ختم نبوت……اسلام کی اساس 

ختم نبوت……اسلام کی اساس 

  

ختم نبوت……اسلام کی اساس اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدے پر کھڑی ہے۔ یہ ایک حساس عقیدہ ہے اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ امت محمدیہ سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ نبی مکرم،  رسول معظم رحمت ِ عالم ﷺ کو صادق و مصدق سمجھنا اور آپؐ کی نبوت و رسالت کو آخری تسلیم کرنا ایمان و ہدایت، ابدی کامیابی اور نجات کی بنیاد ہے۔ قرآن مجیدا ور حادیث نبویہؐ کی متعدد نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سیدنا محمد رسول ؐ قیامت تک اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپؐ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہے، جبکہ اس عقیدے سے انکار یقینا کفر و ارتداد ہے، جس سے کوئی تاویل نہیں بچا سکتی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے لے کر آج تک تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔ اس عقیدے کا دفاع پورے دین ِ اسلام کا دفاع ہے۔ اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ حضور اکرمؐ  کی حیات مبارکہ کے آخری دور سے لے کر آج تک نبوت کے کذاب دعوے دار اپنی منحوس صورتوں کے ساتھ دنیا کے مختلف خطوں میں اور مختلف اوقات میں نمودار ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوارمیں جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکار ہمیشہ تاویلات اور جھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر دین اسلام میں تبدیلی و تحریف کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ منکرین ختم نبوت اپنی کج فہمی کو دلیل، گمراہی کو ہدایت، جھوٹ کو سچ، زہر کو امرت، ظلمت کو ضیا اور پیتل کو زر خالص تسلیم کروانے پر مصر رہے، مگر ایسے عناصر کی تردید اور انکے بطلان کے لئے ہر دور میں مجاہدین ختم نبوت نا مساعد حا لات کا مقابلہ کرتے ہوئے پر جوش ایمانی غیرت کے ساتھ اپنی زندگیوں کے چراغ ہتھیلیوں پر رکھ کر جلو ہ افروز ہوتے چلے آرہے ہیں۔مجاہدین ختم نبوت نے ہر دور میں بفضلہ تعالیٰ منکرین ختم نبوت کی بیخ کنی کی، ان کے جھوٹے دلائل کارد کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہر دور میں منکرین ختم نبوت کو ناکامی و نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا اور ذلت ورسوائی ان کا مقدر ٹھہری ہے۔اس مقصد کی خاطر مسلمانوں نے ہر طرح کی جانی، مالی، بدنی قربانیاں دی ہیں۔ قربانیوں کایہ سلسلہ ایک ایسی عظیم داستان عزیمت ہے، جس پر امت مسلمہ کوبجا طور پر فخر ہے۔یہ درست ہے کہ حسن یوسف کی جلوہ آرائی میں محو ہوکر مصر کی عورتوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں تھیں، مگر جب بات آئی تاجدار ختم نبوت، آقائے نامدار،امام الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی تو فاران کی چوٹیوں سے لے کر بدر، احد، حنین، تبوک، دیبل، جبرالطارق، دہلی اور بالاکوٹ کے میدان کارزار میں مسلمانوں نے محمد عربی ؐ کی محبت میں اپنے سر کٹا دیئے، جبکہ عقیدت ومحبت اورجانثاری کایہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور قیامت کی دیواروں مسلمان اپنے نبی ؐ کی حرمت پر جانیں قربان کرتے رہیں گے ان شاء اللہ اس لئے کہ :

حسن ِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت ِ زناں 

سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردان عرب  

بر صغیر میں پاک و ہندوہ خطہ عقیدت و محبت ہے جہاں کی مٹی کی تاثیر میں جوش، جرأت اور وفا شامل ہے۔ اس دھرتی پر انگریز کے خود کاشتہ پودے مرزا قادیانی  کی طرف سے دستار ختم نبوت پر حملہ اسلامیان بر صغیر کی غیرت ایمانی کو للکارنے اور جوش دلانے کے مترادف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب مرزا  قادیانی نے نبوت کادعوی کیا تو مجاہدین ختم نبوت اس فتنہ کی بیخ کنی اور سر کوبی کے لئے میدان عمل میں کود پڑے، جس طرح سے مسلمان علما اور عوام وخواص نے اس فتنے  کا مقابلہ کیاوہ غیرت و حمیت اور جانثاری  کا ایک روشن اور درخشندہ باب ہے۔ مسلمانوں کا نبی مکرم، رسول معظم رحمت ِ عالم ؐ کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور جذبہ جہاد انگریز سامراج کے لئے سوہان روح بنا ہواتھا۔یہ جہاد کاجذبہ ہی تھا،جو مسلمانوں کو انگریزوں کے مقابلے میں بار بار صف آرا کرتا اور بار بار انگریزوں کو شکست فاش سے دوچار کرتا رہا۔پھر انگریزاس نتیجے پر پہنچے کہ جب تک مسلمانوں کے دِلوں سے ان کے نبی کی محبت اور جہاد کاجذبہ ختم  نہیں ہو جاتا ان کے لئے آرام اور سکون سے حکومت کرنا ممکن نہیں۔تب سرکار انگلشیہ   کے دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوئی اور ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دلوں سے حضور ؐ  کی محبت، عقیدت، مودت اور جہاد کی روح ختم ہوجائے۔ اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم و تنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے۔

