چین پائیدار اور مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن

چین پائیدار اور مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن
چین پائیدار اور مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

وبا کے بعد دنیا بھر کی بڑی معیشتیں اب بھی کساد بازاری کا شکار ہیں تاہم چین میں وبا پر قابو پانے اور معمولات زندگی کی بحالی کی وجہ سے بڑے معاشی اشاریوں میں بہتری دکھائی دینے لگی ہے اور ان میں ہر گزرتے وقت کےساتھ مزید بہتری آرہی ہے جو نہ صرف چین بلکہ عالمی معیشت کے لئے بھی اچھی خبر ہے۔ چین کے قومی ادارہ برائے شماریات (این بی ایس) کے مطابق ، جولائی میں چین کی صنعتی پیداوار 4.8 فیصد  اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جو اگست میں 5.6 فیصد ہو گیا ہے۔ ماہانہ کی بنیاد پر ، اگست میں صنعتی پیداوار میں 1.02 فیصد کا اضافہ ہوا ، جو جولائی کے 0.98 فیصد اضافے سے بھی تیز ہے۔

این بی ایس کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی آٹھ مہینوں میں ، صنعتی پیداوار میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 0.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ جنوری سے جولائی کے عرصے میں اس حوالے سے تنزلی کا  سامنا تھا۔سازوسامان کی تیاری اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبوں کی پیداوار میں بالترتیب 10.8 فیصد اور 7.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ، دونوں صنعتی پیداواروں  میں مجموعی طور پر اضافہ ملکی  ترقی کو نمایاں طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ پندرہ تاریخ کو جاری کئے گئے ان   اعدادوشمار میں دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری  نظرآئی ہے۔این بی ایس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اگست میں صارفین کی اشیا کی خوردہ فروخت ، جو کھپت میں اضافے کا ایک اہم اشارہ ہے ،اس میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔

جون میں جاری کی گئی ورلڈ بینک کی عالمی اقتصادی آؤٹ لک کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ عالمی معیشت میں سال 2020 کے دوران 5.2 فیصد کمی واقع ہوگی ، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد بدترین معاشی صورت حال ہے۔ اسی طرح کے دیگر عالمی جائزوں میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ 2022 میں بھی عالمی معیشت وبا سے پہلے والی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

اس تناظر میں ، چین ، جو وبائی امراض کی روک تھام اور کنٹرول اور معاشی بحالی کے معاملے میں دنیا میں سب سے آگے ہے ، بلاشبہ اس سے دنیا کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فیچ نے حال ہی میں چین کی سالانہ جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی کو 1.2 فیصد سے بڑھا کر 2.7 فیصد کردیا ہے۔ ایک اور معروف ریٹنگ کمپنی ، موڈیز نے اس سال کے لئے چین کی معاشی نمو کی پیش گوئی کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.9 فیصد کردیا ۔ موڈیز کے مطابق رواں برس چین کی وہ واحد معیشت ہوگی جو مثبت نمو کرے گی۔

چین کے معاشی اعداد و شمار میں بہتری آرہی ہے ، جو اعلی سطح کے کھلےپن کو مسلسل فروغ دینے سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔ چین میں کینٹن فیئر اورخدمات کی تجارت کے بین الاقوامی میلے کے کامیاب انعقاد اور چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی تیاریوں نے دنیا کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔ چین کے امور کے حوالے سے مشہور جرمن ماہر فرینک زایرن نے حال ہی میں ایک مضمون شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی پیداواری مارکیٹ اورصارف مارکیٹ کے طور پر ، آئندہ چند سالوں میں عالمی سطح پر سپلائی چین کی مضبوطی میں چین کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جائے گی۔عالمی منڈی میں موجود شدید دباؤ کے باوجود چینی معیشت کی مستحکم بحالی پوری دنیا کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔

حالیہ جائزوں میں وہ افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں جن میں کہا جا رہا تھا کہ چین سے غیر ملکی سرمایے کا انخلا تیز ہو چکا ہے۔ین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے ترجمان منگ وئی نے 16 تاریخ کو دو بڑے غیر ملکی چیمبرآف کامرس کی تازہ ترین اطلاعات کے حوالے سے کہا ہے کہ چین میں سرمایہ کاری اور کام کرنے کے حوالے سے غیر ملکی کمپنیوں کے اعتماد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

منگ وئی نے اسی دن منعقدہ ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 9 ستمبر کو شنگھائی میں امریکی چیمبر آف کامرس نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کمپنیاں چینی مارکیٹ کے بارے میں پرامید ہیں۔ سروے شدہ کمپنیوں میں سے 78.6 فیصد نے کہا کہ وہ چین سے اپنی سرمایہ کاری منتقل نہیں کریں گے۔ دس ستمبر کو چین میں یوروپی یونین چیمبر آف کامرس نے ایک رپورٹ جاری کی ۔ اس رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ چین میں یورپی یونین کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری عام طور پر مستحکم ہے ، اس سروے میں شریک کمپنیوں میں سے صرف 11فیصد کمپنیوں نے اپنے سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تبدیل کرنے پر غور کیا ہے ، جو 10 سالوں میں سب سے کم سطح کے قریب ہے۔اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل عرصے سے چین میں سرمایہ کاری اور کام کرنے کے حوالے سے غیر ملکی کمپنیوں کے اعتماد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

نوول کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ، رواں سال عالمی سرحد پار براہ راست سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ چین نے وبائی امراض کی روک تھام اور کنٹرول اور معاشی و معاشرتی ترقی کو فروغ دینے کے لئے کوششوں کو مربوط کیا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد آہستہ آہستہ مستحکم ہوا ہے۔ وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق ، جنوری سے اگست تک ، چین میں غیر ملکی سرمائے کا اصل استعمال 619.78 بلین یوآن تھا ، جس میں پچھلے سال کے اسی مدت کے مقابلے میں 2.6 فیصد کا اضافہ ہواہے ۔ اگست میں ، چین میں غیر ملکی سرمائے کا اصل استعمال 84.13 بلین یوآن تھا ، جس میں 18.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -