خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی، عملی اقدامات ضروری، اسلامی نظریاتی کونسل

  خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی، عملی اقدامات ضروری، اسلامی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        اسلام آباد (آن لائن)اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا  مظلوم ومقہورطبقہ  ہے جس کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی اور عملی اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔ شریعت اسلامی میں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ کا مسئلہ متعدد مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کی کارروائی کا حصہ رہا ہے۔ پہلی بار کونسل میں یہ معاملہ تب زیربحث آیا جب وزارت مذہبی امور نے مخنث بچوں کو وراثت میں حصہ دلانے کیلئے ”مسلم عائلی قوانین آرڈیننس (ترمیمی) بل کونسل کو ریفر کیا۔ کونسل نے اپنے اجلاس میں اس بل سے اتفاق کرتے ہوئے اسے شرعی احکام کی روشنی میں دوبارہ ڈرافٹ کرنے کی تجویز دی اور ساتھ میں مخنث افراد کو وراثت میں حقوق دلانے کے لیے طریقہ کار وضع کیا۔ آخری بار سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور داخلہ میں پیش کردہ مسودہ بل "مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ کا بل اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں زیرغور آیا۔ کونسل کے سامنے اس موضوع سے ملتے جلتے دیگر بلز بھی پیش کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا حکومت کی مخنث سے متعلق وضع کردہ پالیسی اور انسانی حقوق کمیشن کا تیار کردہ مسودہ بل بھی شامل ہیں۔ کونسل نے خواجہ سرا  کمیونٹی، نادرا، سماجی تنظیموں  اور ماہرین قانون وشریعت سے تفصیلی مشاورت کی اور اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ بل متعدد دفعات کے غیر شرعی ہونے کیساتھ ساتھ خواجہ سراء کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ کیلئے ناکافی ہیں۔ اس سلسلے میں کونسل کی طرف سے  بلوں کے مسودات پر شق وار تفصیلی ترمیمی سفارشات دی گئیں۔تاہم بعدازاں! اس موضوع پر جب باقاعدہ قانون سازی ہوئی، اور مئی ۸۱۰۲ء میں خواجہ سراؤں (کے حقوق کے تحفظ کا) ایکٹ، 2018منظور ہو ملکی قانون بن گیا، تو کونسل نے اپنی سفارشات میں جن خامیوں کی نشاندہی کی تھی ان کی طرف توجہ نہیں دی گئی تھی۔کونسل نے وزارت انسانی حقوق کے استفسار پر اس قانون کا جائزہ لیا اور قانون میں موجود خامیوں کے حوالے سے اپنی سفارشات وزارت قانون، وزارت انسانی حقوق اور وفاقی شرعی عدالت کو ارسال کردی ہیں۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ آج یہ قانون معاشرے میں زیر بحث ہے۔ ضروری ہے قانون میں ایسی جامع ترامیم لائی جائیں  جو شرعی احکام، آئین پاکستان کی عکاس، ٹرانس جینڈرز کے حقیقی مسائل کے ادراک پر مشتمل  ہوں اور قانون میں اس طبقے کے مسائل ومشکلات کے حل کیلئے راستے موجود ہوں۔
اسلامی نظریاتی کونسل 

مزید :

صفحہ اول -