گِدھ نما انسان 

گِدھ نما انسان 
گِدھ نما انسان 

  

خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات اس لئے پیدا کیا تھاکہ اس کو عقل و دانش، فہم و فراست، حکمت و تدبر اور نیک و بد کی تمیز فطری طور پر سکھائی گئی۔ مگر افسوس کہ حضرت انسان نہ صرف اپنی عظمت اور مقام کھو چکا ہے، بلکہ اپنی بے حسی اور جہالت سے اپنے اردگر د کے لوگوں کے لئے بھی باعث زحمت بن چکا ہے۔ اسی معاشرے میں ہمارا پا لا کچھ انسان نما گِدھوں سے بھی ہے جو خون، چیتھڑے اور بوٹیاں نوچ کھانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ حال ہی میں سانحہ گجر پورہ میں قوم کی ایک اور بیٹی ہماری بے حسی اور خاموشی کا نشانہ بن گئی…… میری نظر میں ہمارے نظام کے خلاف دہا ئیوں کی خاموشی نے اس طرح کے سانحات کو جنم دیا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس سانحے نے بھی قوم کو عارضی طور پر جگا دیا ہے، مگر یہ ہوش بس چند دن کا مہمان ہے قوم پھر خواب خرگوش میں جانے ہی والی ہے،پھر یہ قوم خدا نخواستہ اگلے سانحہ تک سوتی رہے گی۔ ہم اگر زینب کے معاملے پر مجرم کو سر عام پھانسی دینے کے مطالبے کی بجائے نظام کی تبدیلی تک چین سے نہ بیٹھتے تو آج ایک اور حوا کی بیٹی ظلم کا نشانہ نہ بنتی۔ درحقیقت اس بار حکومت پر ملزم پکڑنے اور سزا دینے کے دباؤ سے بڑھ کر نظام کو بدلنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ہمارے معاشرے کے ان گِدھوں کا مستقل حل تلاش کیے بغیر ہمیں چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ یہ گِدھ جب چا ہیں جس وقت چاہیں جس کو چاہیں ہوس کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ ان گدھوں کا بس چلے تو ہر گوشت پوست کی شے کو ہڈیوں سمیت حلق سے اْتار لیں، کیونکہ اس بے حس معاشرے میں ان کو نہ تو کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی مظلوم کی کوئی داد رسی کرنے والا۔

حکومت صفائیاں دینے اور بے چاری پولیس پر دباؤ ڈالنے میں مصروف ہے، جبکہ اْن کو نہ تو موثر نظام دیا گیا ہے اور نہ ہی موثر سہولتیں۔ یہاں مقابلہ چل رہا ہے کہ کون کتنے آئی جی تبدیل کرتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کے چھ آئی جی تبدیل کیے تھے تو کیا پی ٹی آئی نے بارہ آئی جی تبدیل کرنے ہیں؟حکومت یہ کیوں نہیں سوچتی کہ بار بار ادارے کا سربراہ بدلنے سے حالات ٹھیک نہیں، بلکہ خراب ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف سی سی پی او کا بیان انتہائی شرمناک ہے…… مَیں ان سے پوچھتا ہوں کہ خاتون کے اکیلے سفر کو ریپ کی وجہ بنانے والے یہ بھی سمجھا دیں کہ کیا عورت کو دفن بھی اکیلے کرنا چاہیے یا پھر اْسے  دفن بھی محرم کے ساتھ ہونا چاہیے؟ کیونکہ یہاں تو یہ گِدھ قبروں کی لاشوں تک کو معاف نہیں کرتے…… اب اگر دیکھا جائے تو کسی خاتون کو سفر کرنے کی ایمرجنسی بھی ہو سکتی ہے، پٹرول نہ سہی گاڑی بھی خراب ہو سکتی ہے،  ویسے بھی اْس خاتون کو خواب تو نہیں آنا تھا کہ موٹروے کا کون سا حصہ محفوظ ہے اور کون سا حصہ غیر محفوظ، کون سا حصہ موٹر وے کا حصہ نہیں اور کون سا موٹروے کا حصہ ہے۔ ویسے بھی پوری دنیا میں موٹر ویز کو محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے، لیکن یہاں خاتون کو جی ٹی روڑ پر سفر کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ میری سمجھ سے تو باہر ہے کہ آپ کس طرح کا نظام چلا رہے ہیں کہ جہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ 

