پرویز مشرف اور اُن کے پیشرو جرنیل

پرویز مشرف اور اُن کے پیشرو جرنیل

  

پرویز مشرف کا پاکستان آنا اور انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کرنا ”سیاسی کساد بازاری“ کے ماحول میں کسی قدر ”گہماگہمی“ کا باعث بنا ہوا ہے ۔ سب سے بہتر تو یہ ہوتا کہ پرویز مشرف کو جہاں جہاں سے وہ چاہتے ، انتخابات میں حصہ لینے دیا جاتا، پھر ہر جگہ سے جب وہ عبرتناک شکست کا داغ لے کر اور اپنی سیاسی خوش فہمی کے ساتھ ماضی کا حصہ بن جاتے تو ”خس کم جہاں پاک“ کہہ کر ان کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجانے پر تشکر کا اظہار کیا جاتا....لیکن پرویز مشرف کے بارے میں غیر معمولی توجہ اور غیر معمولی ردِ عمل کی غلطی کا نتیجہ ان کے اپنے حق میں تو جا تا دکھائی دے ہی رہا ہے ،لیکن آگے چل کر یہ نتیجہ قوم کے حق میں بہتر نہیں ہوگا، کیونکہ اگر وہ غیر فطری انداز سے انتخابات میں حصہ لینے سے محروم ہو گئے تو جہاں وہ یہ دعویٰ کر کے اپنی جگہ بنائیں گے کہ پاکستانی قوم ایک بار پھر سیاسی طور پر انہیں اپنے سر کا تاج بنانا چاہتی تھی، مگر کچھ مخصوص لوگ ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوگئے، وغیرہ وغیرہ ....وہیں انہیں سیاسی مظلوم بننے کا موقع بھی مل جائے گا اور سب جانتے ہیں کہ ہماری مظلوم قوم خواہ کسی کو اہمیت دے یا نہ دے، مگر ”سیاسی مظلوموں “کو کبھی مایوس نہیں کرتی۔

پرویز مشرف کو ان کی جگہ سنبھالنے والوں نے سرخ قالین بچھا کر ملک سے باہر کیوں جانے دیا تھا اور انہیں قابلِ مواخذہ شخص کے طور پر اپنے ہر اقدام کی جواب دہی کے لئے روکا کیوں نہیں گیا تھا؟ پھر سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے کی پرانی عادت کے تحت بڑھک بازی کیوں کی جاتی رہی؟ جب اس حوالے سے کسی نے کسی پر فردِ جرم عائد کر کے بروقت گرفت نہیں کی تو ان کے خلاف اب بےنظیر بھٹو قتل کیس، اکبر بگٹی کے قتل، لال مسجد آپریشن کے سانحہ، ججوں کی برطرفی اور آئین کو پامال کرنے جیسے بڑے واقعات پر کسی ٹھوس اور نتیجہ خیز کارروائی کے لئے نہ پہلے جیسا ماحول موجود ہے اور نہ ریاستی اور شخصی سطح پر سنجیدگی سے مواخذے کے لئے کوئی تیاری کی گئی ہے۔

پاکستان پر حکومت کرنے والے چاروں جرنیلوں کے ادوار پر سرسری نگاہ بھی دوڑائی جائے تو پتہ چل جائے گا کہ جرنیل کی حیثیت سے مناسب، بلکہ بہت مناسب وقت تک حکومت کر لینے کے بعد تمام صاحبان کے دل میں بطور سیاست دان حکومت کرنے کی تمنا بیدار ہو چکی ہے اور ”بہت نکلے میرے ارماںمگر پھر بھی کم نکلے“ کی طرز پر ہر جرنیل نے دل کی خواہش کے ساتھ ہاتھ اُٹھا کر انگڑائی لی ہے ۔ جنرل ایوب خان کا بنیادی جمہوریت کا نظام اور پورے ملک سے صرف 80ہزار اور دوسرے مرحلے میں ایک لاکھ 60ہزار کٹھ پتلیوں کو ”امیر المومنین“ منتخب کرنے کا حق دینا اور سیاست کو غلیظ چیز باور کراتے ہوئے اپنی سیاست کے لئے مسلم لیگ (کنونشن ) بنانا ، جس کے سیکرٹری جنرل ان کے چہیتے اور ہونہار وزیر ذوالفقار علی بھٹو بنے تھے۔ پھر جنرل یحییٰ خان کا 1970ءکے انتخابات کے بعد نتائج کے مطابق اقتدار منتقل کرنے سے انکار اور کسی حیلے بہانے سے اپنی شراکت منوانے کی جستجو، جس کے دوران انہوں نے ایک آئین تشکیل دے کر اُسے نافذ کرنے کی کوشش بھی کی۔