اسرائیل کے ایجنٹ، ہندو کے گماشے، مغزلی طاقتوں کے آلہ کاراور پاکستان و عالم اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔ مفکر ِ پاکستان، شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال ؒ نے ان کے سیاسی، عمرانی اور تہذیبی سطح پر خطرناک عزائم کا ادراک کیا اور انھیں اسلام اور وطن دونوں کا غدار قرار دیتے ہوئے الگ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے علمانے قادیانی فتنہ کی سرکوبی کی۔ تاہم  جن علما نے اسلام کے پردے میں چھپے فتنہ قادیانیت کو سب سے پہلے بھانپا اور بے نقاب کیا وہ شیخ الکل فی الکل سید نذیرحسین محدث دہلوی اور ان کے شاگرد خاص ابو سعید مولانا محمد حسین بٹالوی تھے۔

مشہور شاعر، ادیب، خطیب،تحریک آزادی کے نڈر، بیباک رہنما اور تحریک ختم نبوت کے مجاہد آغا شورش کاشمیری مرحوم قادیانیت کی تردید میں علمائے اہلحدیث کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: علمائے اہل حدیث نے مرزا صاحب کے کفر کا فتویٰ دیا۔ ان کا فتویٰ فتاویٰ نذیریہ جلد اول کے صفحہ 4 پر موجود ہے۔ مرزا صاحب اس فتویٰ سے تلملا اٹھے۔ اور شیخ الکل میاں نزیر حسین صاحب کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ میاں صاحب سو برس سے اوپر ہو چکے تھے۔ اور انتہائی کمزور تھے۔ آپ نے مرزا صاحب کے چیلنج کو اپنے تلامذہ کے سپرد کیا۔ مرزا صاحب اپنی عادت کے مطابق فرار ہو گئے، جن علمائے اہلحدیث نے مرزا صاحب اور ان کے بعد قادیانی امت کو زیر کیا۔ ان میں مولانا محمد بشیر سہوانی‘ قاضی محمد سلیمان منصورپوری‘ اور مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی سرفہرست تھے لیکن جس شخصیت کو علمائے اہلحدیث میں فاتح قادیان کا لقب ملا وہ مولانا ثناء اللہ امرتسری تھے۔ انہوں نے مرزا صاحب اور ان کی جماعت کو لوہے کے چنے چبوا دئیے۔ اپنی زندگی ان کے تعاقب میں گزار دی۔ ان کی بدولت قادیانی جماعت کا پھیلاؤ رک گیا۔ مرزا صاحب نے تنگ آ کر انہیں خط لکھا کہ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا ہے اور صبر کرتا رہا ہوں، اگر میں کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ لکھتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا، ورنہ آپ سنت اللہ کے مطابق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ خدا آپ کو نابود کر دے گا۔ خداوند تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ مفسد اور کذاب کو صادق کی زندگی میں اٹھائے۔ (خط مورخہ 15اپریل 1907ء)اس خط کے ایک سال ایک ماہ اور بارہ دن بعد مرزا لاہورمیں دم توڑ گئے۔ مولانا ثناء اللہ نے 15 مارچ 1948ء کو سرگودھا میں رحلت فرمائی۔ وہ مرزا صاحب کے بعد 40 سال تک زندہ رہے۔ ان کے علاوہ مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی‘ مولانا عبداللہ معمار‘ مولانا محمد شریف کڑیالوی‘ مولانا عبدالرحیم لکھو والے‘ مولانا حافظ عبداللہ روپڑی‘ مولانا حافظ محمد گوندلوی‘ شیخ الحدیث مولانا محمد اسمٰعیل گوجرانوالہ‘ مولانا محمد حنیف ندوی‘ بابو حبیب اللہ‘ اور حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری وغیرہ نے قادیانی امت کو ہر دینی محاذ پر خوار کیا۔ اس سلسلہ میں غزنوی خاندان نے عظیم خدمات سر انجام دیں۔ مولانا سید داؤد غزنوی جو جماعت اہلحدیث کے امیر اور مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری رہے، انہوں نے اس محاذ پر بے نظیر قائم کیا۔ لہٰذا ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم نبی مکرم، رسول معظم، رحمت ِ عالم ؐ کے ساتھ محبت وعقیدت کاحق ادا کرتے ہوئے اور علمائے کرام کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کی پہرے داری کریں اور مرزا قادیانی کی ذریت کے باطل عقائد کی بیخ کنی کرتے رہے ہیں۔

یہ سنگ گراں جو حائل ہیں رستے سے ہٹ کر دم لیں گے 

ہم راہ وفا کے رہ رو ہیں منزل پر ہی جاکر دم لیں گے 

یہ بات عیاں ہے دنیا میں ہم پھول بھی تلوار بھی ہیں 

یا بزم جہاں مہکائیں گے یا خون میں نہا کر دم لیں گے 

ہم ایک خدا کے قائل ہیں پندار کا ہر بت توڑیں گے 

ہم حق کا نشاں ہیں دنیا میں باطل کو مٹا کر دم لیں گے

مزید :

ایڈیشن 1 -