ہر طرف سونامی ہے!

  ہر طرف سونامی ہے!
  ہر طرف سونامی ہے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


میں اپنے دوست کے ساتھ جا رہا تھا۔ اس نے کہا:
”آج کل سونامی آیا ہوا ہے۔“
میں نے پوچھا ”کون سا سونامی؟“
دوست بولا۔ سیاست کا سونامی اور اصل سونامی۔
مقبول ترین لوگ اپنی پارٹی کو سونامی کے نام سے متعارف کرایا کرتے تھے۔ ان دنوں ہم سونامی کے نام سے ڈر جایا کرتے تھے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی گڑگڑا کر مانگا کرتے تھے۔ان دنوں سونامی کا مطلب الھڑ جوانیوں، وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور جسموں،وجدانی کیفیت میں حال کھیلنے والے نوجوانوں کا ڈی چوک اسلام آباد کی طرف سفر ہوتا تھا۔ ان دنوں سونامی کے اثرات ہم نے لاہور کی سڑکوں پر بھی دیکھے اور جگہ جگہ رکاوٹوں کے باعث لاہور کی تنگ گلیوں اور ٹوٹے پھوٹے راستوں کا مزہ چکھ کر شام کو گھر پہنچا کرتے تھے۔ کئی متقی لوگ فرمایا کرتے تھے کہ توبہ کرو، سیاسی جلسوں اور جلوسوں کو سونامی سے تشبیہ نہ دو۔
میرا دوست بولا ”بتیس دانتوں میں سے کبھی ایسی بات نہیں نکالنی چاہیے جو پوری ہو جائے۔“
”آپ سونامی کا نظارہ دیکھ رہے ہیں۔ کثیر منزلہ عمارات، ہوٹل، ریسٹ ہاؤس، ڈیم، بند، گاہوں، جانور اور سب سے قیمتی مخلوق انسان خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے ہیں۔“ اذانیں دو، سجدوں میں گر جاؤ اور میدانوں میں نکل کر اجتماعی توبہ کرو۔“
میرے دوست نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔


جن علاقوں میں بارش کی چند بوندیں نہیں پڑتی تھیں، وہاں ریکارڈ بارشیں ہوئی ہیں اور پانی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
دوسری طرف دیکھو، سیاست کا سونامی آیا ہوا ہے۔
سونامی کی بسیں، ویگنیں، رکشے، کاریں اور چنگ چئیاں ہمہ وقت پیامِ حق اور پیامِ تقویٰ سننے والوں کے لیے تیار۔
1957ء میں مسرت نذیر کے کردار پر مبنی فلم ”یکے والی“ ریلیز ہوئی تو اس نے دھوم مچا کر رکھ دی۔ پاپڑاں والی مسجد سیالکوٹ کے مشہور خطیب بڑے زبردست مقرر تھے۔ انھوں نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:”میرے ہاں ”یکے والی“ سے زیادہ رش ہوتا ہے۔“ اب سونامی سیاست کے حوالے سے وعظ کرنے والے کَہ سکتے ہیں۔
کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ کہ ہم بہت سے خطیبوں کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
مخالفین کے مقدر میں نہ صرف لعنتیں، پھٹکاریں اور طعن و تشنیع ہے بلکہ چور، ڈاکو، خائن، منی لانڈرر، دروغ گو جیسے القابات کے ساتھ جہنم میں جانے والے رستے کی لوکیشن بھی بتا دی جاتی ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ آپ سونامی کی طرف جانے والے کسی شخص سے یہ سوالات پوچھیں گے تو جوابات ضرور ملیں گے۔
آپ کی تعریف؟
”ایمان دار“
مخالف


”بے ایمان، چور، چور،چور اور کروڑوں مرتبہ چور۔“
اگر آپ کہیں کہ سوال انگریزی میں پوچھوں۔
جواب ملے گا ”ہم انگلش میڈیم لوگ ہیں، آپ پرچیوں سے دیکھ کر ”تھیک یو“ جیسے الفاظ بولتے ہیں۔“
”آپ جلسوں میں کیا لینے آتے ہیں؟“
”ہم شعور لینے آتے ہیں۔ ہم ہر سونامی جلسے کے بعد بوریوں کی بوریاں شعور کی لے کر گھروں کو لوٹتے ہیں۔“
”آپ کے پاس کتنا شعور اب تک جمع ہو چکا ہے؟“
”ہمارے گھروں کے ہر کمرے میں شعور ہی شعور بھر گیا ہے۔ اب ہم نے شعور رکھنے کے لیے گودام کرائے پر لینے شروع کر دیئے ہیں۔“
”سنا ہے آپ بیدار ہو چکے ہیں کیا، آپ میں بیداری آچکی ہے؟“
”بالکل۔ ہمیں آج تک کسی نے خوابِ غفلت سے جگایا ہی نہیں تھا۔ ایک دو ہلکی سی آوازیں دے کر جگایا کرتے تھے۔ قوم کو اب معلوم ہوا کہ ایمان دار لیڈر پوری آواز سے سوتے ہوئے لوگوں کو جگاتا ہے اور جو نہ جاگیں اسے جنونیوں، ابراریوں اور عیسیٰ خیلویوں کے ذریعے جگاتا ہے۔“


”آپ بہت ہی دل چسپ لوگ ہیں۔“
”واقعی ہم دل چسپ لوگ ہیں۔ ہم میں سے بعض نوجوان گھروں سے د ہی، ڈبل روٹی اور انڈے لینے نکلتے ہیں لیکن ہمارے جلسوں میں انقلاب لینے آ جاتے ہیں۔“ ہر طرف انقلاب ہی انقلاب ہے اور سونامی ہی سونامی ہے۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)

مزید :

رائے -کالم -