آن لائن مشاعرہ بیادِ قائد اعظم ؒ

آن لائن مشاعرہ بیادِ قائد اعظم ؒ

  

گیارہ ستمبر کے موقع پر بانی ئ پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہوم ٹی وی کی طرف سے ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی نے کی جب کی مہمان خصوصی شہزاد نیر تھے اور راقم مہمان اعزاز۔

محفل مشاعرہ کا آغاز اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے کیا گیا۔ نظامت جناب اقبال احمد سہوانی نے کی۔

نظم نذر قائداعظم

جے جے ہند کا ہر سو نعرہ گونج رہا تھا

ہندو مسلم بھائی بھائی

قائداعظم 

ہندو اور انگریزوں کی 

ان چالوں سے واقف تھا

اور اس نے کہا

اس دھرتی پہ دو قومیں ہیں 

(اقبال احمد سہوانی)

”قائد ہمیں تیری ضرورت ہے“

اے میرے پیارے قائداعظم محمد علی جناح

جس منتشر اور غلام قوم کو تو نے آزاد کیا تھا

ان کو امن وسلامتی کا جو پیغام دیا تھا

ایمان اتحاد تنظیم کا جو درس دیا تھا

ملت یہ پیغام بھول گئی

(تسلیم اکرام)

میرا میٹھا میٹھا پیارا وطن

میرا سوہنا سوہنا پیارا وطن

تیری ہر وادی جنت ہے

تیرے نام سے میری عزت ہے

(ڈاکٹر لبنیٰ عکس)

یہ آرزو ہے کہ ان بستیوں میں جا نکلوں 

کہ اہل ظرف جہاں بے شمار ہوتے ہیں 

ہمارے ساتھ محبت نہ کر دلاسہ دے

ہم ایسے لوگ غریب الدیار ہوتے ہیں 

(سید علی شاہ رخ)

”قائداعظم“

ابد کاخواب تیری آستینِ خواب میں ہے

وہ خواب جس سے عبارت ہے خاکِ پاکستان

چمن سے تیری تمنا نے ایسے پھول چنے

کہ جن کو چھو نہ سکے گی کبھی ہوائے خزاں 

(محمد اکبر نیازی)

کوئی پوچھے پسند میری تو پاکستان لکھ دینا

وطن کی خاطر میری جان یہ قربان لکھ دینا

اس ارض پاک کو میری فقط ذیشان لکھ دینا

کتابِ زیست کا میری فقط یہی عنوان لکھ دینا

(شگفتہ شفیق)

ملک پاکستان کو قائد نے اک تقدیر دی

ہم کو آزادی کو پانے کی نئی تدبیر دی

پھر رہے تھے دربدر ہم ملک ہندوستان میں 

گھر بنانے کونئے اس قوم کو جاگیر دی

(نصرت یاب نصرت)

تو نے ہم کو امن وامان کا پرچم دیکر، لمحوں سے آزاد کیا

صدیوں پہلے ہم سے انساں 

اپنے ہونے کی سوچوں میں پہروں گم صم رہتے تھے

 پہروں اپنی ذات کے دکھ میں جینے کا اک کرب چھپا کر 

روتے ہنستے جاگتے سوتے زیست کی ٹھوکر سہتے تھے

(طاہر حنفی)

مرے وطن میں کسی کا کوئی غلام نہ ہو 

خدا کرے کہ یہاں ظلم کا نظام نہ ہو 

چمکتا چاند یوں اترے زمیں کے آنچل پر 

جدھر بھی آنکھ اٹھے تیرگی کا نام نہ ہو 

ہر ایک چہرہ دمکتا رہے قیامت تک 

ہزار دھوپ ہو لیکن غموں کا نام نہ ہو 

مری خدا سے دعا ہے مرے وطن میں کہیں 

کبھی چراغ سے محروم کوئی شام نہ ہو

(اشرف کمال)

فلک کے دامن پہ چاند ستارا سجائے رکھنا

ہوا پہ سبزہ جمائے رکھناہوا پہ سبزہ جمائے رکھنا

حزیں تھے سرو سمن فروغ چمن نہیں تھا

یہاں وہاں گل کھلے تھے مگر بانکپن نہیں تھا

کسی روش بھی علاج رنج ومحن نہیں تھا

بھٹک رہے تھے کہ گھر نہیں تھا وطن نہیں تھا

(شہزاد نیر)

”قائداعظم“

رہ حق صداقت کا وہ اک بے خوف راہی تھا

وہ اک مرد مجاہد تھا، وہ اک مردِ سپاہی تھا

وہ رکتا تھا تو اس کے ساتھاک دنیا ٹھہرتی تھی

وہ چلتا تھا تو پھرساری خدائی ساتھ دیتی تھی

وہ اک کانٹے کی صورت جبر کے دل میں کھٹکتا تھا

وہی انسان تو اقبال کا مردِ قلندر تھا

(منور ہاشمی)

آخر میں صدر مشاعرہ جناب منور ہاشمی نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے قائداعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یہ خوبصورت محفل مشاعرہ منعقد کی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -