پروفیسر مدثر حسن قاسمی ایک باصلاحیت، باوقار صاحب ِ علم شخصیت

  پروفیسر مدثر حسن قاسمی ایک باصلاحیت، باوقار صاحب ِ علم شخصیت

  

پروفیسر مدثر حسن قاسمی کا انتقال پُر ملال آج سے تقریباً چار ماہ قبل ان کی اچانک شدید علالت کے باعث ہوا میرے لئے یہ سانحہ اتنا شدید اور جانکاہ تھا کہ فوری طور پر قلم اٹھانے اور ان کی منفرد شخصیت پر اظہار خیال کی جرات نہ ہو سکی۔ وہ میرے فرسٹ کزن تھے اور میرے حقیقی ماموں مولانا جعفر قاسمی مرحوم کے صاحبزادے تھے۔ یوں تو میرا ان کا تعلق 1965ء سے چلا آ رہا تھا جب وہ اپنے والد مرحوم کے ہمراہ دو سال کی عمر میں انگلستان سے چنیوٹ آ گئے تھے تاہم مولانا جعفر قاسمی اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں لاہور اور فیصل آباد میں بھی قیام پذیر رہے اور مدثر قاسمی بھی اپنی تعلیم کے سلسلے میں ادبستانِ صوفیہ لاہور کے بعد گورنمنٹ ایف سی کالج سے وابستہ رہے انہوں نے اپنے والد محترم کی خواہش اور اجازت سے اپنی مائیگریشن ایف سی کالج سے گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ میں کروائی جہاں انہیں پروفیسر خوشی محمد اور دیگر اساتذہ سے کسب فیض کا موقع ملا اور ایم اے عربی کے لئے یونیورسٹی اورینٹل کالج میں داخلہ لیا وہ اورینٹل کالج کے تمام شعبہ جات میں ہر دلعزیز تھے۔ گورنمنٹ ایف سی کالج اور یونیورسٹی اورینٹل کالج میں زمانہ طالب علمی کے دوران انہوں نے پی ٹی وی کے ڈراموں میں حصہ لینا شروع کیا اور بہت سے ڈراموں میں یادگار رول ادا کئے۔ ”اندھیرا اجالا“ اور ”علی بابا چالیس چور“ کے مختلف کرداروں میں انتہائی مقبولیت حاصل کی۔

1991ء میں جب ان کے والد محترم مولانا جعفر قاسمی کا اچانک انتقال ہوا تو وہ تصوف کے سلسلہ الشاذلیہ سے وابستہ ہو گئے۔ سیدی ابوبکر سراج الدین (مارئن لنگز) نے مولانا جعفر قاسمی مرحوم کو سلسلہ الشاذلیہ کا مقدم مقرر کیا تھا۔ مدثر قاسمی بھی تصوف کی منازل کو عبور کرتے چلے گئے۔

عربی کے استاد مقرر ہونے کے بعد ایک طویل عرصہ وہ گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج چناب نگر اور بعدازاں گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے اور کچھ عرصہ قبل جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کی کوشش سے ان کا تقرر گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں ہو گیا ان کی ایک رہائش لاہور میں تھی اور آبائی رہائش چنیوٹ میں تھی۔

اگرچہ مدثر قاسمی ذرا کم آمیز تھے اور ہر شخص کی رسائی ان تک نہیں ہوتی تھی لیکن وہ جب بھی ملتے بڑے تپاک اور خندہ پیشانی سے ملتے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ مدثر قاسمی سے میرا کیا تعلق تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے مجھے ان سے بہت پیار تھا۔ میں اکثر ان کی تلاش میں رہتا اور ایک طویل عرصہ ہم آواری ہوٹل میں بھی ملا کرتے تھے جو ان کا مستقل ٹھکانہ ہوا کرتا تھا۔ لاہور میں آخری دفعہ میں ان کے ہمراہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی گیا تھا اور اس سفر میں ان کے صاحبزادے محمد احمد مدثر قاسمی بھی میرے ہمراہ تھے۔ چنیوٹ میں ان سے ملاقات ماموں غلام سرور کی رسم چہلم میں ہوئی جس میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ کچھ پریشانیوں کا شکار ہیں اور مجھ سے مل نہیں سکے۔ میں نے انہیں دعا دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام پریشانیوں کو دور کرنے والے ہیں۔ 

ایک دفعہ وہ مجھے اپنے گھر واپڈا ٹاؤن بھی لے گئے اور لاہور میں مولانا جعفر قاسمی کی برسی کی تقریب میں انہوں نے جناب مجیب الرحمن شامی اور دیگر مہمانوں کے علاوہ مجھے بھی مدعو کیا تھا۔ مدثر قاسمی نے مجھے مولانا جعفر قاسمی میموریل سوسائٹی کی مجلسِ معززین میں بھی شامل کیا تھا۔

اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مدثر قاسمی نے مجھے اچانک چھوڑ کر چلے جانا ہے تو میں ہمیشہ ان سے ملاقات کا اہتمام کرتا، وہ اپنے انتقال کے بعد مجھے بہت یاد آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور دین کی ہر نعمت عطا کر رکھی تھی۔ وہ ایک بہت بڑے انسان بھی تھے۔ ان کی ملاقاتیں پاکستان کی انتہائی اہم شخصیات سے ہوتی تھیں وہ اپنے ضلع اور ڈویژن کی سطح پر اعلیٰ انتظامی افسران سے اچھے مراسم رکھتے تھے اور اپنے والد کے انتقال کے بعد انہوں نے عمر حیات محل والی سٹریٹ کو جعفر قاسمی سٹریٹ کا درجہ دلوایا جس کے لئے کمشر تسنیم نورانی کی گہری توجہ اور شفقت انہیں حاصل ہوئی۔ وہ اپنے بزرگوں میں سب سے زیادہ تعلق جناب مجیب الرحمن شامی صاحب سے رکھتے تھے اورانہیں جناب شامی صاحب کی شفقت حاصل تھی جو تادم حیات اور بعداز وفات بھی برقرار ہے۔

میں جناب مدثر قاسمی کو اپنی دعاؤں میں تلاش کرتا ہں اور ان کی بلندی ء درجات کی ہمہ وقت دعا کرتا ہوں۔

میں نے مدثر قاسمی جتنا نفیس اور پیارا انسان آج تک نہیں دیکھا۔ میں اپنی ذاتی زندگی میں ان کی شدید کمی محسوس کرتا ہوں۔ بقول ناصر کاظمی

عجیب مانوس اجنبی تھا

مجھے تو حیران کر گیا وہ

مزید :

ایڈیشن 1 -