اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ شرعی طور پر باطل اور حرام: سراج الحق 

    اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ شرعی طور پر باطل اور حرام: ...

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بحرین و متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاہدہ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہاہے کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے اور مسلمانوں کے ملک پر قبضہ کر کے بنائی گئی ہے۔  اسرائیل پچھلے 71 سال سے مسلمانوں کے قبلہ او ل پر قابض ہے اور فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کر رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کے جید علمائے کرام کے بین الاقوامی اتحاد ”الاتحاد العالمی ا لعلماء المسلمین“کے 8 اگست 2020 ء کے جاری کردہ فتویٰ کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ شرعی طور پر باطل اور حرام ہے، اس لیے ہم بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدے کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ؐ کے ساتھ خیانت اور سرزمین فلسطین کے ساتھ غداری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم اپنے فلسطینی بھائیوں اور ان کی جدوجہد کا ساتھ دیتی رہے گی اور جب تک بیت المقدس آزاد نہیں ہو جاتا، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ دوسری طرف سینیٹر سراج الحق سے قصور میں درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب شہید کے والد محمد امین انصاری نے ملاقات۔ ملاقات میں ملک میں بچوں بچیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محمد امین انصاری نے کہاکہ حکومت نے عوامی دباؤ پر زینب الرٹ بل پاس تو کرلیا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا اور نہ ہی زیادتی کے واقعات پر تھانوں میں اس بل کے مطابق مقدمات کا اندراج ہورہاہے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی اس کے خلاف عوامی سطح پر اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھر پور آواز اٹھائے گی۔ معصوم پھولوں اور کلیوں کو درندوں سے بچانے اور جنسی درندوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے زینب الرٹ بل پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجرموں کے ساتھ ہمدردی کرنے والے در اصل ان کی سرپرستی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان گھناؤنے جرائم میں اضافہ ہورہاہے اور آئے روز کسی بچے بچی یا بہن بیٹی کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کسی آئین اور قانون کو نہیں مانتی اور اپنی مرضی کر رہی ہے۔ 

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -