دس جماعتی اتحاد میں اہم پیشرفت، معاملات پیر پگارا نے اپنے ہاتھ میں لے لئے

دس جماعتی اتحاد میں اہم پیشرفت، معاملات پیر پگارا نے اپنے ہاتھ میں لے لئے
دس جماعتی اتحاد میں اہم پیشرفت، معاملات پیر پگارا نے اپنے ہاتھ میں لے لئے

  

سندھ کے سیاسی منظر میں سابق حکمران اتحاد کے خلاف دس جماعتی اتحاد میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماﺅں نے آج کے اجلاس میں سندھ کی بیشتر نشستوں پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ جن نشستوں پر ابھی اتفاق ہونا ہے۔ ان کے بارے میں اتحاد میں شامل جماعتوں نے پیر پگاڑو کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ ان نشستوں کے متعلق ان سیاسی جماعتوں کا موقف سننے کے بعد جس جماعت کے حق میں جو فیصلہ دینگے۔ اتحاد میں شامل تمام جماعتیں تسلیم کرینگی۔ آج کے اجلاس سے پہلے دس جماعتی اتحاد تشکیل سے قبل ہی ٹوٹنے کے خطرہ سے دوچار ہوگیا تھا۔ دو روز قبل ہونے والے اجلاس میں جمعیت العلماءاسلام (فضل الرحمن گروپ ) کے نمائندوں نے اتحاد میں شامل رہنے کے لئے یہ شرط عائد کردی تھی کہ وہ سکھر ڈویژن اور لاڑکانہ ڈویژن میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی ان دس نشستوں پر اتفاق رائے سے فیصلہ کرے جن پر جمعیت العلماءاسلام کا دعویٰ ہے۔ دو روز قبل ہونے والے اجلاس کے بعد جمعیت العلماءاسلام کے نمائندوں نے اندرون سندھ اپنے نمائندوں کو پارٹی ٹکٹ کے تحت الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کردیاتھا البتہ کراچی کی حد تک جمعیت العلماءاسلام نے اتحاد میں شامل رہنے کا اعلان کیاتھا تاہم آج میاں شہبازشریف اور حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دس جماعتی اتحاد کو پورے سندھ کی سطح پر برقرار رکھنے میں پیشرفت کے اشارے ملے تھے۔ اس کو بعد میں کل ہونے والے اجلاس میں جمعیت العلماءاسلام تمام جماعتوں کے نمائندوں نے سندھ کی بیشتر نشستوں پر اتفاق رائے کا اعلان کردیا باقی نشستوں پر اتفاق رائے کے لئے اختیار پیر پگاڑو کو دینے پر اتفاق کرلیاگیا ہے۔ دس جماعتی اتحاد کے کل کے اجلاس میں اتفاق رائے سے سیاسی گورنروں کی فوری برطرفی اور سندھ کے نگران سیٹ اپ میں شامل کئے جانے والے سابق حکمران اتحاد کے نمائندوں کی فوری علیحدگی کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے اور اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے کہ وہ سندھ نگران وزیراعلیٰ کی جانبداری کا نوٹس لے اور کابینہ میں شامل کئے جانے والے سابق حکمران اتحاد کے وفاداروں کو وزارتوں سے برطرف کرے تاکہ سندھ نگران سیٹ اَپ کو آئین کے مطابق صاف شفاف آزادانہ غیرجانبدارانہ الیکشن کرانے کے لئے قابل ہوسکے۔ اتحاد میں شامل جماعتوں کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کے حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کی تعیناتی کو الیکشن کمیشن یقینی بنائے۔ تاکہ ٹھپہ مافیا اور پولنگ اسٹیشنوں کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنانے والوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ دس جماعتی اتحاد میں شامل جماعتیں آنے والے چند دنوں میں اتفاق رائے نہ ہونے والی نشستوں پر پیر پگاڑو کے فیصلوں کو تسلیم کرتی ہیں یا نہیں؟ اس کی تفصیل سامنے آنے کے بعد ہی حتمی طور پر سندھ کے سیاسی منظر پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی تجزیہ ممکن ہوگا۔ تاہم آج کے اجلاس کے بعد بیشتر نشستوں پر اتفاق میں پیش رفت نہیں ہے۔ آج کے اجلاس کے فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے پیر پگاڑو نے اس حقیقت کا ادراک کرلیا ہے کہ اتحاد کو برقرار رکھنا ان کی پارٹی کے سندھ کے سیکرٹری جنرل امتیاز شیخ کے بس کی بات نہیں رہی ہے ۔ اگر انہوں نے خود اس کے تمام معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہ لیا تو ان کی قیادت میں جمع ہونے والا دس جماعتی اتحاد اپنی تشکیل سے قبل بکھر جائے گا۔ پیر پگاڑو سے قربت رکھنے والے ایک باخبر ذریعے نے روزنامہ ”پاکستان“ کو بتایا ہے پیر پگاڑو کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ اگر انہوں نے سارے معاملات اپنے ہاتھ میں نہ لئے تو سابق حکمران اتحاد انتخابات کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

تجزیہ

مزید :

تجزیہ -