حکومت فیٹف کی آڑ میں کالے  قوانین بنا رہی ہے، شاہد خاقان

       حکومت فیٹف کی آڑ میں کالے  قوانین بنا رہی ہے، شاہد خاقان

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایف اے ٹی ایف بل کے حوالے سے حکومت پر برس پڑے اور کہاہے کہ موجودہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں کالے قوانین بنا رہی ہے،حکومت کو مشورہ دیاتھا قانون میں نیب کو نکال دیں،ایسا کالا قانون دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے جو پاکستان میں بنایا جا رہا ہے،گرفتاری کے 24 گھنٹے میں نیب کی جانب سے تحریری وجہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں جو ترامیم ہم نے حکومت کو دی تھیں وہ رد کی گئیں،اب وہی ترامیم بل میں شامل کر کے پاس کروائی جا رہی ہیں، انہوں نے کہاکہ اس قانون میں حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ نیب کو نکال دیں،پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر 180روز کے لیے گرفتار کر کے رکھا جاتا ہے،ایسا کالا قانون دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے جو پاکستان میں بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گرفتاری کے 24 گھنٹے میں نیب کی جانب سے تحریری وجہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ سینٹ سے مسترد شدہ ترامیم بھی مشترکہ اجلاس کا حصہ ہے،حکومتی اراکین نہ صرف عجلت میں بلکہ نااہلی سے کام کر رہے ہیں،انہوں نے ایسے بل بنائے جو پاکستان کے مفاد،شہریوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں کالے قوانین بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب پاکستان کا کرپٹ ترین ادارہ بن چک ہے،اس کو اگر یہ اختیارات دیں گے تو پاکستان کا کوئی شخص بزنس مین اس سے بچ نہیں سکے گا،ہم نے تجویز دی تھی کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جو تفتیش کی جائیگی وہ نیب قانون کے تحت نہ کی جائے،یہ تاثر کہ اس ترمیم سے منتخب اراکین کو فائدہ ہو گا غلط ہے۔۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ جو تحقیقات اینٹی منی لانڈرنگ کے تحت کی جانے والی تفتیش نیب قانون کے تحت نہ کی جائے،یہ تاثر کہ اس ترمیم سے کسی کو فائدہ ہوگا بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ عدالت سے گرفتاری کو بغیر اجازت کے گرفتاری بنانا چاہتے ہیں،ہم نے تجویز کیا کہ پھر گرفتاری کی تحریری وجہ بتانا شامل کیا جائے۔

شاہد خاقان

مزید :

صفحہ اول -