سی پیک منصوبوں پر چیئر مین قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا چینی سفیر کے شکوے کا انکشاف

سی پیک منصوبوں پر چیئر مین قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا چینی سفیر کے شکوے کا ...

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی میں انکشاف ہواہے کہ چینی سفیر نے شکوہ کیاہے کہ تین سال میں سی پیک کومکمل بندکرکے بیڑا غرق کر د یا گیاہے،چینی کمپنیوں کی بات کوئی نہیں سنتاوہ رورہے ہیں،شعبہ توانائی کے منصوبوں میں حکومت کی طرف سے 1.2ارب ڈالر کی عدم ادائیگی پر چینی کمپنیوں نے کام روک دیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کمیٹی کوبتایاسی پیک پر جتناکام ہوناچاہیے تھاوہ نہیں ہوا،مختلف منصوبے اب پی پی پی موڈ میں لیکرجارہے ہیں۔حکام نے کمیٹی کوبتایا گوادر میں وکیشنل ٹریننگ سنٹر بن گیاہے مگر وہاں سٹاف نہیں۔ ارکان کمیٹی نے کہا گوادرکے عوام کوصاف پانی دستیاب نہیں،جبکہ بغیرپانی کوئی منصوبہ نہیں لگ سکتا،سب سے پہلے پانی کابندوبست کیا جائے۔کمیٹی نے سی پیک منصوبوں کی پیش رفت پر عمل درآمد کیلئے گوادر کا دورہ کرنے کافیصلہ کیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلا س چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں ہو،ااجلاس میں سینیٹردنیش کمار،سینیٹر طاہر بزنجو،سینیٹرپلواشہ،سینیٹر ہدایت اللہ نے شرکت کی۔اجلا س میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر،معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے شرکت کی۔چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا چینی سفیر نے میرے ساتھ ملاقات میں کہا سی پیک کے حوالے سے حکومتی کارکردگی اور پراجیکٹ میں عدم دلچسپی کا بڑا شکوہ کیاکہ تین سال سے سی پیک کوبنداور منصوبوں کابیڑاغرق کردیاگیاہے۔وفاقی وزیراسد عمر نے کہا سی پیک کے جو منصوبے لگے ہیں وہ پاکستان کیلئے ہیں،مزید تیزی سے کام کیا جانا چاہیے،بلوچستان کیلئے 560ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام اس حکومت نے شروع کیاہے،بلوچستان کو زیادہ فائدہ انڈسٹری زون سے ہوگا،گوادر میں بھی انڈسٹری زون بنایا جائیگا۔وہاں پر سرمایہ کاروں کو لانا ہمارے لیے چیلنج ہے، زراعت پر کام کررہے ہیں،میرانی ڈیم کیساتھ زراعت کے حوالے سے کام ہورہاہے۔سینیٹردنیش کمار نے کہا گوادر کے عوام کو پانی دینا کس کی ذمہ داری ہے؟۔ اسد عمر نے کہا گوادر میں صاف پانی دینا بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے،ترقیاتی بجٹ کی منظوری این ای سی کی منظوری سے ایوان میں لاتے ہیں منظو ری کے بعد ہم تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں۔ سینیٹرطاہر بزنجو نے کہا صنعتی زون پانی کے بغیر ممکن نہیں، بلوچستان کیلئے فنڈ دیئے جاتے ہیں عمل نہیں ہوتا، موٹروے دوسرے صوبوں کی طر ح بلوچستان میں کیوں نہیں بن سکتی،وفاقی وزیراسد عمر نے کہا کراچی سے چمن تک شاہراہ کو پی پی موڈ میں بنایا جارہاہے ایک حصہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہے۔ معاون خصوصی سی پیک خالد منصور نے کہا گوادر کے پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے دومزید ڈیموں سے لائن گوادر لانے کا منصوبہ ہے،گوادر میں 14گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے،گوادرمیں پانی کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔چین پاکستان کے سکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہے۔ چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل حل کررہاہوں۔وکیشنل ٹریننگ سنٹر گوادر میں بن گیا مگر استاد نہیں، ہسپتال بن رہاہے مگر ڈاکٹروں و سٹاف کی تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہورہا۔سی پیک حکام نے کمیٹی کوبتایا ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے کا 6فیصد کام رہتا ہے اکتوبر یہ موٹروے کھل جائے گا۔سینیٹرہدایت اللہ نے کہا ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے میں جب میں اس کمیٹی کاچیئرمین تھا اسوقت بھی 6فیصد کام رہتاتھا اب بھی اتنا رہتا ہے اس کی کیا وجہ ہے یہ مکمل کیوں نہیں ہورہا؟۔کمیٹی نے سی پیک مغربی روٹ پر کام کرنیوالے کنٹریکٹر کی لسٹ مانگ لی۔خالد منصور نے کہا چینی کمپنیوں کو 1.2ارب ڈالر  ادائیگیاں کرنی ہیں جس کی وجہ سے کچھ پروگرام رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان میں 137چینی کمپنیاں کام کررہی ہیں،ان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی انکشاف

مزید :

صفحہ اول -