ملک میں بننے والی گاڑیوں کی ناقص کوالٹی اور زیادہ قیمتوں پر اظہاربرہمی،بڑے ادارے نے  متعلقہ حکام کو طلب کر لیا

ملک میں بننے والی گاڑیوں کی ناقص کوالٹی اور زیادہ قیمتوں پر اظہاربرہمی،بڑے ...
ملک میں بننے والی گاڑیوں کی ناقص کوالٹی اور زیادہ قیمتوں پر اظہاربرہمی،بڑے ادارے نے  متعلقہ حکام کو طلب کر لیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وار نے ملک میں بننے والی گاڑیوں کی ناقص کوالٹی اور زیادہ قیمتوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کوالٹی کم اورگاڑیاں کی قیمتیں دیگر ممالک کی نسبت بہت  زیادہ ہیں، امریکہ میں اچھی کارکی قیمت 34 لاکھ ہے جس کا معیار پاکستان کی گاڑیوں سے ہزار گنا بہترہے، پاکستان میں 45 لاکھ کی کار ملتی ہے جس کا معیار دیگر ممالک کی گاڑیوں سے کافی پیچھے ہے،ملک میں 95 فیصد آٹو پارٹس بن سکتے ہیں مگر یہاں پلانٹ لگانے کی بجائے منافع خوری پر زور دیاجاتا ہے،پاکستان میں سیفٹی، آلودگی اور کوالٹی کے معیار کو گاڑیوں میں لاگو کرنا ہوگا،ان کی جانچ پڑتال تھرڈ پارٹی ذریعے ہونا ضروری ہے۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں گاڑیوں کی پرائس ٹرانسفرنگ رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو طلب کر لیا۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر احمد خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار، سی ای او پاکستان اسٹیل ملز، سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ،سی ای اوای ڈی بی کے علاوہ ٹیوٹا،ہنڈا کمپنیوں کے نمائندہ نے شرکت کی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں  بننے  والی کاروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں،  بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی تفصیلات جائزہ لیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر احمد خان نے کہا کہ آٹو موبائل انڈسٹری انتہائی اہمیت کی حامل ہے، ملک میں عرصہ دراز سے بے شمار کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی مگر جدید پلانٹ نہیں لگائے گئے جس سے ملک وقو م کو فائدہ ہو سکے۔

سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ایس آر او 693 کے تحت آٹو موبائل پارٹس کے حوالے سے معاملات ہیں جن پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا، نہایت افسوس کی بات ہے کہ کمپنیاں یہاں پلانٹ لگانے کی بجائے آٹو موبائل پارٹس بھی باہر سے ایمپورٹ کرتی ہیں جو آسانی سے بن سکتے ہیں۔آئندہ اجلاس میں آٹو پارٹس مینو فیکچرز کو بھی بلایا جائے۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کہا کہ پاکستان میں کوالٹی کم اور قیمت زیادہ والی گاڑیاں بن رہی ہیں،اون منی دن بدن بڑھتی جارہی ہے جس سے صارفین پر ظلم ہورہا ہے۔

سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ پاکستان میں سیفٹی، آلودگی اور کوالٹی کے معیار کو گاڑیوں میں لاگو کرنا ہوگا۔ان کی جانچ پڑتال تھرڈ پارٹی ذریعے ہونا ضروری ہے۔گاڑیاں بنانے والوں کے لئے اس ضمن میں روڈ میپ متعین ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو آئندہ اجلاس میں بلایا جائے کہ ان کمپنیوں نے ایس آر او 693 کی کتنی خلاف ورزی کی ہے۔ملک میں 95 فیصد آٹو پارٹس بن سکتے ہیں مگر یہاں پلانٹ لگانے کی بجائے منافع خوری پر زور دیاجاتا ہے۔ کمیٹی کو پرائس ٹرانسفرنگ پر بھی رپورٹ دی جائے۔جس پر کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام کو طلب کر لیا۔کمیٹی کو ہنڈا کمپنی کے نمائندہ نے بتایا کہ گزشتہ چھ سال میں ہم نمبرون ٹیکس پیئر ہیں۔ ہماری کاروں میں 50 سے 65 فیصد لوکل پارٹس استعمال ہوتے ہیں۔ہمارا اکثریتی خام مال درآمد ہوتا ہے۔چیئرمین کمیٹی احمد خان کہا کہ ناقص ٹائروں کی وجہ سے زیرو میٹر گاڑی میں نئے ٹائر لگوائے جاتے ہیں۔

سینیٹر ڈاکٹرآصف کرمانی کہا کہ مڈل کلاس لوگ اپنا زیور بیچ کر سامان گروی رکھ چھوٹی گاڑی لیتے ہیں مگرگاڑیوں کی کوالٹی درست نہیں منافع لیتے ہیں تو کوالٹی بھی دیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایک اچھی کارکی قیمت 34 لاکھ ہے جس کا معیار پاکستان کی گاڑیوں سے ہزار گنا بہترہے۔ پاکستان میں 45 لاکھ کی کار ملتی ہے جس کا معیار دیگر ممالک کی گاڑیوں سے کافی پیچھے ہے،سوزوکی مہران ایک بے رنگ خط کی طرح ہے اور آلٹو کی قیمتیں اتنی بڑھا دی گئی ہیں کہ عام انسان خرید نہیں سکتا،سیٹ بیلٹ باندھیں تو سیٹیں پھٹ جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی گاڑیوں کے چلتے ہوئے اسٹرینگ جام ہوجاتے ہیں اور سیفٹی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں،جب تک ری کال کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی بہتری ممکن نہیں ہے۔سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ عمران خان سے گزارش ہے کہ گاڑیوں والے مافیا کے خلاف کارروائی کریں، 25 لاکھ کی گاڑی لینے پر 5 لاکھ اون دینا پڑتا ہے، کار کمپنیاں قوم کو لوٹ رہی ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -