شہبا ز شریف کا ایک وکیل مصروف، دوسرا بیمار، عبوری ضمانت میں 21ستمبر تک توسیع 

شہبا ز شریف کا ایک وکیل مصروف، دوسرا بیمار، عبوری ضمانت میں 21ستمبر تک توسیع 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس سرداراحمدنعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پرمشتمل ڈویژن بنچ نے میاں شہباز شریف کی منی لانڈنگ کیس کی عبوری ضمانت میں 21ستمبر تک توسیع کردی، دوران سماعت میاں شہباز شریف کے وکلاء کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا پر فاضل بنچ نے قراردیا کہ پہلے بھی متعدد بار التوا کی درخواست منظور کر چکے ہیں،زیادہ لمبی تاریخ نہیں دے سکتے۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو بنچ کے روبروقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف پیش ہوئے اور کہا کہ گزشتہ بار جب نیب میں پیش ہوا تو انہوں نے مجھے کہا کہ تفتیش مکمل ہو گئی ہے، میں خود پاکستان آیا ہوں، میں اپوزیشن کا لیڈر ہوں، نیب حکام کوابھی مجھ سے جوپوچھنا ہے پوچھ لیں، میں کینسر کا مریض ہوں، مجھے علاج کیلئے بیرون ملک جانا پڑتا ہے۔میاں شہباز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ اور لاہورہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدرطاہر نصر اللہ وڑائچ کی جانب سے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی،اعظم نذیر تارڑ کے ایسوسی ایٹ نے عدالت کوبتایا کہ اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ اسلام آباد میں مصروف ہیں جبکہ طاہرنصراللہ وڑائچ بیماری کے باعث پیش نہیں ہو سکتے، آئندہ ہفتے اسمبلی سیشن ہے، ضمانت میں 3 ہفتوں کی توسیع کی جائے، جس پر مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ عدالت نے ایک ہفتے تک کی تاریخ مقرر کر دی ہے، لمبی تاریخ نہیں دے سکتے۔میاں شہباز شریف کی جانب سے عبوری درخواست ضمانت میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ 1972ء میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور ایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا۔ سماج کی بھلائی کے لئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا، نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔ نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔ 2018ء میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اس دوران بھی نیب کیساتھ بھر پور تعاون کیا تھا۔ 2018ء میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا۔ تواتر سے تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں۔ نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔عدالت سے استدعاہے کہ نیب کے پاس زیر التوا انکوائری میں گرفتار کئے جانے کا خدشہ ہے، عبوری ضمانت منظور کی جائے۔ہائی کورٹ میں میاں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔بعد ازں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میاں نواز شریف علاج کروا کر واپس آئیں۔ عدلیہ بحالی کے لئے ہم نے تحریک بھی چلائی اور اس کے تقدس کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

شہباز ضمانت

مزید :

صفحہ آخر -