کو نامزد بنایا جائے تو وزیراظم بھی تائید  کر دیں۔ یہ جذباتی پہلو ہے،اس کے نفسیاتی اثرات آج کے مجرم کو کل کا قاتل بھی بنا سکتے ہیں، اس لئے اب یہ لازم ہے کہ ان جرائم کی وجوہات پر بھی بات کی جائے کہ یہ کیوں بڑھتے جا رہے ہیں اور پھر یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہر وقوعہ اس کے میرٹ پر دیکھا جائے۔ یہ نہیں کہ ایک وقوعہ کی زیادہ تشہیر ہو تو باقی وارداتیں پس ِ پردہ چلی جائیں۔

اس وقوعہ کے حالات سے بہت کچھ واضح ہوا، منظر عام پر بھی آیا، پولیس کے مختلف شعبوں کے کردار کو بھی مدِ نظر رکھنا ہو گا، اب میڈیا مکمل ”واچ ڈاگ“ بن جائے گا تو شاید ان وارداتوں میں کمی ہو اور گینگ پکڑے جائیں یہ سب کسی رعائت کے بغیر ہی ممکن ہے،اِس لئے ہوشیار اور ”تحقیقاتی جرنلزم“ زندہ باد کرائیں۔

مزید :

رائے -کالم -