سیاسی قیادت انتخابات کو سبوتاژہونے سے بچائے

سیاسی قیادت انتخابات کو سبوتاژہونے سے بچائے

  

انتخابی مہم جاری ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹکٹ دینے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور اپیلوں وغیرہ کی سماعت کا کام تقریباً ختم ہو ا، جس کے بعد مختلف امیدوار عوامی رابطہ مہم کا کام زورشور سے کرنے کے پروگرام رکھتے ہیں۔لیکن ملک کے مختلف علاقوں با لخصوص خیبرپختونخوامیں امیدواروں کے انتخابی جلسوں اور جلوسوں پر بم پھینکنے اور خود کش حملوں کی شرمناک وارداتوں نے پوری قوم کو اداس اور پریشان کردیا ہے۔تازہ خبروں کے مطابق پشاور میں اے این پی کے جلسے پر خود کش حملے سے اٹھارہ افراد جاں بحق ا ور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ، خضدار میں دہشت گردی کی واردات میں ثنااللہ زہری کے بھائی بیٹے اور بھتیجے سمیت سات افراد جاں بحق ہوئے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ دہشت گرد اور دشمن کے آلہ کار ہماری بہادر سپاہ پر بھی مسلسل حملے کررہے ہیں ۔اسی ایک روز میں میرانشاہ میں فوجی گاڑی پر بارودی سرنگ حملے میں سات جوان شہید اور بارہ زخمی ہوگئے جبکہ اورکزئی میں جھڑپ کے دوران گیارہ جنگجو ہلاک کردئیے گئے۔ ڈبوری میں بھی دوگھنٹے تک دہشت گردوں سے جھڑپ کے بعد ایک جوان شہید ہو گیا ، یہاں سے متعدد بارودی سرنگیں برآمد ہوئیں۔اسی طرح خیبر ایجنسی میں چوکی اور ٹانک میں پولیس گاڑی پر بم حملہ کیا گیا جس سے دس اہلکار زخمی ہوگئے۔دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔

یہ ساری صورتحال قوم کے لئے تشویشناک اور دکھ کا باعث ہے ۔بالخصوص پشاور میں اے این پی کے انتخابی جلے پر خود کش حملے سے شہر میں کہرام مچا رہا، اس حملے میں اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور اور ہارون بلور بھی زخمی ہوگئے۔جاں بحق ہونے والوں میں پولیس کے ایک ایس ایچ او اور پانچ اہلکار بھی شامل ہیں۔ بہت سے رہنماﺅں اور تجزیہ نگاروں کی طرف سے سرحد اور بلوچستان کے واقعات کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا گیا ہے۔ان حملوں پر جہاں ملک بھر کے سیاسی قائدین نے افسوس کا اظہار کیا ہے وہاں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، کیونکہ ایسا کرنا ملک کے لئے انتہائی مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔میاں نواز شریف نے امیدواروں پر حملوں کو انتخابات ملتوی کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ اے این پی کی قیادت نے جہاں سیکورٹی نہ دینے پر صوبائی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے وہاں یہ بھی کہا ہے کہ وہ میدان نہیں چھوڑیں گے ، انتخابات میں ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی نہیں ہونی چاہئے۔

وطن عزیر کئی برس سے سرحد پار سے شروع کرائی گئی دہشت گردی کی زد میں ہے ۔خیبرپختونخوا میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ دہشت گرد حملوں کا یہ سلسلہ اب انتخابات کے قریب پہنچ کر اور بھی تیز ہو چکا ہے۔جبکہ امید کی جارہی تھی کہ انتخابات سے پہلے وفاقی حکومت طالبان سے مذاکرات کے بعدملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے موثر اقدامات کر ے گی۔اس مقصد کے لئے پہلے اے این پی اور اس کے بعد جمعیت العلمائے اسلام(ف) نے کل جماعتی کانفرنس بھی بلائی جس میں حکومت سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے کہا گیا۔لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا۔ سیاسی قیادت کی عمومی رائے یہی تھی کہ جو لوگ پاکستانی حکومت کی افغانستان کے سلسلے میں امریکہ نواز پالیسیوں سے نالاں ہیں کم از کم انہیںمذاکرات کے ذریعے راہ راست پر لانا بہت مشکل نہیں ہے۔ان کے بعد دوسرے فرقہ پرست گروہوں پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش سے حالات معمول پر آنے کی جو توقع پیدا ہو گئی تھی وہ وفاقی حکومت کی سرد مہری کی بنا پر پوری نہ ہوسکی۔جبکہ سب کو معلوم تھا کہ اگر ملک میں امن و امان قائم نہیں ہوتا تو اس صورت میں منصفانہ، شفاف اور غیر جابندارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا ۔یہ بھی واضح طور پر محسوس کیا جا رہا تھا کہ لوٹ مار میں مصروف حکمران اس غیر یقینی صورتحال کو دانستہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ پرامن فضا میں منصفانہ انتخابات ممکن نہ رہیں،وہ جنہوں نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت کے دوران عوام کوصرف مصائب سے دوچار کیا ہے وہ اسی بدامنی اور غیر یقینی کی فضا میں اپنے لئے دھاندلی کے راستے تلاش کر نا چاہتے تھے ۔

