وہوا: واٹر فلٹریشن پلانٹ تین سال سے بند‘ شہریوں پر بیماریوں کا حملہ 

وہوا: واٹر فلٹریشن پلانٹ تین سال سے بند‘ شہریوں پر بیماریوں کا حملہ 

  

 وہوا(نمائندہ پاکستان)صاف پانی کی فراہمی کے لیے چار سال قبل واٹر سپلائی سکیم وہوا کے مقام پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا گیا مگر یہ پلانٹ چند روز بعد ہی بند ہوگیاانتظامیہ کی جانب سے توجہ نہ دیے جانے کے باعث یہ واٹرفلٹریشن پلانٹ تین سال سے بند چلا آرہا ہے جس سے اس کی تنصیب بے مقصد ہوکر رہ گئی ہے اور شہری زیر زمین کڑواکثیف پانی پینے کے باعث پیٹ کی خطرناک بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں کیونکہ وہوا شہر کا زیر زمین کڑواکثیف اور مضر (بقیہ نمبر37صفحہ 10پر)

صحت ہونے کے باعث دس کلومیٹردور مٹھوان کے مقام پر ٹیوب ویل نصب کیے گئے ہیں جس کا پانی شہر وہوا تک پہنچنے اوردور دراز کے محلہ جات تک پانی کی سپلائی میں آٹھ سے دس گھنٹے لگ جاتے ہیں اور کئی کئی روز بعد شہریوں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے جس کے باعث شہری زیر زمین کڑوا کثیف پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں جس کے باعث آئے روز شہریوں میں اسہال، دست، قے، کالایرقان سمیت لاروا جیسی خطرناک بیماریاں پھیلتی رہتی ہیں شہریوں توحید احمد، محمد یونس، محمد طیب خان، رفیع اللہ، حبیب اللہ، محمد لقمان، عبدالجبار، احسان اللہ، محمد عمر، ذوالفقار عزیز، محمدزوہیب، نثار احمد نے ڈپٹی کمشنر، کمشنر ڈیرہ غازی خان، اسسٹنٹ کمشنر تونسہ شریف سے واٹر فلٹریشن پلانٹ کو فوری طور پر چالو کراکے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

حملہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -