کرکٹ اسٹرکچر درست کر لیا تو پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا: وزیراعظم 

کرکٹ اسٹرکچر درست کر لیا تو پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا: وزیراعظم 

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کرکٹ کے اسٹرکچر کو اگر ہم ٹھیک کرلیں تو پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، جب بھی اصلاحات کی جاتی ہے اس میں تھوڑی مشکلات آتی ہیں، پاکستان ٹیلی ویژن اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان معاہدہ خوش آئند ہے، پی ٹی وی نجی چینلز کیساتھ مقابلہ کرے گا تو لوگ فیس دینا چاہیں گے، پی ٹی وی بہتر ہوگا، تو فیس بھی بڑھا دیں گے۔پی ٹی وی اور پی سی بی میں ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا پاکستان میں کرکٹ کا جو ٹیلنٹ دیکھا دنیا میں کہیں نہیں دیکھا، سسٹم کی وجہ سے ٹیلنٹ اوپر نہیں آتا، آسٹریلیا کا کرکٹ سسٹم سب سے بہتر ہے، پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ٹھیک کرنے کیلئے سسٹم ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں کرکٹ انتظامیہ میں من پسند افراد کو جگہ دی گئی، بھارت میں پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھے جاتے تھے، وقت کیساتھ سیکھنے وا لے ہی ترقی کرتے ہیں، وقت کیساتھ تبدیلی ضروری، جو رک جاتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے، اداروں میں سفارش پر لوگوں کو بھرتی کرنا نظام کو کمزور کر دیتا ہے، آسٹریلیا کی ٹیم میں میر ٹ ہے اسلئے وہ دنیا پر راج کر رہے ہیں، میرا خواب ہے آئندہ ورلڈکپ میں پاکستان کا ٹیلنٹ نظر آئے۔

عمران خان

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی پھٹ پڑے۔وزیر اعظم سے ایک بار پھرترقیاتی  فنڈ ز جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ہر بار لالی پوپ دیا جاتا ہے،آج تک جو بھی وعدے کئے گئے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ذرائع نے بتایا بدھ کے روز ہونیوالے پارلیمانی اجلاس میں وز یر اعظم عمران خان نے حکومت کو درپیش چیلنجز،ان سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی اور باالخصوص معاشی و اقتصادی اشاریوں پر ارکان کو اعتماد میں لیا۔وزیر اعظم نے فیٹف معاملے پر اپوز یشن کے رویے پر سخت برہم نظر آئے اور کہا کہ اپوزیشن پاکستان نہیں اپنے مفاد کا سوچ رہی ہے۔ہم کسی صورت ان سے بلیک میل ہوں گے اور نہ ہی ان کو این آر او دیں گے۔ انہو ں نے ارکان اسمبلی کوکہا اجلاس کی اہمیت کو سمجھیں ہم نے پاکستان کیلئے فیٹف بلز کوہر صورت منظور کرانا ہے،تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ذرائع کے مطا بق اس موقع پر ارکان پارلیمنٹ اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام نہ ہونے، مہنگائی،گیس اور بجلی معاملے پر پھٹ پڑے اور کہا ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے حلقے میں جانے کے قابل نہیں،لوگ ہم سے نیا پاکستان کا سوال کرتے ہیں،مہنگائی نے غریب عوام کوجکڑ کر رکھ دیا ہے۔الیکشن میں جتنے بھی وعدے کئے تھے ایک بھی پورا نہیں ہو رہا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے فوری ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ترقیاتی کام ہوں گے تو حلقے میں سرا ٹھا کر جائیں گے۔ایوان میں جب ہماری ضرورت پڑتی ہے تو وزراء آگے پیچھے گھومنا شروع کر دیتے ہیں انہی دنوں میں وزیر اعظم سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے اور جب ہم مسائل کے حل کیلئے بات کرتے ہیں تو کسی کے پاس ٹائم نہیں ہوتا،ہمیں ہر بار لالی پوپ دیا جاتاہے۔وزراء ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔مسائل بڑھتے جارہے ہیں، بجٹ پاس کرانے کیلئے آپ نے بہت سے وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے ایک بار اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا ارکان اسمبلی کو عوامی مسائل سے بخوبی آگاہ ہوں،یہ مسائل آپ کے نہیں بلکہ میرے ذاتی مسائل ہیں۔عوام کی خدمت کیلئے اقتدار میں آیاہوں،کوئی دن ایسا نہیں کہ غریب عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کام نہ کیا ہو۔کورونا وباء کی وجہ سے ملک کو معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،اب ہم خوشحالی کی جا نب بڑھ رہے ہیں۔پورے ملک میں یکساں ترقیاتی کام کروائے جائیں گے تا کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ہو،بہت جلد تمام اراکین سے ملاقات کروں گا اور ان کے حلقوں کے مسائل کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائیگا۔بعدازاں اپنی زیر صدارت پاور سیکٹر سے متعلقہ اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہاہے کہ ماضی میں پاور سیکٹر کے حوالے سے کیے جانیوالے فیصلوں، بد انتظامی، کرپشن وغیرہ کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ آئی پی پیز سے طے پانیوالے معاملات کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا گردشی قرضوں میں کمی سے عوام کو براہ راست فائدہ میسر آئیگا، حکومت سبسڈی کے نظام کو شفاف و منصفانہ بنا نے  سے متعلق ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے، شعبہ توانائی میں بھی دی جانیوالے سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کو جلد حتمی شکل دی جائے۔اجلاس میں پاور سیکٹر سے متعلقہ گردشی قرضوں، پاور سیکٹر اصلاحات اور آئی پی پیز کیساتھ طے پانیوالے معاملات کو آگے بڑھانے سے متعلق روڈ میپ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔اجلاس میں بجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا شعبہ توانائی کے حوالے سے اصلاحاتی عمل حکومت کی اولین ترجیح ہے لہٰذا اس حوالے سے پیش رفت کا ہفتہ وار اجلاس منعقد کیا جائیگا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پاور سیکٹر سے متعلقہ معاملات پر عوام کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔

وزیراعظم

مزید :

صفحہ اول -