رانا نوید الحسن کو انگلش کاﺅنٹی میں کس طرح نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا تھا؟ سابق فاسٹ باﺅلر نے تمام تفصیلات بھی بتا دیں

رانا نوید الحسن کو انگلش کاﺅنٹی میں کس طرح نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ...
رانا نوید الحسن کو انگلش کاﺅنٹی میں کس طرح نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا تھا؟ سابق فاسٹ باﺅلر نے تمام تفصیلات بھی بتا دیں
کیپشن:    سورس:   Creative commons licenses

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راﺅنڈر رانا نوید الحسن نے انگلش کاﺅنٹی کرکٹ میں نسلی تعصب کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف کیا تھا اور اب انہوں نے مزید تفصیلات بھی بتا دی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق چند روز قبل پاکستانی نژاد سپنر عظیم رفیق نے الزام عائد کیا تھا کہ یارکشائر کاﺅنٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ساتھی کھلاڑیوں اور آفیشلز کے امتیازی سلوک سے تنگ آ کر وہ خودکشی کا سوچنے لگے تھے جس پر گزشتہ روز غیر ملکی ویب سائٹ کو دئیے گئے انٹرویو میں سابق پاکستانی آل راﺅنڈر رانا نوید الحسن نے کہاکہ میں عظیم رفیق کی بھرپور حمایت کرتا ہوں، مجھے بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا رہا تھا، اگرچہ میں نے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی کیونکہ ایک غیر ملکی ہونے کی وجہ سے ہمارا وہاں قیام عارضی ہوتا تھا، لہٰذا کسی نہ کسی طور برداشت کرتے رہتے،میں صرف اپنی کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھتا تاکہ کاﺅنٹی کے ساتھ کنٹریکٹ متاثر نہ ہو۔

انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایشیائی کرکٹرز انگلش کاﺅنٹی میں پرفارم کریں تو بھرپور سپورٹ ملتی ہے لیکن دوسری صورت میں تماشائی آوازیں کسنا شروع ہوجاتے او ر تمسخر اڑایا جاتا ہے جبکہ نسلی تعصب پر بھی الفاظ سننے کو ملتے، کبھی مینجمنٹ کی جانب سے بھی امتیازی سلوک کیا جاتا اور ہوٹل میں دیگر کھلاڑیوں کی بانسبت چھوٹے کمرے دئیے جاتے۔

سسیکس اور ڈربی شائر کی جانب سے بھی کھیلنے والے سابق آل راﺅنڈر نے کہا کہ تلخ تجربات صرف یارکشائر کی نمائندگی کرتے ہوئے پیش آئے، عظیم رفیق مجھ سے بھی اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا ذکر کرتے رہے لکین ان کو اس وقت یہی مشورہ دیتا تھا کہ مضبوط رہو اور سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھو، سپنر کو کاﺅنٹی کی جانب سے بڑے نامناسب انداز میں فارغ کیا گیا۔

مزید :

کھیل -