گیس منصوبے پر روسی صدر کی یقین دہانی

گیس منصوبے پر روسی صدر کی یقین دہانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائپ لائن گیس سپلائی ممکن ہے، اِس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر پہلے سے ہی موجود ہے۔ روسی صدر نے یہ بات وزیراعظم شہباز شریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر سمرقند میں ہونے والی ملاقات میں کہی۔ روسی صدر کی گیس کی سپلائی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر سے مراد سٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ ہے جسے ”پاکستان سٹریم“ بھی کہا جاتا ہے، اِس کی تعمیر روسی کمپنیوں کے تعاون سے ہونی تھی لیکن یہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے۔ دونوں ممالک نے 2015ء  میں 1100 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی تعمیر پر اتفاق کیا تھا جس کے ذریعے گیس کراچی کی بندرگاہ سے پنجاب کے ایل این جی پلانٹس تک ترسیل کی جانی تھی۔ اس پائپ لائن کی سپلائی کی گنجائش 12.4 ارب کیوبک میٹر ہے جسے 1600 ارب کیوبک میٹر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ روس کی جانب سے پائپ لائن کا یہ معاہدہ 25 سے 30سال تک موثر رہے گا لیکن آئندہ 30 سے 40 سال تک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پائپ لائن کا سائز 56 انچ رکھا گیا ہے اور اس سے یومیہ 700 سے 800 ملین مکعب فٹ (ایم ایم ایف سی ڈی) گیس کی ترسیل کو یقینی بنایا جاسکے گا جبکہ کمپریس کر کے اسے دو ہزار ایم ایم سی ایف ڈی تک لے جایا جاسکتا ہے۔ 2015-16ء میں اِس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ ڈھائی سے تین ارب ڈالر تھا جو عالمی مہنگائی کے باعث اب بہت بڑھ چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ متعدد پابندیوں کے باعث تاخیر کا شکار تھا، گزشتہ حکومت نے اس منصوبے پر دوبارہ مذاکرات کیے اور 74  فیصد کے ساتھ  پاکستان اِس کا اکثریتی شیئر ہولڈر بن گیا۔ نئے قواعد و ضوابط کا فائدہ یہ ہے کہ اس پراب امریکی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہو گا۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ روسی صدر کی اس پیشکش کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے،حالیہ برسوں میں پاکستان روس تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان پر حملے کے وقت سوویت فوجوں کی مزاحمت اب قصہئ ماضی بن چکی ہے، اس جنگ کے دوران وقوع پذیر ہونے والے اکثر معاملات و واقعات بھی اب ایک ناخوشگوار یاد کی مانند ہیں جسے ایک طرف رکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔درد بھرے ماضی سے جڑے رہنے کی بجائے روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانا زیادہ مفید ہوتا ہے۔ پاکستان کے مفاد کا تقاضہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے دو طرفہ تعلقات میں وسعت پیدا ہو، گلوبل ولیج میں اپنی جگہ بنانے اورپھر برقرار رکھنے لئے تمام ممالک کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات کو فروغ دینا ہی معیشت کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ روس سے خوشگوار تعلقات کا مطلب مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا ہر گز نہیں ہونا چاہئے۔پاکستان نے امریکہ اور چین کے ساتھ اپنے معاملات میں توازن رکھا ہے، اسی طرح سے روس کے ساتھ بھی تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے، گیس پائپ لائن منصوبہ اس تعلق کی اہم کڑی ثابت ہو سکتا ہے۔عمران خان کی حکومت اس منصوبے کے نئے قواعد و ضوابط طے کرنے میں کامیاب تو ہو گئی تھی لیکن نامعلوم وجوہات کے باعث اِن پر عملدرآمد نہ کیا جا سکا۔ 2015 ء میں پاکستان کو گیس درآمد کرنا پڑی تھی جس کی کوئی پیشگی اطلاع تھی نہ ہی کوئی پلاننگ کی گئی تھی، پیشگی منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث ملک میں آج تک خصوصاً سردیوں میں گیس کا بحران سر اٹھا لیتا ہے۔پاکستان سٹریم کی تکمیل میں آٹھ سال لگ سکتے ہیں، اس دوران گیس کی کمی کئی گنا بڑھ بھی جائے گی۔ عقلمندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ فوری طور پر عملدرآمد شروع کیا جائے،اگر اس معاملے میں اب بھی کوئی رکاوٹ درپیش ہے تو اس کا فوری حل نکالنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ پاکستان میں آئندہ 20 سے 30 برسوں میں گیس کی طلب اس کی رسد سے کہیں زیادہ ہو جائے گی، ایک طرف قدرتی گیس کے داخلی ذخائر سالانہ نو فیصد تک کم ہو رہے ہیں تو دوسری طرف اس کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ملکی پیداوار چار ہزار ارب مکعب فٹ سے زائد تھی لیکن اب یہ کم ہو کر لگ بھگ تین ہزار ارب مکعب فٹ ہو گئی ہے اور آئندہ چند دہائیوں میں نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ ہرسال لاتعداد نئے کنکشنوں کی وجہ سے گیس کی طلب 250 ملین مکعب فٹ سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے، یہ یقینا ایک پریشان کن صورت حال ہے۔انرجی سیکٹر ماہرین کے مطابق قدرتی گیس کے ملکی ذخائر میں کمی اور سالانہ نئی طلب سے ملا کر دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان کو یومیہ 400 ملین مکعب فٹ شارٹ فال کا سامنا ہے جو آئندہ سالوں میں بڑھتا چلا جائے گا، موجودہ شارٹ فال پاکستان سٹریم کی کل سپلائی سے آدھا ہے لیکن آئندہ چند دہائیوں میں یہ شارٹ فال پاکستان سٹریم کی نارمل سپلائی سے زیادہ ہو چکا ہو گا۔اس پائپ لائن منصوبے پر اگر بروقت عملدرآمد ہوتا تو یہ آئندہ سال مکمل ہو جاتا  لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں گیس کا بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا معیاری نظام ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب گیس ہو گی ہی نہیں تو عام آدمی تک کیسے پہنچے گی؟ شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کی روس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہاربھی خوش آئند ہے۔ وزیراعظم نے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ فوڈ سکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی اور سیکیورٹی سمیت باہمی فائدے کے تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جاسکے۔ روس کے ساتھ بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) کا اگلا اجلاس جلد اسلام آباد میں بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ وہ اقدامات جو بہتر مستقبل کی نوید ہیں اُن کا اہتمام کرنے میں ذرا برابر کوتاہی نہ کی جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -