ججز ذاتی پسند و نا پسند سے بالا تر ہونے چاہئیں:شہباز شریف

ججز ذاتی پسند و نا پسند سے بالا تر ہونے چاہئیں:شہباز شریف
ججز ذاتی پسند و نا پسند سے بالا تر ہونے چاہئیں:شہباز شریف

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا ہے کہ ججز کے انتخاب کے معیا ر، قابلیت، ایمانداری کا بینچ مارک ہونا چاہیے، ججز ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہونے چاہئیں۔ ججز نے ہی ڈکٹیٹرز کو آئین میں ترامیم کرنے اختیار دیا جنہوں نے آئین کا حلیہ ہی بگاڑدیا۔ 

پاکستان بار کونسل کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ماضی میں بہت سے ایسے منصف گزرے ہیں جنہوں نے اچھا کام نہیں کیا۔ مولوی تمیز الدین کیس میں ایک جج نے کس طرح کا نوٹ لکھا یہ سب کے سا منے ہے۔ جسٹس منیر نے پہلی مرتبہ نظریہ ضرورت کو متعارف کیا۔ وہ جج بھی سب کویاد ہونگے جنہوں نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ میں نے بھٹو صاحب کا فیصلہ دباو میں آکرکیا تھا۔ اپنے خطاب میں شہباز شریف نے بلندکردار کے حامل ججوں کی تعریف کی اور کہا کہ نظریہ ضرورت پر چلنے والوں کے برعکس جسٹس کیانی جیسے عظیم لوگ آج بھی ہمیں یاد ہیں۔ان کا عظیم کردار تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ جسٹس شفیع الرحمان کے جوان بیٹے کا انتقال ہوا تو وہ جنازہ پڑھنے کے فوری بعد عدالت میں آگئے تاکہ کام کا حرج نہ ہو۔قاضی فائز عیسٰی کا نام نہ لوں تو زیادتی ہوگی لیکن دوسری جانب جسٹس ارشد ملک جیسی کالی بھیڑوں کی وجہ سے عدلیہ کو سخت نقصان پہنچ رہاہے۔ شہباز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس سے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ احتساب، شہری آزادیوں پر بات کرنے کے حق کے حوالے سے آج جو ایجنڈہ ایٹم ہیں ا س سے زیادہ کوئی بات اہم نہیں۔

 انہوں نے بلاول بھٹو کی تقریر کی تعریف کی اور کہا کہ بلاول بھٹو نے جو باتیں کی ہیں ان میں کوئی دو رائے نہیں۔ بلاول بھٹو کے خاندان نے یقینا جمہوریت کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ انتہا ہوتی ہے۔ پوری قوم اس کی معترف ہے کہ جمہوریت میں ان کے خاندان کا خون شامل ہے۔ بلوچستان، کے پی کے، پنجاب میں مختلف مواقع پرجمہوریت کے لیے پشتونوں اور پنجاب کے بھائیوں نے گرانقدر قربانیاں دی ہیں جس کاتاریخ میں ہمیشہ ذکر رہے گا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ گزشتہ تہتربرسوں میں سیاست اور جمہوریت میں بہت زیادہ اونچ نیچ دیکھنے میں آئی ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے عدلیہ کی کمزور ی اوراس کی ساکھ خراب کرنے کا ذمہ دار ڈکٹیٹرز کو قراردیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوا رمیں ڈکٹیٹرز نے آئین میں اپنی مرضی کی ترامیم کرواکے عدلیہ کو بہت زیادہ کمزور کیا اور پھر اس عدلیہ کے دفاع اور اس کی مضبوطی کے لیے جو کام ہم سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کو کرنا چاہیے تھا وہ اس طرح نہ ہوسکا۔ پھر یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایسے ججز بھی دیکھے جنہوں نے ڈکٹیٹز ز کو جو انہوں نے مانگا بھی نہیں تھا، اس سے بھی زیادہ کا انہیں اختیار دے دیا۔ یہ وہ دلخراش واقعات ہیں جو ہماری تاریخ پر سیاہ دھبہ ہیں لیکن ماضی پر رونے دھونے کاکوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں اس سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ میں نے عظیم ججز کا نام لیا اور ان ججز کابھی جنہوں نے بعد میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا۔ جسٹس منیر نے بھی اعتراف کیا کہ نظریہ ضرورت میری فاش غلطی تھی۔ 

