بیانات اور معذرتیں، چلن بدلئے حضور!

بیانات اور معذرتیں، چلن بدلئے حضور!
بیانات اور معذرتیں، چلن بدلئے حضور!

  

سی سی پی او عمر شیخ کے ایک متنازعہ بیان کی گرد بڑی مشکل سے بیٹھی تھی کہ شہباز شریف کے بیان نے نئی گرد اڑا دی،انہوں نے اچھا کیا کہ اگر مگر کرنے کی بجائے اپنے بیان پر معذرت کر لی۔عمر شیخ کی بات تو دوسری ہے،بیورو کریٹس کی زیادہ تربیت نہیں ہوتی کہ وہ موقع محل کے مطابق مناسب لفظ استعمال کر سکیں، لیکن سیاست دانوں کا تو کام ہی لفظوں سے کھیلنا ہوتا ہے،اُن کی عوام کے ساتھ خاصی قربت ہوتی ہے، وہ اُن کی نبض پر ہاتھ رکھ کے بات کرتے ہیں، مگر شہباز شریف قومی اسمبلی میں ایک بات کا کریڈٹ لینے  کے خبط میں کہاں کی بات کہاں ملا گئے۔کیا یہ ہماری اجتماعی بے حسی ہے کہ ہم کسی کیفیت کو سمجھ نہیں پاتے یا ہمیں اُس کا ادراک نہیں ہوتا۔جب سی سی پی او عمر شیخ نے یہ کہا کہ تنہا عورت جی ٹی روڈ کی بجائے موٹروے سے کیوں گئی اور اُس نے پٹرول چیک کیوں نہیں کیا،تو کیا یہ اُس وقت کی ضرورت تھی،کیا اس سے کیس نے حل ہو جانا تھا؟ یہ بات وہ بعد میں کہیں کسی سیمینار یا میٹنگ میں کہہ سکتے تھے،جب یہ کیس حل ہو چکا ہوتا اور مجرموں کو سزا مل گئی ہوتی۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ سامنے لاش پڑی ہو اور ہم یہ تابڑ توڑ سوال  کر رہے ہوں کہ یہ مرا کیوں ہے،اسے تو نہیں مرنا چاہئے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کے بیان پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا،جس نے کوئی توجیح پیش کرنے کی کوشش کی اُسے بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ بالآخر سی سی پی او کو معافی مانگنی پڑی۔

حیرت ہے کہ سی سی پی او کو تنقید کا نشانہ بناتے بناتے شہباز شریف کی زبان کیسے پھسل گئی۔چلئے جی مان لیتے ہیں کہ موٹروے بنانے کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے بھی نواز شریف نے بنوائی، مگر کیا اس کریڈٹ کو کسی سانحے سے جوڑا جا سکتا ہے،کیا یہ جملہ کوئی صاحب شعور کہہ سکتا ہے کہ جس موٹروے پر خاتون سے زیادتی کی گئی الحمد للہ وہ بھی نواز شریف نے بنائی۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے سیاست دان پوائنٹ سکورنگ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اسی خبط میں بعض اوقات ایسی حماقت کر جاتے ہیں کہ جس سے لینے کے دینے پڑ جائیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ متنازعہ بیانات دیئے گئے اور بعد میں معذرتیں کرنا پڑیں۔ہماری سیاسی تاریخ تو خاص طور پر متنازعہ بیانات اور  بعدازاں معافی تلافی کے واقعات سے بھری پڑی ہے،لیکن دو دہائی پہلے شاید حالات مختلف تھے۔ ٹی وی چینلز نہیں تھے، کہی گئی باتوں سے مکرنا آسان تھا۔ بڑی سے بڑی بات کہنے کے بعد جب سخت ردعمل آتا تو تردید کر دی جاتی،لیکن اب تو کسی بات سے مکرنا توپوں کا رُخ اپنی طرف کرنے کے مترادف ہے۔سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر سب کچھ بار بار دیکھا جا رہا ہوتا ہے۔ کوئی لاکھ اگر مگر کرے بات نہیں بنتی اور بالآخر معافی مانگ کر ہی جان چھوٹتی ہے۔حیرت ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود ہماری سیاسی شخصیات کوئی نہ کوئی حماقت کر بیٹھتی ہیں، انہیں اتنا بھی یاد نہیں رہتا کہ سامنے ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرا ہے اور وہ اُن کی ایک ایک حرکت کو محفوظ کر رہا ہے۔