ایک مضبوط امید یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومتوں نے کراچی اور دوسری جگہوں پر پولیس میں جس طرح سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں اور ترقیاں کی ہیں اور جس طرح پولیس کے لوگ اپنے سیاسی آقاﺅں کی خوشنودی کے لئے بھتہ خوروں اور لٹیروں کوتحفظ دے رہے ہیں ،وہ تحفظ نگران حکومتوں کے دور میں ختم ہو جائے گا،جس کے بعد امن وامان کی صورتحال بہتر ہو جائے گی-لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔اس کی راہ میں نگران حکومتوں کا محدود وقت ، زمینی حقائق سے پوری شناسائی نہ ہونا اور بڑے پیمانے پر تبادلوں کے بعد بیوروکریسی کو اپنی نئی جگہوں پر حالات پر قابو پانے میں مشکل کا سامنا اور تمام تر تخریبی اور دہشت گرد تنظیموں کا اپنی جگہ مسلسل موجود اور سرگرم رہنا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت تمام جمہوریت دشمن طاقتیں اپنی پوری قوت اور وسائل کے ساتھ جمہوری عمل اور انتخابات کو ناکام کرنے کے لئے سرگرم ہوچکی ہیں۔ہمارا دشمن بھی جانتا ہے کہ اگر وہ ہمارے عام انتخابات کو ناکام بنا دے تو اس سے وہ ہمارے حالات کو مزید خراب کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں کل جماعتی کانفرنس طلب کر لی گئی ہے۔صوبائی سطح پر ضروری مشاورت اور انتظامات کے علاوہ قومی سطح پر بھی اس وقت ایک کل جماعتی کانفرنس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جس میں دہشت گردی کی موجودہ سرگرمیوں کے خلاف متحدہ طور پر پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے علاوہ ضروری انتظامات اور انتخابی مہم کے لئے ایک مشترکہ ضابطہ اخلاق پر اتفاق رائے کیا جائے گا۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران اگر رابطہ عوام کے لئے جلسے اور ریلیاں نہ کریں تو حلقے میں ان کی ہوا اکھڑنے لگتی ہے انہیں بزدلی کا طعنہ دیا جاتا ہے ، لوگ جلسے جلوس کرنے والوں ہی کی پوزیشن مضبوط سمجھ کر ان کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں۔لیکن اس وقت حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنے جلسے جلوسوں کی تعداد میں ممکنہ حد تک کمی پر اتفاق رائے کریں۔ہر حلقے میں ایک ہی مقام پر تمام امیدواروں کی تقریریں ہو جائیں اور ا س کے بعد امیدوار، صرف پمفلٹوں، اور میڈیا کے ذریعے اپنے پروگرام کو متعارف کرانے کا سلسلہ جاری رکھیں ۔

پولنگ کے اہم دن امن و امان قائم رکھنے اور ووٹرز کا ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنے کے لئے بھی سیاسی جماعتیں اپنے رضاکاروں کی ٹیمیں منظم اور ٹرینڈ کریں ۔اس کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کی نوعیت پر بھی اتفا ق رائے کیا جائے ۔اس وقت جو لوگ انتخابات کے میدان میں موجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ ان کا اپنے مد مقابل سے بھی زیادہ مقابلہ اس وقت ان قوتوں سے ہے جو ہرممکن طریقے سے پاکستان کے آئندہ اتخابات کو ناکام بنا دینا چاہتے ہیں ۔ان کے عزائم کھل کر سامنے آچکے ہیں ، آپس کے مقابلہ و مسابقت سے بھی پہلے ان کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس ضرورت پر دھیان نہ دیا گیا تو موجودہ سیاسی قیادت قوم کو اپنے فہم و تدبر اور اخلاص سے مایوس کرے گی۔

سیاسی قائدین کی طرف سے اس وقت دہشت گردی کا متحد ہو کر مقابلے کرنے کے لئے کچھ نہ کیا گیا توپھر سب باتیں بے وقت کی راگنی ہوں گی ،جس کے لئے پھرشاید عوام بھی مزید حالات بگڑنے کے ڈر سے ان کا کوئی ساتھ نہیںدے سکیں گے-

مزید :

اداریہ -