شہباز شریف نے مزید کہا کہ ماضی کی فاش غلطیوں اور ان کے اعترافات سے آج سبق سیکھنا ہوگا۔ سبق نہ سیکھا او ر آئین پاکستان کی توقیر نہ کی تو حالات خراب ہوجائیں گے۔ اس آئین نے پورے پاکستان کو جوڑ رکھا ہے چاہے وہ سندھی، بلتی، کشمیری، سرائیکی، پنجابی،بلوچی، پٹھان ہو۔سیاسی پارٹیوں نے بہت اچھے کام کیے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہمیں کھلے دل سے اس کا عتراف کرنا چاہے۔ آخرہم کب تک اس ملک میں تماشا دیکھتے رہیں گے۔ 

شہباز شریف نے مزید کہا کہ میڈیا پر آج جو بندش ہے اس کی نظیر اس سے قبل نہیں ملتی۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹراناک میڈیاکے مالکان، اینکرپرسن اور صحافیوں نے ماریں کھاکر، قربانیاں دے کر اپنے لیے آزادی حاصل کی تھی۔ایک بڑے اخبار کا مالک جیل میں ہے۔ اس سے زیادتی ہورہی ہے۔ کئی اورصحافی گرفتار ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ کسی معاشرے کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں لیکن ہم انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں ٹھونس رہے ہیں۔ پچھلے دواڑھائی سال میں سیاسی جماعتوں اور ان کے زعما کے خلاف جو مہم چلائی گئی اس سے ماحول اور زیادہ گردآلودہ ہوگیا ہے۔ آج حالات نے پھر نیگٹیو ٹرن لے لیاہے۔کالے کوٹ والوں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں تاکہ پاکستان صحیح معنوں میں قائداعظم اورعلامہ اقبال کا پاکستان بن جائے اور انصاف لوگوں کی دہلیز پرمہیاکیاجاسکے۔اسی مقصد کے لیے ہی نواز شریف ماڈل ٹاو¿ن سے نکلے تھے۔ تب حالات بہت خراب تھے اور اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی دھماکہ نہ ہوجائے لیکن انہوں نے اپنے اللہ پر بھروسہ کیا۔ ہر جماعت نے اس میں اپناحصہ ڈالا اور عدلیہ بحال ہوئی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ نتائج نکلیں گئی اور حالات پھر خراب ہوجائیں گے۔ عدلیہ میں جن کا ضمیر زندہ ہے، بہادر ہیں وہ دباو کے باوجود بھی انصاف پرمبنی فیصلے دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے وہاں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے باقی صوبوں کے فنانشل گیپس اپنے حصے میں لیے۔ پنجاب باقی صوبوں کا بڑا بھائی ہے۔پنجاب کی قربانی دینے پر این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ سوفیصد بڑھایاگیا۔ 

شہباز شریف نے اپنی تقریرمیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ روز کی تقریر میں گوالمنڈی کو نشانہ بنانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوالمنڈی میں بڑے نیک اور عظیم لوگ رہتے ہیں۔ ان کے آباواجداد نے پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں لیکن افسوس کہ آپ نے اسے حقارت کی نظرسے دیکھا اور بری بات کی۔ وزیراعظم کو احساس ہو ناچاہیے کہ پاکستان کی ہر جگہ مقدس ہے اور سب نے مل کرہی اس وطن کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ آپ ایوان میں کھڑے ہوکر جو باتیں کرتے ہیں اس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔

مزید :

قومی -