اپنے کام کی انشورنس کرانے والی نرس کورونا میں مبتلا ہوئی تو کتنی رقم ملی؟ دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں

اپنے کام کی انشورنس کرانے والی نرس کورونا میں مبتلا ہوئی تو کتنی رقم ملی؟ ...
اپنے کام کی انشورنس کرانے والی نرس کورونا میں مبتلا ہوئی تو کتنی رقم ملی؟ دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کہتے ہیں کہ مستقبل کی پیش بندی بہت مفید چیز ہوتی ہے، اور یہ بات اس برطانوی نرس کے کیس میں عملاً ثابت بھی ہو گئی ہے جس نے اپنے روزگار کی انشورنس کروا رکھی تھی اور پھر جب کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر بے روزگار ہوئی تو خطیر رقم انشورنس کی مد میں حاصل کر لی۔ دی سن کے مطابق اس 58سالہ نرس کا نام سٹیفنی کنگ ہے جو کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑتی رہی اور اسی جنگ کے دوران خود بھی اس موذی وائرس کا شکار ہو گئی۔

برطانوی شہر سوان سی کی رہائشی سٹیفنی نے 2018ءمیں اپنی ٹانگ فریکچر ہونے پر روزگار کی انشورنس کروائی تھی اور دو سال بعد مارچ 2020ءمیں اسے کورونا وائرس لاحق ہو گیا۔ سٹیفنی میں کورونا وائرس کے منفی اثرات طویل مدتی ثابت ہوئے اور وہ کئی طرح کے عارضوں کا شکار ہو گئی، جن سے صحت یاب ہونے میں اسے مہینے لگ گئے۔ا س دوران وہ ڈیوٹی سرانجام دینے سے قاصر تھی لہٰذا اس نے اپنی انشورنس کمپنی سے انشورنس کی رقم کلیم کی۔ کمپنی اسے ماہانہ 1600پاﺅنڈ ادا کرتی رہی۔ جب تک سٹیفنی مکمل صحت مند ہوئی اور کام پر واپس گئی، تب تک وہ انشورنس کمپنی سے 17ہزار 600پاﺅنڈ (40 لاکھ 76 ہزار روپے) کی خطیر رقم لے چکی تھی۔سٹیفنی کا کہنا ہے کہ ”اگر میں نے انشورنس نہ کروا رکھی ہوتی اور اس موذی وباءمیں مبتلا ہونے کے دوران مجھے انشورنس کی مد میں مالی معاونت نہ ملتی تو میں تباہ ہو کر رہ جاتی۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -کورونا وائرس -