رنجیت سنگھ کے مرتے ہی دربار خون کے پیاسے گروہوں میں بٹ گیا

رنجیت سنگھ کے مرتے ہی دربار خون کے پیاسے گروہوں میں بٹ گیا
رنجیت سنگھ کے مرتے ہی دربار خون کے پیاسے گروہوں میں بٹ گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد
قسط:47 
سکھ سرداروں کادھڑا لہناسنگھ مجیٹھیہ اور سندھانوالے سرداروں پر مشتمل تھا۔ سندھانوالے رنجیت سنگھ کے رشتہ دار تھے لیکن ڈوگروں کے جانی دشمن۔ ان دونوں دھڑوں کے آپس کے جھگڑے رنجیت سنگھ کی زندگی میں دبے رہے لیکن اس کے انتقال کے بعد وہ کنٹرول سے باہر ہو گئے۔ ہندو برہمن امراءمیں سب سے نمایاں راجہ دینا ناتھ تھاجو وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز تھا۔ 2 مسلمان بھائی فقیر عزیز الدین اور فقیر نور الدین تھے یہ دونوں فارسی جانتے تھے اس لیے باہر کی حکومتوں کے ساتھ خط و کتابت اور بات چیت میں رنجیت سنگھ ان کی مدد لیتا تھا۔ یورپی جرنیل ونتورا اور اویتابیل وغیرہ نوکری کرنے اور مال کمانے آئے تھے۔ ان کا اس سرزمین سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں تھا اور نہ ہی یہاں کوئی مستقبل۔ 
دربار میں موجود ایک دوسرے کے ساتھ رقابت میں مبتلا ان 5 دھڑوں کو رنجیت سنگھ نے اپنی ذہانت سے جوڑ کر رکھا ہوا تھا۔ ان کی قومیں، قبیلے اور مذہب جدا جدا تھے۔ رنجیت سنگھ کے دور میں یہی دربار رنگ برنگے پھولوں کا گلدستہ بنا رہا لیکن اس کے مرتے ہی وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے گروہوں میں بٹ گئے۔ ان کے خیالات اور گروہی مفادات میں اتنا فرق تھا کہ وہ حکومت کو درپیش آنے والے کسی بھی مسئلے کے بارے میں ایک رائے نہیں رکھتے تھے۔ چونکہ ہر بات کا فیصلہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کو کرنا پڑتا تھا۔ وہ عقل کل بھی تھا اس لیے انہوں نے کبھی بھی ملکی انتظامی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی زحمت نہ کی تھی۔ وہ صرف بادشاہ کے غلام تھے۔ ان میں مفادات حاصل کرنے کے لیے مہم جوئی کا جذبہ موجود تھا لیکن پنجابی ریاست کے دفاع اور اپنی سرزمین سے محبت گہری جڑیں نہیں رکھتی تھی۔ 
کیونکہ رنجیت سنگھ سول سروس کی اچھی مشینری نہیں بنا سکا تھا اس لیے کئی ایک انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے بھی فوج کو استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کی ایک مثال مالیہ کی وصولی ہے۔ اس مقصد کے لیے دور افتادہ علاقوں میں فوج بھیجنا معمول بن گیا تھا۔۔ اس کے نتیجے میں فوج کو اپنی اہمیت کا احساس ہونے لگا اور ملکی معاملات میں اس کا اثر بڑھتا چلا گیا۔ رنجیت سنگھ نے تو فوج کو نکیل ڈالے رکھی لیکن اس کے مرنے کے بعد وہ بے لگام ہو گئی۔ حالات اس قدر دگرگوں ہو گئے کہ ہر دو تین سالوں کے بعد مالیہ کی وصولی کے لیے کہیں نہ کہیں فوج بھیجنا ضروری ہو جاتا تھا۔ فوج اپنی ہی قوم کو رگیدتی تھی۔ 
مہاراجہ نے مالیہ کی وصولی کا پرانا طریقہ رائج رکھا یعنی مختلف علاقے جاگیرداروں کو ٹھیکے پر دینے کا طریقہ۔ اس نظام کی خرابی یہ تھی کہ اگر بادشاہ نیک، رحمدل اور خداترس ہوتا تو مالیہ وصول کرنے والے ٹھیکیدار کسی قدر انصاف سے کام لیتے۔ اس کے برعکس اگر بادشاہ نااہل یا ظالم ہوتا تو ٹھیکیدار لوٹ مچا دیتے اور جتنا چاہتے مالیہ وصول کرتے۔ کچھ رقم سرکاری خزانے میں جمع کر کے باقی خود ہضم کر لیتے۔ 
رنجیت سنگھ کے دور میں سرکاری زبان فارسی ہی رہی جس طرح غیر ملکی حکمرانوں کے دور میں تھی۔ یہ سمجھنا کہ راجہ رنجیت سنگھ کو پنجابی زبان اچھی نہیں لگتی تھی غلط ہے۔ مہاراجہ نہ صرف پنجابی بولتا تھا بلکہ پنجابی شعراءکی سرپرستی بھی کرتا تھا۔ اسے جنگی مہمات سے فرصت ملتی تو وہ پنجابی زبان کی ترویج و ترقی کے اقدامات عمل میں لاتا۔ صرف اس کی مہر پر دیسی زبان کے الفاظ ”اکال سہائے“ کندہ تھے یعنی خدا مددگار ہو۔ باقی کارروائی فارسی زبان میں ہوتی تھی جسے منشیوں کے سوا کوئی دوسرا نہیں سمجھتا تھا۔اسی لیے پنجابی میں محاورہ بن گیا کہ ”آب ، آب کر موئی بچہ فارسیاں گھر گالے“۔فوج کے سپاہیوں کا ان منشیوں کے ساتھ روزاول سے جھگڑا تھا۔ وہ تنخواہ کے طور پر رقم دیتے کچھ تھے اور لکھتے کچھ تھے۔ بدیسی زبان کی بالادستی کی سزا اہل پنجاب آج تک بھگت رہے ہیں۔ 
 اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود رنجیت سنگھ ا یک وسیع النظرحکمران تھا۔ پنجاب کی ساری تاریخ میں اس سے بڑا سیاستدان اور منتظم دیکھنے میں نہیں آتا۔ وہ اپنے ہمعصر تمام ہندوستانی راجوں، مہارجوں، عاملوں اور گورنروں سے بلند ہے۔ جملہ خامیوں کے باوجود رنجیت سنگھ نے 40 سال تک حکومت کی۔ یہ اس کی دانائی، قابلیت، اور جھگڑے نمٹانے کی بے مثال اہلیت کا نتیجہ تھا۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد اس کا قائم کیا ہوا سارا حکومتی نظام ریت کا گھروندا ثابت ہوا۔ اس کے مرنے کے فوراً بعد درباریوں کے آپس کے وہ اختلافات جو اس کی زندگی میں دبے رہے تھے۔ اختیار سے باہر ہو گئے۔ ڈوگروں کے دھڑے اور سندھانوالے سرداروں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ ( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -