جمہوریت پر شبخو ن مارنے والوں کا راستہ روکیں

جمہوریت پر شبخو ن مارنے والوں کا راستہ روکیں

  

اگر اِس مفروضے کو درست مان لیا جائے کہ چند نادیدہ قوتیں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں انتخابات کا انعقاد روکنا چاہتی ہیں، تو پھر ہمیں من حیث القوم کیا کرنا چاہئے؟.... مَیں اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ اگر کسی وجہ سے بھی انتخابات ملتوی کئے گئے تو ہم ایک ایسے منجدھار میں پھنس جائیں گے، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ صرف طالبان کے مفروضے کو دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا ذمہ دار قرار دے کر ہم حالات سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے۔ سوال یہ ہے کہ طالبان انتخابات کیوں ملتوی کرانا چاہتے ہیں؟ کیا اس وقت جو نگران حکومتیں ہیں، اُ ن کا جھکاﺅ طالبان کی طرف ہے،جسے برقرار رکھنے کے لئے وہ انتخابات نہیں چاہتے؟ اس کے برعکس زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں مقبولیت کے لحاظ سے بلندیوں کو چھوتے ہوئے رہنما عمران خان مسلسل دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے پاکستان کو نکالنے کی بات کر رہے ہیں۔ اُ ن کا ہمیشہ سے یہ نظریہ رہا ہے کہ اگر امریکی ڈرون حملے رُک جائیں اور پاکستان امریکیوں کے چنگل سے نکل آئے تو دہشت گردی خودبخود ختم ہو جائے گی۔

 دوسری طرف محمد نواز شریف ڈرون حملوں کے خلاف ہیں اور اُ ن پر تو یہ الزام بھی لگتا ہے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ دو بڑی جماعتوں کی اس پالیسی کے بعد یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہوتی کہ طالبان پاکستان میں انتخابات ملتوی کرانے کے لئے دہشت گردی کر رہے ہیں.... جو خفیہ ہاتھ اس نظریے کو عام کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کی فضا میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، ان کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں ہو گا کہ انتخابات نہ ہونے سے کیا دہشت گردی رُک جائے گی؟ اس وقت جس طرح کی لولی لنگڑی نگران حکومتیں موجود ہیں، کیا اُ ن کا تسلسل ملک کو کسی بحران سے نکال سکتا ہے؟

صرف ایک منتخب اور عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت ہی ہمارے ہر مسئلے کا حل ہے، لیکن یہی بات خطے میں موجود عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی، کیونکہ ایک منتخب حکومت کی نسبت غیر منتخب لوگوں سے معاملات طے کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اس میں تو کسی کو شبہ ہونا ہی نہیں چاہئے کہ پاکستان میں پچھلے13سال سے جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اِس کا تعلق خطے میں عالمی طاقتوں کے تسلط کی جنگ سے ہے۔ پاکستان میں ریمنڈ ڈیوس جیسے سی آئی اے کے ایجنٹ جیسے جیسے جو گل کھلاتے رہے، وہ بہت سی گرہیں کھول دیتے ہیں.... شیر آیا، شیر آیا، کی طرح طالبان آئے، طالبان آئے، کا ورد کرنے والے سوائے یہ بیان دینے کے، کہ دہشت گردوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے اور کرتے ہی کیا ہیں۔45ہزار سے زائد پاکستانی اس دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں۔ امریکہ خود دطالبان کے ساتھ قطر میں مذاکرات کی میز پر آ جاتا ہے، یہاں پاکستان میں ایسے عمل کی حمایت نہیں کرتا۔ اگر امریکیوں کو ذرا بھر بھی یہ شبہ ہوا کہ پاکستان کے انتخابات میں امریکی جنگ کے مخالف جیت جائیں گے، تو وہ انتخابات نہیں ہونے دے گا۔ امریکیوں کے لئے ایک84سالہ بوڑھے نگران وزیراعظم سے معاملہ کرنا آسان ہے، عمران خان یا محمد نواز شریف جیسے مقبول لیڈر سے اپنی شرائط منوانا انتہائی دشوار۔

مَیں الطاف حسین کی بات نہیں دہرا رہا، لیکن عملاً حقیقت یہی ہے کہ سوائے پنجاب کے باقی تینوں صوبوں میں امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ پشاور، سوات، کراچی اورکوئٹہ میں پیش آنے والے واقعات اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ ان واقعات کے پس پردہ جو قوتیں بھی ملوث ہیں، اُ ن کا مقصد انتخابات کے حوالے سے ایک مخدوش فضا پیدا کرنا ہے، کیونکہ صرف ایسے اجتماعات یا شخصیات کو ہدف بنانا، جن کا تعلق عام انتخابات سے ہے، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے خفیہ ہاتھ سرگرم ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال میں نگران حکومتوں، الیکشن کمیشن اور خود سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری کیا ہونی چاہئے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس اہم ترین ایشو پر کوئی متفقہ لائحہ عمل دیکھے میں نہیں آ رہا۔ فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ نگران وفاقی حکومت فوری طور پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا ایک اجلاس بلائے، جس میں چیف الیکشن کمیشن بھی شریک ہوں۔

اس اجلاس میں باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا جائے کہ الیکشن کے بروقت انعقاد کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ اس اجلاس میں بدلے ہوئے حالات کے مطابق انتخابی مہم کے لئے بھی کوئی ضابطہ ¿ اخلاق منظور کیا جا سکتا ہے، جس میں کم سے کم عوامی اجتماعات پر اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے۔ اگر سیکیورٹی پر مامور ادارے اتنے بڑے پیمانے پر انتخابی سرگرمیوں کی سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے، تو اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لینی چاہئے۔ عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ کون سی جماعت کیا پروگرام رکھتی ہے، اسی طرح امیدوار بھی عوامی اجتماعات کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار کرنے کی بجائے پبلسٹی کے مختلف ذرائع کو بروئے کار لا کر اپنا پیغام ووٹروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ڈور ٹو ڈور کنویسنگ کا طریقہ بھی ہمیشہ سے کارگر رہا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انتخابات کے تمام فریقوں کو حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ایسا راستہ اختیار کرنا چاہئے،جو جمہوریت کو بند گلی میں نہ لے جاتا ہو۔ حکومت، سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن کی اِسی قومی کانفرنس میں اس بات کا دو ٹوک اعلان بھی کیا جائے کہ حالات چاہے کیسے بھی ہوں، انتخابات ہر صورت میں 11مئی 2013ءکو ہوں گے اور ایک دن کا التواءبھی نہیں کیا جائے گا، اس سے سازشی عناصر اور قوتوںکو ایک واضح پیغام ملے گا اور عوام کے ذہنوں پر شکوک و شبہات کے جو بادل چھائے ہوئے ہیں ، وہ بھی چھٹ جائیں گے۔

آج کے حالات میں کہ جب میڈیا کے اَ ن گنت ذرائع موجود ہیں؟ یہ بات زیادہ اہم نہیں کہ انتخابی مہم کیسے چلائی جائے؟ اہم بات یہ ہے کہ پولنگ کے روز ایسے حالات کیونکر پیدا کئے جائیں کہ ووٹر تحفظ اور سہولت کے ساتھ اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔ انتخابی جلسوں اور امیدواروں کو نشانہ بنانے والے یقینا یہی چاہتے ہیں کہ ووٹروں کو اس حد تک خوفزدہ کر دیا جائے کہ وہ اپنا ووٹ ڈالنے پولنگ سٹیشن جانے کا سوچے بھی نہ۔ جمہوریت اور ملک دشمنوں کی اس سازش کو ناکام بنانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف امیدوار اور سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی سرگرمیوں کو محدود کریں اور دوسری طرف نگران حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ سیکیورٹی کے حتی الاامکان اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

 یہ مرحلہ بخیرو خوبی طے ہو جائے، تو پولنگ ڈے پر امن و امان برقرار رکھنے کا ایک فول پروف نظام ترتیب دیا جائے۔ اس میں فوج سے قدم قدم پر مدد لی جائے۔ اگر پولنگ سٹیشن پر بھی فوجی تعینات کرنے کی ضرورت پڑے تو دریغ نہ کیا جائے، کیونکہ یہ قوم کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں حالت ِ جنگ میں بھی ملتوی نہیں کیا جانا چاہئے۔ ہم اگرچہ ایک غیرا علانیہ جنگ کی لپیٹ میں ہیں، تاہم قوم جن بحرانوں میں گھری ہوئی ہے، اُ ن سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ملک میں انتخابات ہوں اور عوام کے مینڈیٹ سے ایک نئی منتخب جمہوری حکومت معرض وجود میں آئے، جو قومی مفاد میں جرا¿ت مندانہ فیصلے کر سکے۔ اس وقت قوم انتخابات کے ذریعے تبدیلی لانے کا عزم لئے ہوئے ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ بروقت انتخابات ہوں۔ انہیں ناکام بنانے کے لئے تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہو جانا چاہئے تاکہ شب خون مارنے کا ارادہ رکھنے والوں کو کوئی ایسا راستہ نہ ملے،جسے قومی مفاد کا لبادہ پہنا کر جمہوری عمل کی بساط لپیٹ دی جائے۔   ٭

مزید :

کالم -