قلعہ گجر سنگھ ڈسپنسری ویران ،گنداپانی ،ناقص سیوریج اہل علاقہ عوامی نمائندوں کے خلاف پھٹ بڑے

قلعہ گجر سنگھ ڈسپنسری ویران ،گنداپانی ،ناقص سیوریج اہل علاقہ عوامی نمائندوں ...
قلعہ گجر سنگھ ڈسپنسری ویران ،گنداپانی ،ناقص سیوریج اہل علاقہ عوامی نمائندوں کے خلاف پھٹ بڑے

  

لاہور (چوہدری حسنین/الیکشن سیل) پی پی 142میں واقع علاقہ قلعہ گجر سنگھ کے رہائشی گندے پانی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، میاں شہباز شریف کے ہاتھوں بننے والی ڈسپنسری کی بندش علاقہ میں ایمرجنسی کیلئے کسی ڈاکٹر کی عدم موجودگی، صفائی ودیگر ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے اپنے امیدواروں اور عوامی لیڈروں کے خلاف پھٹ پڑے۔ روزنامہ ”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کے دوران علاقہ کے رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہاں کی ڈسپنسری 1995ءمیں میاں شہباز شریف نے بنوائی تھی اور اس بارے میں کہا گیا تھا کہ اس ڈسپنسری کو ڈبل سٹوری اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ یہاں پر ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹر کو اس کے اوپر ہی رہائش دی جائے تاکہ 24گھنٹے ڈاکٹر کی موجودگی کو یقینی بنایا جاسکے مگر بعدازاں میاں برادران کے جانے کے بعد اس ڈسپنسری کو مکمل طور پر بند کردیا گیا اور اس کے اوپر ڈاکٹر کی رہائش گاہ کو کسی اور ڈاکٹر کے نام الاٹ کردیا گیا اور سٹی گورنمنٹ اس سے کرایہ وصول کرتی رہی پھر شہباز شریف کی گورنمنٹ آنے پر اس کو فوری طور پر خالی کروالیا گیا اب یہ ڈسپنسری بے آباد پڑی ہے نہ ہی کوئی ڈاکٹر تعینات ہے اور نہ ہی کوئی دوائی وغیرہ رکھی گئی ہے۔ ہمارا وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اس ڈسپنسری کو ختم کرکے یہاں پرائمری سکول بنادیا جائے تاکہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے تعلیم ہی حاصل کرلیں جواد نے بتایا کہ یہاں ایک سیاسی شخصیت نے اپنے گھر کے سامنے ٹیوب ویل پر جنریٹر اور فلٹر پلانٹ لگوارکھا ہے مگر ہمارے علاقے میں فلٹر پلانٹ نہیں لگوایا گیا کیا یہاں کے لوگوں کو صاف پانی پینے کا حق حاصل نہیں جاوید ممتاز نے بتایا کہ یہاں گندگی کے ڈھیر جگہ جگہ لگے ہیں سینٹری ورکر اپنی مرضی سے آتا ہے اور لوگوں سے گھروں کا کوڑا اٹھانے کیلئے الگ سے پیسے لیتا ہے آصف علی نے بتایا کہ یہاں پر سیوریج کا نظام بہت خراب ہے اگر سیوریج بند ہوجائے تو کئی کئی دن سیوریج کھولنے کیلئے کوئی نہیں آتا جس کی وجہ سے علاقہ میں گندا پانی جمع ہوجاتا ہے یہاں سے گزرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں کے کوآرڈینیٹر کو لوگ پسند نہیں کرتے ساجد نے بتایا یہاں پینے کا گندا پانی آتا ہے کئی بار شکایت کی مگر کوئی سنتا ہی نہیں یہاں پر فلٹر پلانٹ دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں قاری شفیق نے بتایا کہ یہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی خطرناک لٹکتی تاروں کے بارے میں کئی بار واپڈا والوں سے کہا گیا مگر شاید وہ کسی بڑے حادثے کے انتظار میں رہتے ہیں۔

مزید :

الیکشن ۲۰۱۳ -