 یحییٰ خان کا یہ ”اسلامی جمہوری آئین“ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ٹیلی پرنٹرز کے ذریعے اخبارات کے دفاتر میں میزوں تک بھی پہنچا، مگر یہ اور بات کہ ”خوف فساد خلق“ کے تحت اچانک اسے خبر بننے سے روک دیا گیا اور 1970ءکی منتخب اسمبلی کی آئین ساز حیثیت کو برقرار رکھا گیا۔ اگر مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن ناکامی سے دو چار نہ ہوا ہوتا اور وہاں خانہ جنگی کے بعد 1971ءکی پاک بھارت جنگ نہ ہوئی ہوتی ، پھر سقوط ڈھاکہ کے بعدایک لاکھ سے زیادہ فوجی دشمن ملک کے قیدی نہ بنے ہوتے تو کیا یحییٰ خان آسانی کے ساتھ اقتدار سے دستبردار ہو سکتے تھے؟

اب آئےے تیسرے جرنیل حکمران ضیاءالحق کی طرف، جن کی دین داری کے ساتھ عاجزی و انکساری ضرب المثل تھی ، مگر کون بھول سکتا ہے کہ انہوں نے 1977ءکے انتخابات سے جنم لینے والے سیاسی انتشار اور بھٹو حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کی بنیاد پر صرف، اس لئے اقتدار سنبھالا تھا کہ غیر جانبدار نگران کی حیثیت سے مختصر اور مقررہ مدت میں انتخابات کے بعد حکومت منتخب ہونے والوں کے سپرد کر دیں گے، مگر پھر کیا ہوا؟ بلکہ کیا کیا نہ ہوا؟ ....”شاید سب کو یاد ہو ذرا ذرا “....جنرل ضیاءالحق جب آرمی چیف کی حیثیت سے لمبی مدت تک حکومت کر چکے تو انہوں نے اپنی سیاست کی بساط بچھائی اور غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی اسمبلی کے ذریعے ”ٹیسٹ ٹیوب بے بی“ کی طرح ایک سیاسی جماعت کو جنم دلوانے کا اہتمام کیا۔

جنرل پرویز مشرف ہمارے چوتھے فوجی حکمران رہے۔ ان کے اقتدار سنبھالنے کا جواز کیا تھا اور انہوں نے نواز شریف کی منتخب حکومت کا بوریا بستر لپیٹ کر اپنا تخت کیوں بچھایا؟ یہ بحث تاریخ کا حصہ ہے۔.... اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ پرویز مشرف نے کسی جواز کے بغیر مہم جوئی کی اور شب خون مار کر منتخب حکومت کا خاتمہ کیا، اس کے باوجود یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ اس دور کے بہت سے قد آور سیاسی قائدین نے پرویز مشرف کا خیر مقدم کر کے ان کے اقدام کی تعریف کی تھی، جس نے پرویز مشرف کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ نہ صرف بطور جرنیل لمبے عرصے تک حکومت کریں، بلکہ اس حکومت کے لئے ریفرنڈم، انتخابات اور سب سے بڑھ کر نئی طرز کے بلدیاتی نظام کی بےساکھیاں بھی مہیا کر لیں۔ پرویز مشرف نے اپنے پیشرو جرنیلوں.... ایوب خان اور ضیاءالحق.... کی طرح جیب کی گھڑی کے انداز کی سیاسی جماعت (قائد اعظم مسلم لیگ) بھی کھڑی کر دی تھی اور ایم کیو ایم کے سرپرست اعلیٰ کا غیر علانیہ کردار بھی ادا کر نا شروع کر دیا تھا اور سال ہا سال بغیر وردی حکومت کرنے کے ان کے عزائم پوشیدہ نہیں رہے تھے۔

 اس کے بعدبےنظیر بھٹو سے مفاہمت کی جس بازی کو وہ ”کمال “سے کھیلنے کے سبب ”شہ مات “ہونے تک اپنی جیت سمجھ رہے تھے، وہ بلا شبہ اُن کے لئے جیت ہوتی اور لمبے عرصے تک شراکتِ اقتدار کی ضمانت مہیا کرتی، مگر بدقسمتی سے 2007ءمیں، جیسا کہ خود انہوں نے اعتراف کیا، اعلیٰ عدلیہ کو زیر کرنے کا ایڈونچر انہیں لے ڈوبا۔.... پرویز مشرف کی طرح اگر ایوب خان جسمانی طور پر چست ہوتے اور یحییٰ خان ،ملکہ ترنم اور رانی جیسے کرداروں کے ساتھ محفلیں سجانے کے سبب مضمحل اور سقوط ڈھاکہ کے نتیجے میں قومی مجرم نہ ٹھہرائے گئے ہوتے ، جنرل ضیاءالحق اپنے رفقا¿ کار کے ساتھ فضائی حادثے کا شکار نہ بن گئے ہوتے تو شاید وہ بھی سیاسی حلقوں میں موجود اپنی حمایت اور آدابِ حکمرانی سے کما حقہ واقفیت کے سبب اسی طرح ”باقاعدہ“ سیاستدان بننے کی جستجو کرتے اور سیاسی جماعت بنا لیتے، جس طرح پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ق) پر تکیہ اور ایم کیو ایم پر بھروسہ کرنے کے بجائے بعد از اقتدار سیاسی جماعت بنا کر قیادت کا سب سے بہتر انتخاب ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

سندھی اخبار ”کاوش “نے 16اپریل کو قوم کی مظلومیت کا اظہار پرویز مشرف کے دعوے پر اداریہ لکھ کر کیا ہے۔ اخبار میں پرویز مشرف اور اصلی جمہوریت کا لطیفہ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ”اس نفسانفسی کے دور میں جب لطیفے بھی مہنگے ہوگئے ہیں، کبھی کبھی سیاستدانوں اور سابق آمروں کے بیانات عوام کو ہنسنے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں، ایسا ہی ایک بیان سابق آمر پرویز مشرف کا میڈیا کے توسط سے عوام تک پہنچا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اصلی جمہوریت مَیں نے ہی متعارف کرائی تھی “.... پرویز مشرف نے قریباً دس برس حکومت کی اور اب مزید حکومت کرنے کی خواہش ان کے دل میں بیتابی سے مچل رہی ہے اور وہ عتیقہ اُوڈھو ، لیلیٰ اور اداکارہ نور وغیرہ کی ٹیم کے ساتھ ہر خطرہ مول لے کر ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کی تڑپ کے ساتھ وطن واپس آگئے ہیں۔ اگر قوم کو ”خس کم جہاں پاک “ کے عنوان سے ان کا باب فطری انداز سے بند کرنے کا موقع نہ ملا اور پرویز مشرف اپنی خوش قسمتی اور قوم کی بد بختی سے ”سیاسی مظلوم “ بن گئے تویہ 2013ءکے انتخابات کا سب سے المناک پہلو ہوگا ، جبکہ پرویز مشرف جیسے کرداروں کے لئے پاکستان میں امریکی اور سعودی حکمرانوں کی آشیر باد بہت پہلے سے موجود ہے۔  ٭

مزید :

کالم -