ملک بھر کے تمام ادارے ہمارے لئے قابل احترام ہیں،تحریک تحفظ کوہاٹ 

ملک بھر کے تمام ادارے ہمارے لئے قابل احترام ہیں،تحریک تحفظ کوہاٹ 

  

 کوھاٹ (بیورو رپورٹ) تحریک تحفظ کوھاٹ کے سرپرست حیدر وکیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک بھر کے تمام ادارے ہمارے لیے قابل احترام ہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کسی تنظیم سے ہمارا تعلق نہیں ہماری پرامن جدوجہد کوھاٹ کے حقوق کے لیے ہے محکمہ پولیس اور عدلیہ کی قدر کرتے ہیں کوھاٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کے دی اے ہسپتال میں مشینری اور سہولیات کی عدم فراہمی کے سبب ریفر ٹو پشاور سے نجات حاصل کرنا ہے کیوں کہ کے ڈی اے ایک ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ رکھتا ہے اور کرک‘ اورکزئی‘ کرم‘ ھنگو کے علاوہ کوھاٹ کے افغان مہاجرین کے لیے واحد ہسپتال ہے جسے کیٹیگری اے کا درجہ تو دیا جا چکا ہے مگر سہولیات نہیں اور غریب عوام کو پشاور بھیجنا پڑتا ہے جو سراسر ظلم و زیادتی ہے اس مسلے کے حل کے لیے ہم میدان میں آئے ہیں اس موقع پر تحریک تحفظ حقوق کے آرگنائزر اعظم چاچا‘ ضلعی صدر خالد حنیف‘ ضلعی جنرل سیکرٹری زاہد شفیع درانی‘ ضلعی نائب صدر محمد ذی شان‘ اقلیتی ونگ کے محمود گل اور سربراہ سعید اختر پراچہ بھی موجود تھے حیدر وکیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے یہ مسئلہ ڈپٹی کمشنر کوھاٹ کے سامنے رکھا تو انہوں نے متعلقہ افسران محکمہ صحت کو طلب کر کے ان کی رائے لی جس میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہسپتال نے سہولیات کی عدم موجودی کا موقف تسلیم کر لیا بعد ازاں کوھاٹ کے مشیر صوبائی سے رابطہ کیا جنہوں نے صوبائی وزیر صحت سے بات کی تو معلوم ہوا کہ خیبر پختونخوا نے اس کے لیے 5 کروڑ کی منظوری دے دی ہے ایک ماہ میں مشینری اور سہولیات فراہم کر دی جائیں گی مگر تاحال اس پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی انہوں نے کہا کہ ہمارے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران نے اس حوالے سے کوئی آواز نہ اٹھائی بلکہ ضمیر فروشی کا مطالبہ کیا گیا تب ہم نے ان نمائندوں کی تابوت ریلی نکالی جس پر ہمیں دبانے کی کوششیں کی گئیں ہم پر مقدمے قائم کیے گئے مگر ہم اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے والی نہیں اپنے حق کے حصول کے لیے کوئی سمجھوتہ کرنے کے روادار نہیں بلکہ ان حقوق ہر قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کے ہرگز خلاف نہیں ان کی قربانیاں قابل تحسین ہیں البتہ ہم منظور پشتین نہیں اور نہ ان سے کوئی تعلق ہے کوھاٹ کے حقوق کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -