تعلیم کی غرض سے یونیورسٹی جانیوالا نوجوان لاپتہ، والد نے بھوک ہڑتال شروع کردی

تعلیم کی غرض سے یونیورسٹی جانیوالا نوجوان لاپتہ، والد نے بھوک ہڑتال شروع ...
تعلیم کی غرض سے یونیورسٹی جانیوالا نوجوان لاپتہ، والد نے بھوک ہڑتال شروع کردی

  

عمرکوٹ(سید ریحان شبیر) غریب بوڑھے کا بیٹا اعلیٰ تعلیم کےحصول کےلیےیونیورسٹی پڑھنے گیا پھر واپس نہیں آیا غریب محنت کش اپنے جوان بیٹے کی تلاش کے لیے دربدر کافی وقت سے پریس کلب عمرکوٹ کے سامنے بھوک  ہڑتالی کیمپ لگا لیا حکومت اور دیگر ادارے  میری مددکریں بوڑھے جلال کی فریاد ۔

تفصیلات کے مطابق عمرکوٹ کا"65"سالہ بوڑھا جلال میگھو اڑ گذشتہ  کافی وقت   سے مسلسل علامتی بھوک ہڑتال پر ہے گذشتہ سات  سال قبل گم ہوئے اپنےبیٹے  موھن کی بازیابی کے لیے پریس کلب عمرکوٹ کے باہر بھوک ہڑتال پر بیٹھے بوڑھےجلال میگھواڑ  کا بیٹا عمرکوٹ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مہران یونیورسٹی حیدرآباد گیا اور 2013۔7۔24حیدر آبادسے اچانک گم ہو گیا تھا۔ گزشتہ سات سال سے موھن میگھواڑ کا کوئی پتہ نہیں چلا تو جلال میگھواڑ نے پر یس کلب کے سامنے اپنا بھوک ہڑتالی کیمپ لگالیا۔

بوڑھے غریب جلال میگھواڑ نے ڈیلی پاکستان آن لائن کو بتایا ’’میں نے اپنے لخت جگر موھن کو اچھے مستقبل کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مہران یونیورسٹی بھیجا تھا کہ میرا بچہ پڑھ لکھ کر ہمارا سہارا بنے گا مگر گزشتہ سات سال سے اس کا کوئی اتاپتا نہیں میں ایک غریب محنت کش ہوں ،بیٹے کے سوا میرا کوئی سہارا بھی نہیں۔‘‘

جلال میگھواڑ نے انتہائی دکھی اورافسوس زدہ لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی حکومتی یا دیگر ادارے میری داد رسی کرنے کے لیے تیار نہیں میرابیٹاموھن اس بوڑھاپے واحد سہاراہےمعلوم نہیں میرالخت جگر    کہاں اورکس حال میں ہےجلال میگھواڑ نےکہاکہ موھن کی  بوڑھی والدہ اور بہنیں موھن کی راہ تکتی ہےمیں  میڈیا کے توسط سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ،اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم سے اپیل کرتا ہو ں کہ میرے بچے کو مجھ سے ملوادو۔

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -