" ہونٹوں پہ کبھی انکے میرا نام بھی آئے "استاد امانت علی خان کو ہم سےبچھڑے 48 برس بیت گئے

" ہونٹوں پہ کبھی انکے میرا نام بھی آئے "استاد امانت علی خان کو ہم سےبچھڑے 48 ...
سورس: @facebook

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیائے موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد امانت علی خان کو ہم سے بچھڑے 48 برس بیت گئے۔
تفصیلات کے مطابق کلاسیکی موسیقی میں ’سند‘ کا درجہ رکھنے والے شام چوراسی گھرانے کے استاد امانت علی خان کی 48 ویں برسی عقید ت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ابن انشا کی غزل "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" کو اپنی کانوں میں رس گھولتی آواز کے ساتھ گانے کے بعد جو شہرت انہیں ملی تو دنیا بھر میں موسیقی کو ایک نئی پہچان ملی. ان کی غزلیں اورگیت آج بھی مداحوں کے کانوں میں رس گھولتے  ہیں۔بھارتی پنجاب کے علاقہ ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے استاد امانت علی خان نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی اور اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کر گانا شروع کیا۔استاد امانت علی خان، استاد فتح علی خان جوڑی کی صورت میں پرفارم کرتے تھے۔قیام پاکستان سے قبل انہوں نے اپنے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا اورانکی خداد صلاحیت اور والد کی تربیت کے باعث انہوں نے کم عمری ہی میں ٹھمری اورغزل میں مہارت حاصل کر لی۔"ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے"، "موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے"،" مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے اور یہ آرزو تھی کہ تجھے گل کے روبرو کرتے" سمیت ان گنت گیتوں نے انہیں اپنے وقت کے ممتاز گلوکاروں کی صفوں میں لا کھڑا کیا۔یہ گیت ان کی فنی مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

"چاند میری زمیں پھول میرا وطن" اور "اے وطن پیارے وطن "جیسے ملی نغموں نے ان کی شہرت کو چار چاند لگائے لیکن" ابن انشا" کی غزل" انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" جب انہوں نے گائی تو جو شہرت انہیں ملی اس کی دوسری مثال ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔استاد امانت علی خان کو فنی خدمات پر حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔


واضح رہے کہ قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہوئے۔ فن موسیقی کے بے تاج بادشاہ 17 ستمبر 1974 کو باون برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے لیکن وہ اپنے فن کی وجہ سے آج بھی اپنے لاکھوں پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ وہ لاہور کے مومن پورہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

مزید :

تفریح -