ساجد گوند ل کی بازیابی کا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ ، شہزاد اکبر آئندہ سماعت پر طلب

ساجد گوند ل کی بازیابی کا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ ، ...
ساجد گوند ل کی بازیابی کا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ ، شہزاد اکبر آئندہ سماعت پر طلب

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے ایس ای سی پی کے افسر ساجد گوندل کے حوالے دائر درخواست پر شہزاد اکبر، چیف کمشنر، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ساجد گوندل کی بازیابی کا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے کہ انہوں نے فوری ایکشن لیا۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں ایس ای سی پی کے افسر ساجد گوندل کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ساجد گوندل کی طرف سے کوئی نہیں آیا؟،پتہ چلا کہ اس کو کس نے اغوا کیا تھا؟پولیس حکام نے کہاکہ ساجد گوندل کو بازیاب کرا لیا گیا ہے،ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ ان کو کس نے اغوا کیا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا اب آپ کو کیا احکامات ہیں ؟۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت کے احکامات کے مطابق وفاقی کابینہ کو آگاہ کیاگیا ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس کا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے کہ انہوں نے فوری ایکشن لیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے رئیل سٹیٹ بزنس کے حوالے بھی کابینہ کوآگاہ کیا؟،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ ہم نے اس حوالے سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا دکھائیں کابینہ نے اس حوالے سے کیا احکامات جاری کئے ہیں ۔

پولیس کی جانب سے ایس پی رورل عدالت میں پیش کئے گئے ،عدالت نے کہاکہ آپ کیا کررہے ہیں؟ لوگوں کیساتھ مساویانہ سلوک نہیں ہو رہا ، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ آئی جی کہاں ہیں ؟ کیا انہیں آنا نہیں چاہئے تھا؟ یہی تو مسئلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ پبلک سرونٹ صرف ایلیٹ کی سروس کررہے ہیں ،عام آدمی کی نہیں ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہورہی ہیں، رول آف لا کہیں نظر نہیں آ رہے، پراسیکیوشن برانچ ہی موجود نہیں ، سیکرٹری داخلہ نے عدالت آنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔

وزارت داخلہ سے ڈپٹی سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا آپ یہاں کیوں آئے ہیں، آپ کیا کہنے آئے ہیں ، ڈپٹی سیکرٹری نے کہاکہ ہم نے عدالت کے احکامات کے مطابق کابینہ کو آگاہ کیا، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ عدالت کے آرڈر کو بھول جائیں ،کیا عدالت کے حکم پر آپ نے کام کرنا ہے؟۔

عدالت نے کہا ایس پی صاحب آپ کو معلوم ہے کہ یہاں ایف سیکٹرز میں ڈاکے پڑ رہے ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ لگتا ہے وزیراعظم کو صحیح طریقے سے آگاہ نہیں رکھاجاتا ،14 سو سکوائر میل کے علاقے میں لاقانونیت ہے، شہزاد اکبر اس عدالت کی معاونت کریں کہ وزیراعظم کو کیسے آگاہ رکھاجاتا ہے ، یہ عدالت ایک بھی شہری کے بنیادی حقوق کیخلاف اقدام برداشت نہیں کرے گی ۔

عدالت نے کہاکہ آئی جی نے جو رپورٹ جمع کرائی وہ شاکنگ ہے ، کم ازکم پولیس نے سچ بولا ، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ شہزاد اکبر، چیف کمشنر، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ اگلی سماعت پر پیش ہوں ، منتخب و غیر منتخب، تمام حکومتیں عام شہریوں کو درپیش مسائل کی ذمہ دار ہیں ، عدالت نے کیس کی سماعت پیر 2 بجے تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -