مکافاتِ عمل ، سابق فوجی صدر پرویز مشرف گرفتار ،ضمانت منسوخی پر مفروری کام نہ آئی ، گھر ہی جیل بن گیا ،غلط کار کا انجام تک پہنچنا ضروری ہے :ہائیکورٹ

مکافاتِ عمل ، سابق فوجی صدر پرویز مشرف گرفتار ،ضمانت منسوخی پر مفروری کام نہ ...
مکافاتِ عمل ، سابق فوجی صدر پرویز مشرف گرفتار ،ضمانت منسوخی پر مفروری کام نہ آئی ، گھر ہی جیل بن گیا ،غلط کار کا انجام تک پہنچنا ضروری ہے :ہائیکورٹ

  

اسلام آ باد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق فوجی صدرپرویز مشرف ججز نظربندی کیس میں ضمانت منسوخ ہونے پر اپنی سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ  ہائی کورٹ سے فرار ہوگئے جس کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور اب ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ کے  مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر پرویز کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا، عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ صرف غلط اقدام کو کالعدم قرار دینا کافی نہیں، غلط کام کے ذمے دار کو بھی منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔ جسٹس شوکت نے یہ مصرعہ پڑھا، ”میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے“۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نظر بند کیا جا سکتا ہے تو ان کی کیا حیثیت ہے، پرویز مشرف نے ملکی عدالتی نظام کو تباہ کیا اور ججز کو حبس بےجا میں رکھنے سے پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی ہوئی ہے۔سابق صدر کے وکیل قمر افضل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے موکل نے 3نومبر 2007 ءکو ملک میں ذاتی حیثیت میں ایمرجنسی نہیں لگائی تھی بلکہ کابینہ اور وزیر اعظم کی ایڈوائس پر لگائی گئی تھی۔ 3 نومبر 2007 ءکو اعلی عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں نہیں رکھا بلکہ ان کی سیکورٹی کے لیے باڑ لگائی گئی تھی، جس پر جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ باڑ لگانے کا حکم نہیں دیا تو ہٹانے کا حکم تو دیا جاسکتا تھا۔عدالت نے پرویز مشرف کیس کا تفصیلی نوٹس جاری کر تے ہوئے پرویز مشرف کا عدالت سے فرار ہونے کا نوٹس لے لیا ہے جس کے بعد عدلات نے آئی جی اسلام آماد کو طلب کر لیا۔دنیا نیوز کے مطابق تحریری نوٹس چھ صفات کا ہے۔عدالت عالیہ نے سابق صدر کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل کبھی تفتیش کے لیے تھانے گئے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل جو اس مقدمے میں وفاق کی نمائندگی کر رہےتھے،کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود پرویز مشرف کبھی بھی متعلقہ تھانے یا تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اپنے خلاف مقدمات کا سامنے کرنے کی بجائے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آئے تھے۔عدالت  نے عبوری ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے سے متعلق مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا بھی اضافہ کرنے کا حکم دیا تو پولیس کی موجودگی میں پرویز مشرف کی سیکیورٹی پر معمور اہلکار انہیں اپنی حفاظتی حصار میں لےکر کمرہ عدالت سے لے کر فرار ہوگئے۔ عدالت نے اس کا نوٹس لیا جبکہ نگران حکومت نے بھی عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے  اور اب اطلاع ہے کہ  سابق فوجی صدر کے گھر کو سب جیل قراردیا جائے گا ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پرویز مشرف اب سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ۔

مزید :

اسلام آباد -Headlines -Breaking News -