کسٹم انٹیلی جنس ٹیموں کا آپریشن،12کروڑ کا سامان ضبط

کسٹم انٹیلی جنس ٹیموں کا آپریشن،12کروڑ کا سامان ضبط

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان (نیوز رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن(آئی اینڈ آئی)فیض احمدچدھڑ نے کہا ہے کہ آئی اینڈ آئی  ملتان ریجن کی ٹیموں نے تین روز میں 12 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سمگل شدہ 'نان کسٹم پیڈ سامان ضبط کیا ہے جو ملکی سطح پر ایک نیا ریکارڈ ہے۔ملتان ریجن کی ٹیموں کی بہترین کارکردگی کے نتیجے میں سمگلروں کے ٹھکانوں ' گوداموں اور ویئر ہاسز  پر چھاپے مارے گئے ہیں۔سمگلروں کے بین الاقوامی اور بین الصوبائی نیٹ ورک(بقیہ نمبر37صفحہ6پر)
 توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور آپریشنل ٹاسک فورسز تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر رہی ہیں۔گاڑیوں کی جعلی رجسٹریشن کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ضبط شدہ سامان اور گاڑیوں کی نیلامی کا عمل ڈرون سسٹم کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی فروخت پر ملک بھر میں اب تک 2 ہزار سے زائد پٹرول پمپس سیل کئیجا چکے ہیں۔وہ ملتان کسٹم آئی اینڈ آئی ریجنل آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ڈائریکٹر کسٹمز انٹیلی جنس محمد سعید اسد' ایڈیشنل کلکٹر ڈاکٹر ممتاز علی رضا چوہدری' اسسٹنٹ ڈائریکٹرز محمد علی آصف' علی توقیر' سپریٹنڈنٹس چوہدری سعید آصف' عدنان خان چانڈیو  بھی موجود تھے۔ڈائریکٹر جنرل آئی اینڈ آئی نے بتایا کہ ضبط شدہ سامان میں 2730 ٹائرز مالیت چار کروڑ 90 لاکھ روپے' 2085 کلوگرام چھالیہ مالیت 93 لاکھ روپے '3592 کلوگرام کپڑا مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے' 14576 کلو گرام خشک دودھ مالیت ایک کروڑ 75 لاکھ روپے' شیشہ فلیور 35 کلو گرام مالیت تین لاکھ پندرہ ہزار روپے غیر ملکی سگریٹ مالیت 63 لاکھ روپے'  نسوار مالیت33 لاکھ 60 ہزار روپے ' چائنہ سالٹ مالیت ایک کروڑ 27 لاکھ روپے آئی وی کینولا(30 ہزار پیس)مالیت تیس لاکھ روپے ' اسبغول 575 کلوگرام مالیت گیارہ لاکھ پچاس ہزار روپے ضبط کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسمگلروں کی ہر نئی حکمت عملی اور نئے نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیاب رہے ہیں بڑے پیمانے پر اشیا کی سمگلنگ کے بجائے منی ٹرکوں اور پسنجر بسوں کے ذریعے سمگلنگ کی کوشش کر رہے ہیں جب کے براہ راست سپلائی کے بجائے ملتان کے گوداموں اور نجی وئیر ہاسز میں اسمگل شدہ سامان اشیا اور گاڑیاں لا کر آگے بھجوائی جارہی تھیں۔ بگنگ کے اس نیٹ ورک کا قلع قمع کیا جا رہا ہے۔پرائم منسٹر نے تین سال میں ملک سے سمگلنگ کے خاتمے کا ٹاسک دیا ہے۔رواں مالی سال 23۔2022 میں  سمگلنگ میں 40 فیصد تک کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی معاونت اور سپورٹ کر رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے غیر قانونی پٹرول پمپس کے خاتمے کا ہدف حاصل کرلیا ہے مزید موثر اور مسلسل اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی)ملک بھر کے ایوان صنعت و تجارت' تجارتی و صنعتی تنظیموں ' ایسوسی ایشنز اور ٹریڈ باڈیز کی تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں سمگلنگ کی روک تھام اور سمگلروں کی سرکوبی کے لییانقلابی اقدامات  کر رہے ہیں۔ملکی صنعت و کے تحفظ اور کاروبار کے فروغ کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کام جاری ہے بد نام زمانہ سمگلرز کو بہت جلد قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