مقبوضہ کشمیر میں یتیم بچوں کی تعداد 2لاکھ 14ہزار ہو گئی‘ سیو دی چلڈرن

مقبوضہ کشمیر میں یتیم بچوں کی تعداد 2لاکھ 14ہزار ہو گئی‘ سیو دی چلڈرن

  

سرینگر (اے پی پی) بچوں کے حقوق کے بارے میں برطانوی تنظیم ” سیو دی چلڈرن“ نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یتیم بچوں کی تعداد تقریباً 2لاکھ 14ہزار ہے ۔ تنظیم نے کہا ہے کہ 37فیصدیتیم بچے ایسے ہیںجنہوں نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوںکو وہاں جاری تنازعے کی وجہ سے کھویا ہے، 55فیصد یتیم بچوں کے ماں باپ طبی موت مرے ہیںجبکہ باقی 8فیصد بچے دیگر وجوہات کے باعث یتیم ہوئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ” سیو دی چلڈرن“ نے یہ اعداد و شمار مقبوضہ علاقے کے چھ اضلاع میں جمع کیے ہیں۔تنظیم کی طرف سے جاری کی جانے والے 61 صفحات پر مبنی رپورٹ کے مطابق سے زیادہ 56فیصد بچے ضلع اسلام آباد میں یتیم ہوئے ہیں، ضلع گاندر بل میں 48فیصد، ضلع بارہمولہ میں 33فیصدجبکہ راجوری میں 31فیصد بچے یتیم ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں کی نسبت مقبوضہ وادی میں یتیم بچوں کی تعداد زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یتیم بچوں میں سے 5 فیصد بچوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور انہیں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق یتیم بچوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں جھڑپوں کے دوران انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے کے یتیم بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے شہروں کی دیہات کی سطح پر کمیٹیاں اور مختلف گروپ تشکیل دیے جانے چاہئیں جو یتیم بچوں کی صحت ، انکے تحفظ اور تعلیم کے حوالے سے کام کریں۔

مزید :

عالمی منظر -