پشاور کے جلسے میں روزنامہ ”پاکستان“ کے کارکن کی شہادت

پشاور کے جلسے میں روزنامہ ”پاکستان“ کے کارکن کی شہادت

  

پشاور میں اے این پی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور کے انتخابی جلسے پر خود کش حملہ ہوا۔ اس میں کم و بیش 20 افراد جاں بحق ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ اموات کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔ اس خود کش حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں روزنامہ ”پاکستان“ کے سب ایڈیٹر طارق اسلم درانی بھی ہیں، جبکہ نیوز ایڈیٹر زخمی ہوئے ہیں۔ طارق اسلم ایک محنتی کارکن صحافی تھے جو اپنے پیشہ وارانہ تجسس کے باعث جلسہ گاہ گئے تھے۔ ان کی شہادت ان سینکڑوں صحافیوں میں شامل ہوئی، جو اس انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے مالکان اخبارات، ایڈیٹر حضرات اور صحافیوں کی تنظیموں نے ہمیشہ احتجاج اور مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں امن بحال کیا جائے اور صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں تحفظ دینے کا اہتمام کیاجائے۔

طارق اسلم درانی کی شہادت پر صحافتی برادری شدید رنج و غم میں مبتلا ہے، خصوصاً روزنامہ ”پاکستان“ کے تمام دفاتر کے ملازمین شہید کے پسماندگان کے غم میں شریک ہیں۔ ان کی نماز جنازہ میں صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ لاہور سے ڈائریکٹر روزنامہ ”پاکستان“ علی شامی اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر نعیم مصطفی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ادارے کی طرف سے پسماندگان کے لئے ایک لاکھ روپے نقد امداد دی، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں بھی پسماندگان کے لئے معقول مالی اعانت فراہم کریں تاکہ اہل خانہ کی دل جوئی ہو سکے۔          ٭

مزید :

اداریہ -