17 سالہ لڑکی کی محبت نے ڈنمارک حکومت کو نیا قانون لانے پر مجبور کر دیا

17 سالہ لڑکی کی محبت نے ڈنمارک حکومت کو نیا قانون لانے پر مجبور کر دیا
17 سالہ لڑکی کی محبت نے ڈنمارک حکومت کو نیا قانون لانے پر مجبور کر دیا

  

کوپن ہیگن ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) ڈنمارک میں 17 سالہ لڑکی نے قتل کے جرم میں تاحیات قید کی سزا پانے والے شخص سے محبت کا اعتراف کر لیا ، جس کے بعد ڈنمارک حکومت نیا قانون لا رہی ہے جس کے مطابق  عمر قید کی سزا پانے والے مجرم نئی محبت نہیں کر سکیں گے ۔

بی بی سی اردو کے مطابق  نئے قانون کے تحت قید کے پہلے دس برس کے دوران ان قیدیوں کو صرف پہلے سے قریبی تعلق رکھنے والوں سے رابطے کی اجازت ہوگی، حکام کے مطابق اس طرح مجرموں کے چاہنے والوں کی تعداد کو بڑھنے سے روکا جا سکے گا۔

مجرم پیٹر میڈسن  نے 10 اگست 2017 کو صحافی کِم وال کو اس وقت قتل کر دیا تھا جب وہ ان کا انٹرویو کرنے کے لیے ان کی بنائی ہوئی آبدوز میں گئی تھیں۔ بعد میں قاتل نے کِم کے جسم کے ٹکڑے کر کے سمندر میں پھینک دیے تھے۔ انھیں 2018 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاحیات عمر قید کی سزا پانے والے مجرم پیٹر میڈسن  کی نئی محبت 17سا لہ  کمیلا کُرسٹین کے مطابق وہ اس وقت محبت میں مبتلا ہوئیں جب ان کا دو سال کے عرصے میں پیٹر میڈسن  سے خطوط کا تبادلہ ہوا اور ٹیلیفون پر بات ہوئی ،  جب پیٹر نے قید کے دوران 39 سالہ روسی شہری جینی کرپن سے شادی کی تو وہ شدید حسد کا شکار ہو گئیں ۔

ادھر ملک کے وزیر انصاف نک ہائکیرپ نے کہا کہ اس طرح کے تعلقات پر پابندی عائد کرنا لازم ہے ، سزا یافتہ مجرموں کو  ایسے سہولیات نہیں دینی چاہئیں کہ وہ جیلوں کو ڈیٹنگ سینٹر  یا اپنے جرائم کی شان بڑھانے کیلئے استعمال کریں ۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد سے نوجوان ہمدریاں جتاتے ہیں اور ان سے رابطے کرتے ہیں ۔

نئے قانون کے تحت لمبی سزا پانے والے مجرم سوشل میڈیا پر بھی اپنے جرائم کے بارے میں پوسٹ نہیں کر سکیں گے نہ ہی پوڈکاسٹ پر ان کے بارے میں بات کر سکیں گے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -