مضاربہ سکینڈل ، سیف الرحمان کی ضمانت میں 22ستمبر تک توسیع،ملزم کے خلاف رقم وصولی کے شواہد عدالت میں پیش

مضاربہ سکینڈل ، سیف الرحمان کی ضمانت میں 22ستمبر تک توسیع،ملزم کے خلاف رقم ...
مضاربہ سکینڈل ، سیف الرحمان کی ضمانت میں 22ستمبر تک توسیع،ملزم کے خلاف رقم وصولی کے شواہد عدالت میں پیش

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپر یم کورٹ نے مضاربہ سکینڈل کے ملزم اور نجی کمپنی کے مالک سیف الرحمان کی عبوری ضمانت میں 22ستمبر تک توسیع کردی۔قومی احتساب بیور و(نیب) کی جانب سے عدالت میں ملزم کے خلاف رقم وصولی کے شواہد پیش کردیئے گے۔

نجی ٹی وی 24نیوز کے مطابق سپر یم کورٹ میں قائم مقام چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مضاربہ سکینڈل کے ملزم اور نجی کمپنی کے مالک سیف الرحمان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

ملزم سیف الرحمان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل کے بینک اکاﺅنٹس منجمد ہو چکے ہیں،جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ اکاﺅنٹس منجمد ہوں گے لیکن ان میں آنے والا پیسہ بہت ہے،فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا بی فار یو پاکستان میں رجسٹر ڈ کمپنی ہے؟جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ بی فار یو رجسٹرڈ نہیں ہے ، پیسہ ذاتی ناموں پر لیا جاتا ہے، جون 2020سے کمپنی پیسے اکھٹے کررہی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ملزم تفتیش میں تعاون کررہا ہے؟ ، جس کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم کو سوالنامہ بھی دیا لیکن تسلی بخش جوابات نہیں ملے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ تسلی بخش جواب کیا ہوتا ہے؟،جس پر ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب اپنی مرضی کا جواب لینا چاہتاہے، چھ ، چھ گھنٹے کے لئے ہر تین دن بعد سیف الرحمان کو بلایا جاتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ تسلی بخش جواب نہیں مل رہا تو نیب کارروائی آگے بڑھائے۔

قائم مقام چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے ملزم کی نہیں اپنی مرضی سے تفتیش کرنی ہے،یہ اربوں روپے کا مقدمہ ہے جس پر تفتیش ہے، نیب اور ملزم کے وکیل آئندہ سماعت پر تیار ی سے آئیں،آئندہ سماعت پر فیصلہ کریں گے۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت22ستمبر تک ملتوی کردی۔ 

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -