پنجاب کے سوا ےینوں صوبوں میں انتخابی مہم پھیکی امیدواروں پر حملہ کا خدشہ

پنجاب کے سوا ےینوں صوبوں میں انتخابی مہم پھیکی امیدواروں پر حملہ کا خدشہ

  

                       لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل )امیدواروںپر براہ راست قاتلانہ حملے ہوئے ، پنجاب کے سوا دیگر تینوں صوبوں میںڈور ٹو ڈور ووٹ اپیل کا سلسلہ ختم ہونے ۔ انتخابی حسن ماندپڑنے اور الیکشن مہم پھیکی پڑنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے امیدوار کی ہلاکت، سوات اور پشاور میں اے این پی کے امیدوار سمیت 12سے زائد افراد کی ہلاکت، خضدار میں ثنا اللہ زہری کے قافلے پر حملے اور ان کے بیٹے ، بھائی اور بھتیجے کی ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں امیدوار انتخابی مہم کے حوالے سے محتاط ہوگئے ہیں ۔ اگرچہ انتخابات سے قبل حادثات ، قتل وغارت اور دہشت گردی پاکستانی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب براہ راست امیدواروں کو ٹارگٹ کیا جارھا ہے۔ اور یہ حملے نگران حکومت کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نگران حکومت نے ان حملوں کی فوری روک تھام کا انتظام نہ کیا تو الیکشن التوا کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق پچھلے چند دنوں کے اندر حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے امیدوار کی ہلاکت، سوات اور پشاور میں اے این پی کے امیدوار سمیت 12سے زائد افراد کی ہلاکت، خضدار میں ثنا اللہ زہری کے قافلے پر حملے اور ان کے بیٹے ، بھائی اور بھتیجے کی ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں امیدوار انتخابی مہم کے حوالے سے محتاط ہوگئے ہیں۔ اور پنجاب کے سوا ملک کے دیگر تینوں صوبوں سندھ ، خیبر پی کے اور بلوچستان جلسوں ، کارنر میٹنگز اور ڈور ٹو ڈور ووٹ کمپیئن کا دورانیہ کم کردینگے۔ انتخابی مہم یا امن و امان کے حوالے سے پنجاب کی صورتحال دیگر صوبوں کی نسبت بہتر بتائی جاتی ہے۔ پنجاب کے بعد سندھ کی پھر خیبر پی کے اور آخر میں بلوچستان کا انتخابات کے لیے ساز گار قرار دیا جارھا ہے۔ پنجاب میں بھی اگرچہ اشتہاری ملزمان ، کالعدم تنظیموں کے اراکین اور جرائم پیشہ عناصر کو مخالف امیدواروں کے خلاف استعمال کئے جانے کی پیشگی اطلاعات ہیں۔ لیکن سندھ میں کراچی اور حیدر آباد میں ہونے والے فسادات اور قتل وغارت ۔خیبر پی کے اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گرد کاروائیوںاور امیدواروں پر براہ راست قاتلانہ حملوں کی وجہ سے امیدوار خوفزدہ ہوگئے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -