بھوت کبھی مرتے نہیں

بھوت کبھی مرتے نہیں

  

آسیب زدہ افراد خبردار ہو جائیں.... بھوت کبھی مرتے نہیں.... چونکہ یہ دعویٰ بے حد پیچیدگی لئے ہوئے ہے ، اس لئے اس کی وضاحت ضروری ہے۔ سب سے پہلے ایک بات سمجھ لیں کہ بھوت کوئی بہت خوش باش مخلوق نہیں ہوتے ۔ایک بھوت ناانصافی کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے ، چنانچہ قبر سے باہر انتقام لینے کے لئے بے چین رہتا ہے، تاہم وہ بدلہ لینے کا معاملہ خدا پر نہیں چھوڑتا، بلکہ اپنے شکار، جب تک وہ زندہ ہے، کا پیچھا کرتا رہتا ہے.... جن لوگوں نے 1984 ء میں سکھ قوم کے خلاف لوگوں کے جذبات برانگیختہ کئے تھے، اُن میںسے زیادہ تر آج اس دنیا میں نہیں ہیں، اگر کچھ زندہ ہیں بھی تو معذور اور بڑھاپے کی بیماریوں کے شکار ہو ں گے۔ان واقعات پرہونے والی قانونی کارروائی لاحاصل رہی، کیونکہ اسٹبلشمنٹ نے قصورواروں کا تحفظ کیا، تاہم دو اہم شخصیات ایسی ہیں جو انتیس سال گزر جانے کے بعد بھی اُن بھوت نما یادوںسے چھٹکارا نہیں پا سکیں، ان شخصیات کو کانگرس ، جس نے ان انتیس برسوں میں سے اکیس سال حکمرانی کی ہے، کی طرف سے تحفظ اور ترقی دی گئی ۔ ان میں سے ایک ساجن کمار ہیں جواُس وقت پارلیمنٹ کے رکن تھے اور شاید اب تک بھی ہوتے اگر2009 ءمیں اُن کو سکھ صحافیوں کے غصے کا نشانہ نہ بننا پڑتا۔ دوسرے شخص جگدیش ٹیٹلر( Jagdish Tytler)ہیں جو کانگرس میں اونچا عہدہ رکھتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جو بھوت جگدیش ٹیٹلر کے تعاقب میں ہے، وہ اُ نہیں سکھ کا سانس نہیں لینے دیتا۔ جب کبھی مسٹر جگدیش قدرے اطمینان کا سانس لیتے ہیں، بھوت سراٹھانے لگتا ہے۔ ٹیٹلر کے پاس سکون کرنے کی وجہ بھی ہے، کیونکہ بھارت کے اعلیٰ ترین پولیس یونٹ، سی بی آئی ، کو اُ ن افسوس ناک واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے میں 23 سال لگ گئے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ٹیٹلر بے قصور ہے، تاہم عدالت کا شک دور نہیں ہوا ۔ دوسال بعد ،2009 ءمیں سی بی آئی نے اپنا پرانا بیان ہی دہرایا، جبکہ ناناوتی کمیشن نے ٹیٹلرکو قصوروارقرار دیا، تاہم، خوش قسمتی سے بھارت کوئی پولیس اسٹیٹ نہیںہے۔ سیشن کورٹ نے ایک مرتبہ پھر ٹیٹلر کو عوام کے سامنے لا کھڑا کیا۔

جب ٹیٹلرٹی وی کیمروں کے سامنے اپنا دفاع کرتے نظر آتے ہیں تووہ ایک منقسم شخصیت دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ ان کا بنیادی بیان غیر واضح ہے۔ اُنہوں نے ناناواتی کمیشن کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، بلکہ اپنے کندھے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا کہ اگر سی بی آئی کو کوئی ثبو ت نہیں ملا تو اس میں اُن کا کوئی قصور نہیںہےحد ہوتی ہے ڈھٹائی کی۔ جگدیش ٹیٹلر ،ان کے سرپرست اور ان کے دوست جو بات سمجھنے کے لئے تیار نہیں،وہ یہ ہے کہ اب انڈیا بہت بدل گیا ہے۔ اس تبدیلی کی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن شاید گجرات میں ہونے والے فسادات سب سے بڑے عامل تھے، اب ان پر پردہ ڈالنا ممکن نہیںہے۔

1984ءمیں راجیو گاندھی نے ایک ایسی تقریر ”پڑھ “ دی جو کسی ضرورت سے زیادہ ہوشیار بننے والے سرکاری افسر کی لکھی ہوئی تھی۔ اس تقریر میں فسادات کا جواز پیش کرتے ہوئے ایک استعارہ استعمال کیا گیا تھا کہ جب زمین ہلتی ہے تو ایک یا دو برگد کے درخت بھی اکھڑ جاتے ہیں، تاہم آج بھارت کے معروضی حالات میں کوئی بھی اس استعارے کو نہیں مانے گا۔ گجرات کے فسادات کے بعد سپریم کورٹ کی زیر نگرانی جوڈیشل انکوائری کی گئی ، جبکہ میڈیا نے بھی غیر معمولی طور پر تحقیقات کیں۔ اس کے نتیجے میں آج بہت سے نامی گرامی سیاست دان جیل میں ہیں۔ درست ہے کہ یہ ایک طویل، صبر آزما اور تھکا دینے والا عمل ہے، لیکن اس کا مقصد واقعے کے اصل ذمہ داروں سے بے گناہ افراد ، جو برسر ِ الزام آگئے تھے، کو الگ کرنا تھا۔ سانحہ¿ گجرات سے پہلے کوئی سیاست دان فسادات پھیلانے کی بنیاد پر جیل میں نہیں گیا تھا بلکہ ہمارے ہاں سیاست دانوں کو جیل بھیجنے کی کوئی روایت تھی ہی نہیں۔

گزشتہ پانچ دھائیوں میں ہونے والے ایسے سانحات کو یاد کریں1964 ءمیں جمشید پور، 1967 ءمیں رانچی، 1969 ءمیں احمد آباد،جب دوہزار افراد ہلاک ہوگئے اور 1983ء میں آسام، جب پانچ ہزارمسلمانوں کو ہلاک کر دیا گیا....(میں بطور اخباری نمائندہ جب اس واقعے کو کور کرنے گیا تو مَیں نے معصوم بچوں کی لاشیں قطاروں میں پڑی ہوئی دیکھیں۔ یہ ہولناک منظر میری یاد سے کبھی محو نہیںہوگا).... اُس وقت اندرا گاندھی وزیر ِ اعظم تھیں، جبکہ ہت شیوار سائیکیا(Hiteshwar Saikia) وزیر ِ اعلیٰ تھے۔ ان کا تعلق بھی کانگرس سے ہی تھا۔ کسی نے بھی سائیکیا سے استعفا دینے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ ان کی بطور ایک زیرک سیاست دان کے تعریف کی گئی۔ اس کے بعد 1989ء میں بھاگل پور میں ہونے والے فسادات میں ایک ہزا ر مسلمان ہلاک کر دئیے گئے۔ کانگرس کے وزیر ِ اعلیٰ بھگوات جہا آزاد کو ذمہ دار ٹھہرانا تو کجا، پولیس چیف کو بھی تبدیل نہ کیا گیا۔

سدھاکر راﺅ نائک مہاراشٹرا کے وزیر ِ اعلیٰ تھے، جب بابر ی مسجد کے انہدام کے بعد 1992-93 ءمیں ممبئی میں فسادات پھوٹ پڑے جو تین ماہ تک جاری رہے، اس سانحہ کی شری کرشنا کی طرف سے بنائی گئی رپورٹ میں جن افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، اُن کو کبھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ اُس وقت نرسیماراﺅ وزیر ِ اعظم تھے۔ یہ ایک طویل اور افسوس ناک فہرست ہے اور اخباری کالم اس کا متحمل نہیںہوسکتا.... لیکن آج کا بھارت مختلف ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ عوامی احتساب کا ڈر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سیاست دانوں کو جیل جانے کا بھی خوف ہو، لیکن وہ دراصل رائے دہندگان کی حمایت کھونے سے ڈرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آج بھارت کا موڈ بدل چکا ہے۔ بھارتی نوجوان ، جو دراصل اس تبدیلی کی وجہ ہیں، ماضی کو بھول جانا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کی جانچ کا پیمانہ کسی مذہبی فرقے کی نظروں میں پسندیدگی نہیں، بلکہ معاشی بہتری اور روزگار کی فراہمی ہے۔

اب یہ حقیقت سب جانتے ہیںکہ تشدد اور ترقی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ نوجوان ملازمتوں کے لئے ووٹ دیتے ہیں، اُن کو 1947ء یا اس سے پہلے پیش آنے والے واقعات سے کوئی سروکار نہیں.... اگر آپ انتخابی نتائج کی پیشین گوئی چاہتے ہیں تو آپ کسی نجومی سے بھی رجوع کرسکتے ہیں، لیکن اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ آپ ملک میں بے روزگاری اور بدعنوانی کی بڑھتی ہوئی شرح پر نظر رکھیں۔ یہ دو معاملات رائے دہندگان کے رجحان پر اثر اندازضرور ہوتے ہیں۔ یہی آج کی سب سے بڑی سیاسی حقیقت ہے.... (سرحد کے اس پار بھی یہی صورت ِ حال ہے)

آج کے ووٹر سیاست دانوں کی بدعنوانی سے آگاہ ہےں اور وہ اسے چوری سمجھتے ہیں۔ یہ چیز اُ نہیں شدید مشتعل کر دیتی ہے کہ یہ اُن کا پیسہ تھا، اُن کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی قومی آمدنی تھی، جسے لوٹ لیا گیا ہے۔ آج قوم کو حکومت نہیں، ووٹر تشکیل دیتے ہیں۔ حکومت تو عارضی طورپر ریاست کے معاملات کا انتظام چلانے کے لئے قائم کی جاتی ہے....تاہم سیاست کے بارے میں ایک اور سچائی یہ ہے کہ اس میںکوئی چیز بھی حتمی سچ نہیں ہوتی ، تاہم وہ معروضہ جسے عوام درست سمجھ لیں، انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوجاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ابھی بر ِ صغیر کی سیاست میں ذات اور فرقے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ پرانے نظام کے خاتمے کے آثار ہویدا ہیں اور تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے۔ بھارتی افق پر ایک نئی صبح طلوع ہونے کو ہے۔ جب پرانا نظام ختم ہوجائے گا تو شاید بھوت بھی اپنی اپنی قبروں میں آرام کرنے چلے جائیں گے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔     ٭

مزید :

کالم -