آفرین ہے مغربی نظام پر جو مدینے کی ریاست ہونے کا دعویٰ تو نہیں کرتے، مگر لندن سمیت پورے ملک کے گلی کوچے اور چوراہے خواتین کے لئے اتنے ہی محفوظ ہیں، جتنے اْن کے گھر۔ آدھی رات کو بھی خواتین اکیلی سفر کرتی ہیں، مگر کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا اور اگر ماضی میں ایسا واقعہ کبھی پیش بھی آیا ہو تو اس کے بعد نظام میں اس قدر اصلاحات کی گئیں کہ دوبارہ اس کے امکانات بہت کم یا ختم ہو کر رہ گئے۔بس فرق اتنا ہے کہ یہاں برطانیہ میں حکومت کی سمت و نیت درست ہے۔ پولیس سیاست سے آزاد اور قانون کی حکمرانی ہے، ان کو اپنی اور شہریوں کی حفاظت کے لئے معیاری سہولتیں میسر ہیں، ان کو اخلاق و قانون کی مکمل تربیت دی جاتی ہے، تاکہ وہ اپنے فرائض بطریق احسن ادا کر سکیں۔ دوسری جانب اپوزیشن حکومت پر تنقید کر کے اپنی سیاسی دْکان چمکانے میں مصروف ہے۔ سب کا مطالبہ ہے کہ ملزموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے…… مگرجیسا کہ مَیں نے پہلے عرض کیا کہ نظام کو بدلنے کے لیے کوئی تیار نہیں، کیونکہ اس طرح کا نظام من حیث القوم ہمیں عزیز ہے، اگر رشوت، سفارش اور بد دیانتی نہ ہو گی تو ہم اپنے جائز نا جائز  کام کیسے نکلوائیں گے، ہماری بات کون سْنے گا۔

ہمیں گاؤں کا نمبردار کون مانے گا، ہماری معاشرے میں دھاک کیسے بیٹھے گی، ہم کیسے اپنی بڑائی بیان کریں گے، رشتہ داروں اور دوستوں میں ہمارا قد کیسے اونچا ہو گا؟

ہم اندر سے اس نظام کی تبدیلی چاہتے ہی نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ نظام کب کا دفن ہو چکا ہوتا۔ اس آدھی جاگی اور آدھی سوئی قوم کے مقدر میں اسی طرح کے رنج و الم اْس وقت تک رہیں گے، جب تک یہ قوم اس بے حس، برہنہ، اور ناانصافی پر مبنی نظام کے تابوت میں آخری کیل پیوست نہیں کر دیتی، مگر کیا کریں صاحب یہاں تو اندھیر نگری چوپٹ راج ہے……مَیں اس بات پر بھی من و عن یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے اردگرد خدا کی مخلوق میں نیک اور صالح لوگ بھی موجود ہیں جو ہمارا فخر ہیں اور اْمید کی آخری کرن بھی۔ اب ان  ہی کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کے اس ناسور کے خلاف اْٹھ کھڑے ہوں اور اپنی آخری سانس تک ان بھیڑیوں و گِدھوں کا مقا بلہ کریں۔ اپنے اردگرد کے لوگوں میں شعور بیدار کریں اور حکومت سے پُرزور مطالبہ کریں کہ اس ظلم اور نا انصافی کے نظام کو جڑ سے اْکھاڑ دیں۔ وقت تو گزر جائے گا،مگر تاریخ فیصلہ کرے گی کہ ہم نے اس ظالم نظام کے خلاف کیا کیا۔

مزید :

رائے -کالم -