خواتین کے حقوق پراجلاس، سیلاب متاثرہ عورتوں پر خصوصی گفتگو 

  خواتین کے حقوق پراجلاس، سیلاب متاثرہ عورتوں پر خصوصی گفتگو 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(اسٹاف رپورٹر) لیگل ایڈ سوسائٹی، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور شرمین عبید چنائے (SOC)فلمز کی جانب سے شہر قائد میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، مختلف شخصیات کے مابین ہونے والی ملاقاتی نشست کا بنیادی مقصد جائداد میں عورتوں کے حقوق اور اس سے متعلقہ مسائل کو زیرِ بحث لانا تھا، پاکستان سیکرٹریٹ میں ہونے والے پروگرام کے آغاز میں سینئر ایڈوائزر، وفاقی محتسب،سید انوار حیدر نے آنے والے معزز شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور میٹنگ کو اہم قرار دیتے ہوئے گفتگو کا باقاعدہ آغاز کیا، لیگل ایڈ سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر حیا ایمان زاہد نے پراپرٹی میں خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال کا سامنا کرتی عورتوں کو بھی گفتگو کا محور بنایا، اُنکاکہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ خواتین پر ذمے داریوں کا بار مزید بڑھ گیا ہے، مختلف وجوہات کی بنا پر وہ اپنا گھر بار نہیں چھوڑ سکتیں، انہیں وہیں رہنا ہے کہ جہاں وہ جس حال میں ہیں، UNFPA کی جانب سے حاملہ خواتین کے بارے میں بتایا گیا ہے، دیگر کئی اور معاملات کا بھی انہیں سامنا ہے، عورتوں کو لائف سیونگ اسکلز سے روشناس کروانا ضروری ہے، انہیں با اختیا ر بنانے کیلئے موئثر پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے،، حیا زاہد کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب شاید ہمارے مستقبل کو ہی بدل کر رکھ دے، موسمیاتی تبدیلیوں کو  Opportunitiesمیں بدلنا ہوگا، خواتین کی بہتری پیش ِ نظر ہے، جائداد میں عورتوں کے حقوق پرشرمین عبید چنائے کے ساتھ مل کر پانچ  (5)دستاویزی فلمیں بنائی ہیں۔  عدالتی نظام میں خواتین کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی، شمیم ممتاز نے کہا کہ بالخصوص جائداد سے متعلق کیس طویل عرصے تک چلتے رہتے ہیں، خواتین کو مقدمات کے لا متناہی سفر میں متعدد پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے، شمیم ممتاز نے اسپیڈی کورٹس کا قیام عمل میں لائے جانے کی اہمیت پر زور دیا۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR)کی رکن انیس ہارون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری عورتیں باہمت ہیں، انہیں بااختیار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ " سسٹم"  میں موجود خلاء کو پُر اور حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جائے، پالیسی بننا اور پھر اس پر عملدرآمد ہونا ناگزیر ہے۔ NowCommunities کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرحت پروین، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے عدنان خاصخیلی اورNCHRکے چندن کمار نے بھی ملتے، جلتے خیالات کا اظہار کیا۔