زرعی تحقیق کیلئے 72 کروڑ روپے کے 22 مختلف منصوبہ جات کی منظوری

  زرعی تحقیق کیلئے 72 کروڑ روپے کے 22 مختلف منصوبہ جات کی منظوری

  

ملتان (سپیشل رپورٹر) زرعی ریسرچ منصوبہ جات کے ثمرات کاشتکاروں اور عوام تک پہنچنا ضروری ہیں۔ زرعی منصوبہ جات مارکیٹ اور کمرشل پیمانے پر ڈیمانڈ کے (بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

مطابق ترتیب دئیے جائیں تاکہ عوام کو معیاری زرعی اجناس سستے داموں مل سکیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ بورڈ کے 45ویں (بقیہ نمبر39صفحہ7پر)

 اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود نے اجلاس کا ایجنڈہ پیش کیا۔ اجلاس میں پارب کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ 22 منصوبہ جات جن میں سے ہائبرڈ ٹماٹر، ہائبرڈ چاول، کھیرے کی ٹنل میں کاشت، تربوز کیوی کے پھل کی اقسام وغیرہ کے متعلق چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود نے 22 زرعی تحقیق کے منصوبہ جات منظوری کے لئے پیش کئے۔ اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب نے کہا کہ پاکستان نے 1960 کی دہائی میں زراعت کے شعبہ ریسرچ میں بین الاقوامی اشتراک سے جو کامیابی سمیٹی تھی اس کے احیاء کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ تکنیکی کمیٹی مختلف پراجیکٹس پر کام کرنے والے زرعی سائنسدانوں کے نام فائنل کرتے وقت انکے اس شعبہ میں تجربہ کی شرط کو لازمی طور پر ملحوظ خاطر رکھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پارب کو ریسرچ کو قومی پیداوار میں اضافے اور بہتر آؤٹ پٹ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنا ہو گا زرعی منصوبہ کی کمرشل پیمانے پرعملدرآمد کی ضرورت ہے جس سے عوام کی ڈیمانڈ پوری ہو اور قیمتوں میں بھی استحکام پیدا ہو سکے۔ اس کے علاوہ ایسے کولڈ سٹوریج بنانے کی ضرورت ہے جس سے سبزیات اور پھلوں کی شیلف لائف بڑھائی جا سکے۔ انھوں نے ایگزیکٹو کمیٹی کی رپورٹ اور کام کرنے کے طریقہ کار کو بورڈ میٹنگ کے ایجنڈے کا حصہ بنانے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب نے بورڈ کی مشاورت سے مجموعی طور پر 72 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے 22 زرعی منصوبہ جات کی منظوری دی۔ وزیر زراعت پنجاب نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریسرچ کا مقصد ''ریسرچ برائے ریسرچ'' نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسی اقسام کی تیاری ہونا چاہیے جو تجارتی پیمانے پر کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ اور عوام کی ریلیف کا باعث بن سکیں۔ مکئی کی ایسی اقسام کی تیاری کی جائے جو زیادہ سائیلج بنا سکیں۔ دھان کی ہائبرڈ اقسام کی تیاری کے دوران پہلے سے موجود زرعی ریسرچ کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ سیکرٹری زراعت پنجاب نے چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابدمحمود کو پارب کی بورڈ ممبران کی سلیکشن کے متعلق طریقہ کار کے متعلق تبدیل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بورڈ ممبران ممبر صوبائی اسمبلی مسز شاہدہ احمد، اعجاز منیر ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ایڈمن)، ترقی پسند کاشتکاران رابعہ سلطانہ، جاوید سلیم قریشی، خالد کھوکھر صدر کسان اتحاد نے شرکت کی۔

زرعی تحقیق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -