زرداری کا چالاک بیٹا 

 زرداری کا چالاک بیٹا 
 زرداری کا چالاک بیٹا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 بلاول بھٹو کو بے نظیر بھٹو کے بیٹے کے طور پر دیکھیں تو معصوم اور آصف زرداری کے بیٹے کے طور پر دیکھیں تو چالاک دکھائی دیتے ہیں۔ لاہور میں اپنی پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس میں ایک طرف نون لیگ کو اسٹیبلشمنٹ کی کارندہ جماعت قراردیا تو دوسری طرف پی ٹی آئی کو پلڑے کے دوسرے ترازو میں ڈال کر خود چالاکی سے ترازو کا تول پکڑ کر کھڑے ہوگئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نون لیگ نے پیپلز پارٹی کو پنجاب سے بے دخل کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا تو خود اسے پی ٹی آئی کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایسا لگتا ہے کہ بلاول بھٹوکو اپنی تاریخ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ 2018کے انتخابات سے قبل مال روڈ پر طاہرالقادری کے جلسے میں عمران خان کے ساتھ سٹیج آصف زرداری نے شیئر کیا تھا ۔ اب اگر پی ٹی آئی تب اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی تھی تو بلاول صاحب کے والد صاحب وہاں کس کے کہنے پر گئے تھے ۔ اسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ بلاول بی بی کے معصوم اور زرداری کے چالاک بیٹے ہیں ۔ اپنے نانا اور اپنی والدہ کی طرح ان کا دل بھی انتقام کی آگ میں دہک رہا ہے ۔ وہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور عوام سے بیک وقت انتقام لینا چاہتے ہیں جبکہ ان کے والد آصف زرداری کا ایسا کوئی مسئلہ نہیں لگتا۔ اس کے برعکس جناب زرداری کا مطمع نظر انتقام نہیں اقتدار محسوس ہوتا ہے جس کے لئے وہ وقت وقت کے حساب سے بیانیہ بدل لیتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر یہی آصف زرداری تھے جو عمران خان کے 2014کے دوران دبئی سے واپس پاکستان پہنچے تو ان کے جیالوں کا خیال ہی نہیں بلکہ اصرار تھا کہ زرداری صاحب بھی عمرا ن خان کے کنٹینر پر جا چڑھیں اور اگلے دن کا سورج طلوع ہونے سے قبل میاں نواز شریف کا دھڑن تختہ کردیں۔ تاہم یہ دیکھتے ہوئے کہ جنرل راحیل کا جھکاﺅ نواز شریف کی جانب ہے ، جناب زرداری ڈی چوک کی بجائے جاتی عمرہ جا پہنچے جہاں ان کا کھانے کی چالیس ڈشوں کے ساتھ سواگت کیا گیا۔ 
بلاول کی سیاست اپنے نانا اور والدہ کی طرح شہادت اور تصادم سے عبارت ہے جبکہ جناب زرداری مفاہمت کے بادشاہ کہلاتے ہیں اور ابن الوقت قسم کا رویہ رکھتے ہیں ۔ ایک وقت میں وہ شریف فیملی کے ساتھ نسلوں کا ساتھ نبھانے کی باتیں کرتے پائے جاتے ہیں تو دوسری جانب بتارہے ہوتے ہیں کہ وعدے قرآن اور حدیث نہیں ہوتے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اب بلاول نے میڈیا سے کہہ دیا ہے کہ وہ آصف زرداری کے خیالات کے جوابدہ نہیں ہیں ، ان کی باتوں کا جواب انہی سے لیا جائے۔ گویا کہ باپ بیٹے نے اپنی اپنی سیاست کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اگرچہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی گڈ کوپ اور بیڈ کوپ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئے ہیں لیکن کیا بلاول بھٹو میں اتنی ہمت ہے کہ وہ نواز شریف کی طرح چار جرنیلوں سے براہ راست ٹکر لیں اور اس کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ چونکہ بلاول ابھی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر متمکن نہیں ہوئے ہیں اس لئے ابھی ان کے بارے میں ایسا کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ وہ نواز شریف کی طرح جرنیلوں سے ٹکر لینے کا حوصلہ نہیں رکھتے لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو ان کی والدہ نے وقت کے جرنیلوں سے مفاہمت کی تھی تو انہیں پاکستان میں داخل ہونے اور سیاست کرنے کی اجازت ملی تھی، دیکھتے ہیں کہ بلاول اپنی راہ کیسے بناتے ہیں ۔
شہادت اور مفاہمت کا یہ تال میل ان دنوں پیپلز پارٹی میں ہی پایا جاتا ہے ۔ نون لیگ میں اگرچہ نواز شریف کو لڑاکا سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف بھی حالات کو بگاڑ کر بہترین سودے بازی کی سبیل نکالتے ہیں ، اسی لئے وہ چار جرنیلوں سے لڑ کر بھی بھٹو نہیں بن سکے، جبکہ بھٹو سے صرف ایک جرنیل نے لڑائی لی تھی اور بھٹو ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے تھے ۔ چنانچہ اگر نوا ز شہباز کو دیکھ کر بلاول بھٹو اور آصف زرداری نے گڈ کوپ اور بیڈ کوپ کا کھیل رچانے کی ٹھانی ہے تو انہیں دوہری بار سوچنا چاہئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی چال بھی بھول جائیں۔ 
پاکستانی سیاست اس وقت عجیب دوراہے پر کھڑی ہے ۔ تین بڑی سیاسی پارٹیاں عوام میں مقبول ہیں اور تینوں ہی انٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی دعویدار ہیں اور ایک دوسرے پر اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگاتے پائے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام چونکہ جمہوریت پسند ہیں اور آمریت کو پسند نہیں کرتے اس لئے وہ ان تینون کو سن رہے ہیں کیونکہ ان کے موقت میں قدرمشترک اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ ہے۔ اس صورت حال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان میں ایک چوتھی اسٹیبلشمنٹ نواز جماعت کے ابھرنے کی گنجائش ہے ؟ جناب جہانگیر ترین اس کوشش میں ہیں لیکن ان کا اور چودھری پرویز الٰہی کا ایک جیسا حال ہے کہ وہ آمریت کے برگد تلے اگ توجاتے ہیں لیکن ایک خاص حد سے زیادہ نشوونما نہیں پا سکتے اگر کسی چوتھی جماعت کے ابھرنے کی گنجائش کو مان لیا جائے تو بلاول بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے احیاءکے لئے جو کوششیں کررہے ہیں اور جو کچھ کہتے پائے جارہے ہیں ، وہ اس میں حق بجانب ہیں ، وہ چاہے بی بی کے معصوم بلاول بن کریں یا زرداری کا چالا ک بیٹا بن کر!

مزید :

رائے -کالم -