ہم تو بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آ سکتے،مگر ہمارے ہاں اکثر یہ گردان بھی کی جاتی ہے کہ مَیں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔بھلا الفاظ بھی کوئی واپس لینے کی چیز ہے۔وہ تو زبان سے نکل کر فضا میں پھیل جاتے ہیں،جس جس نے انہیں سُن لیا، وہ اسی کے ہو گئے،پھر اُن کی واپسی کیسے ممکن ہے،اسی لئے تو کہا گیا  ہے کہ پہلے تولو پھر بولو، ہمارے سیاسی رہنما پہلے بولتے ہیں پھر تولتے ہیں، جب ردعمل شدید آتا ہے تو الفاظ واپس لینے کا ڈرامہ کرتے ہیں،حالانکہ وہ تو زبان سے نکل کر اپنا کام کر چکے ہوتے ہیں، کیا اسی عادت کی وجہ سے ہماری اسمبلی کا ایوان گھٹیا مناظر نہیں دیکھتا۔کیا وہاں ایسی زبان استعمال نہیں کی جاتی،جو کسی تھڑے پر بیٹھے ہوئے شخص کی زبان ہوتی ہے۔ کیا ایک دوسرے کے خلاف ایسے القابات استعمال نہیں کئے جاتے،جن پر سننے والے کو بھی شرمندگی ہوتی ہے۔ سارا ڈرامہ جب سٹیج ہو جاتا ہے تو کبھی اسپیکر کو ہوش آتا ہے کہ الفاظ حذف کر دیئے جائیں اور کبھی خود کہنے والا ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ مَیں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں،جب ہمارے سیاست دانوں کی تربیت ہی ایسی نہیں ہوئی کہ موقع محل کے مطابق اور عوام کے جذبات کو ملحوظِ خاطر رکھ کے بات کیسے کرنی ہے تو اُن سے کسی وقت بھی کسی بونگی کی توقع کی جا سکتی ہے،جس آدمی کو یہ جملہ بولنا پڑے کہ اگر میری کسی بات سے دلآزاری ہوئی ہے تو مَیں معذرت خواہ ہوں، تو اُسے مان لینا چاہئے کہ اُس کے پاس یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں کہ کس بات سے دوسروں کی دلآزاری ہوتی ہے اور کون سی بات نامناسب ہے۔

اسی اسمبلی میں تاریخ نے یہ دیکھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بارے میں کیسی کیسی باتیں کی گئیں۔بعد میں معذرتیں بھی کی جاتی رہیں لیکن نکلے ہوئے تیر کو کمان میں کون واپس لا سکتا ہے۔یہی شیخ رشید احمد کیا کچھ نہیں کہتے رہے اور اب بھی بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں کس طرح کی ذومعنی باتیں کرتے ہیں، یہ سب کے سامنے ہے۔ بعد میں وہ بے  شک وضاحت پیش کرتے رہیں،لیکن ایک بار تو اُن کی گفتگو معیار کی نچلی حدوں کو چھو لیتی ہے۔حیرت ہے کہ سیاست دان ابھی تک90ء کی دہائی میں کھڑے ہیں اور اُسی قسم کی حرکتیں اور رویے جاری رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ اکیسویں صدی ہے اور دُنیا ہی نہیں پاکستان بھی بہت بدل چکا  ہے۔ آج عوام کے شعور کا گراف بلندیوں کو چھو رہا ہے،خبریت اب اُن کی دہلیز پر ہر وقت کھڑی رہتی ہے۔ پَل پَل کی خبر انہیں اپنے موبائل کی سکرین پر مل جاتی ہے،انہیں ٹی وی لگانے کا تردد بھی نہیں کرنا پڑتا۔ یہی نہیں کسی کے ماضی کی تمام تر صورتیں بھی چلتی پھرتی سامنے آ جاتی ہیں۔ آج کل درست کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دشمن کوئی اور نہیں،بلکہ خود ماضی میں دیئے گئے اُن کے بیانات اور تقریریں ہیں،جن سے اُن کے تضادات اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -