اے این پی والوں کا پھر جانی نقصان، ان کی ثابت قدمی کو سلام!

اے این پی والوں کا پھر جانی نقصان، ان کی ثابت قدمی کو سلام!
اے این پی والوں کا پھر جانی نقصان، ان کی ثابت قدمی کو سلام!

  

 تجزیہ: چودھری خادم حسین

داد دینا پڑتی ہے اے این پی کے رہنماﺅں کو میاں افتخار حسین نے اپنا اکلوتا بیٹا، غلام احمد بلور نے بھائی اور بھتیجا گنوائے اور اب خود غلام احمد بلور پر حملہ ہوا اور وہ زخمی ہوئے ہیں اس کے باوجود یہ رہنما کہتے ہیں ”ہم خوفزدہ نہیں، ہم مقابلہ کرتے رہیں گے“ تحریک طالبان کی طرف سے واضح دھمکی دی گئی تھی کہ اے این پی، پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کو جلسے نہیں کرنے دیئے جائیں گے یہ دھمکی نہیں تھی اس کا عملی مظاہرہ بھی کر دیا گیا، اے این پی نے اس کے باوجود انتخابی مہم شروع کی تین روز قبل سوات اور شبقدر میں الگ الگ حملے کرکے اے این پی کے دو صوبائی امیدواروں کو زخمی کیا گیا ان میں سے ایک چل بسا دو روز قبل غلام احمد بلور کے جلسے کے قریب دھماکہ کیا گیا متعدد افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے اور پھر گزشتہ روز بھی یہی عمل دہرایا گیا۔ ادھر بلوچستان میں نبی بخش زہری (مرحوم) کے صاحبزادے ثناءاللہ زہری کے انتخابی قافلے پر حملہ کیا گیا، ثناءاللہ زہری تو بچ گئے ان کا بیٹا، بھتیجا اور بھائی مارے گئے اور یوں فرزند راولپنڈی شیخ رشید کی پیشگوئی پوری ہوئی اور انتخابات خوں رنگ ہو گئے اس حوالے سے یہ بھی یاد رہے کہ ثناءاللہ زہری اپنی جماعت چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے تھے ادھر جس روز پشاور میں بم دھماکہ ہوا اسی روز حافظ آباد میں مسلم لیگ (ن) کا انتخابی جلسہ ہوا جس سے میاں محمد نواز شریف نے خطاب کیا اور یہاں سب خیریت رہی۔ اسی طرح عمران خان اور مولانا فضل الرحمان آزادی سے جلسے کر لیتے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی بھی محفوظ رہی ہے (اللہ سب کو تحفظ عنایت فرمائے)

یہ جو بھی صورتحال ہے اسے افسوس ناک ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ جن جماعتوں کو ہدف بنایا گیا وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہیں اور جب عسکری اور سیاسی قیادت کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد مخلوط حکومت کے اتحادی اور عسکری قیادت ہوتی ہے۔ جہاں تک باقی جماعتوں کا تعلق ہے تو ان کے حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہیں اگرچہ دہشت گردی کی مخالفت کر دیتی ہیں لیکن انداز ان کا اپنا ہوتا ہے۔

موجودہ صورتحال خاصی چونکا دینے والی ہے ابھی تو پیپلزپارٹی نے تحریری اور تشہیری انتخابی مہم شروع کی جلسے نہیں کئے اور امیدوار علاقوں میں جا کر میٹنگیں کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں، لیکن کل کے بعد جب کاغذات نامزدگی واپس ہوں گے اور حتمی امیدوار سامنے آ جائیں گے تو یقیناً پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو بھی جلسے کرنا ہوں گے۔ اگر سیکیورٹی کی صورتحال یہی رہتی ہے تو پھر حالات کیا ہوں گے صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اب اے این پی کی قیادت الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے کہ اس کی ہدایت پر سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اس کی تردید کی گئی اور کہا گیا ہے کہ ان کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی بلکہ حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کو کہا گیا ہے۔ نگران وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ سب اہم سیاسی رہنماﺅں کو معقول سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ یہ صورت حال تضادات کی نشان دہی کرتی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن نے نہیں کہا تو سیکیورٹی کس نے واپس لی؟ پنجاب میں شریف برادران کے حفاظتی دستے میں بھی پچیس فیصد کمی کی گئی تھی، اب ذرا غور فرمائیں اور تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ سیکیورٹی سکواڈ کے حوالے سے خبریں شائع ہوتی رہی ہیں اور پھر عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا کہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ کی اتنی ہی سیکیورٹی ہے جتنی وزیر اعلیٰ کے طور پر تھی۔ پہلے ان کی سیکیورٹی واپس لی گئی اور پھر درجہ بدرجہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ اب کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ایسا کس کی ہدایت اور حکم پر ہوا اور یہ جو کہا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی مہیا کی جائے گی تو کی کیوں نہیں گئی؟

یہ ملک ہم سب کا ہے۔ہمارے بچوں کا مستقبل اس سے وابستہ ہے، گونا گوں مسائل ہیں۔ لوڈشیڈنگ ،مہنگائی، بے روز گاری، جرائم اور دہشت گردی مقدر بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بقول عمران خان سالانہ نوے ارب روپے خرچ کر رہا ہے اور اب تک چالیس ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان سے مسلمان کو لڑا دیا گیا ہے۔ اب مسلسل جنگ کی سی کیفیت ہے اور دونوں طرف سے ایک دین کے ماننے والے مر رہے ہیں۔ شہروں میں سول آبادی پر حملہ کرنے والوں کو یہ کیوں اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی وجہ سے مسلمان جان سے جا رہے ہیں اور خود ان کی طرف سے مرنے والے بھی کلمہ گو ہیں۔ اسی طرح ان تمام عناصر کو جو امریکہ کی مذمت میں انتہا پسندوں کی حمایت کرتے یا ان سے ہمدردی رکھتے ہیں ان کو جان لینا چاہئے کہ یہ آگ ان کے گھر تک بھی آ سکتی ہے۔ امریکہ کی بات ہے تو اس کی انتظامیہ سے زیادہ کون مطمئن ہو گاکہ افغانستان میں جنگ کرنے والے پاکستانیوں کی ہمدردیوں سے محروم ہیں اور دینی بھائی سے بھائی لڑ رہا ہے۔

اب نگران حکومت پر زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ روز مرہ کے مسائل پر زیادہ توجہ دے۔ انتخابی ماحول کو پرامن بنانے کے لئے فول پروف انتظامی منصوبہ بندی کرکے اور اس کے لئے کسی کے انتظار یا درخواست کی ضرورت کیوں؟ یہ تو فرض ہے جو نگرانوں کے سپرد کیا گیا ہے ۔انتخابات لازم ہیں نہ ہوئے تو مسائل بڑھیں گے۔ نگران حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ انتخابات مخالف پیدا کیا جانے والا تاثر بھی زائل کرے۔

مزید :

تجزیہ -