حکومت کا پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس چلانے سے انکار

حکومت کا پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس چلانے سے انکار

  

                     اسلام آباد(آن لائن، اے اپی اے، ثناءنیوز) سابق فوجی صدر پرویز مشرف ابھی تک کتنی مضبوط حیثیت کے مالک ہیں اس کا ایک ثبوت بدھ کے روز سامنے آیا جب حکومت نے لکھ کر سپریم کورٹ کو دے دیا کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کو نقصان پہنچانے کے الزام میں دفعہ چھ کے تحت غداری کا مقدمہ نہیں چلاسکتی، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کی پہلی ترجیح انتخابات کرانا ہے۔ عدالت نے ان کا یہ مو¿قف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ نگران حکومت کے پاس مکمل مینڈیٹ ہوتا ہے، پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنا اس کا کام ہے واضح رہے کہ 2008ءمیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت بننے کے وقت پرویز مشرف ہی ملک کے صدر تھے مگر ان دونوں جماعتوں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب نگران حکومت کی طرف سے آئین کو نقصان پہنچانے پر مقدمہ نہ چلائے جانے کے اعلان سے پرویز مشرف محفوظ ہوگئے ہیں اور لگتا ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو سابق صدر کا بال تک بیکا نہیں کرسکتی۔ بدھ کے روز نگران حکومت نے پرویز مشرف غداری کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کی پہلی ترجیح انتخابات ہیں لہذا پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ نہیں چلاسکتے۔سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف درخواستوں کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ اٹارنی جنرل قادر خان نے کہا کہ نگران حکومت کا مینڈیٹ صرف شفاف انتخابات کرانا ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ نگران وزیراعظم کے پاس اور کاموں کیلئے وقت ہے۔ اس کام کے لیے نہیں اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کے بارے میں ایسی بات نہ کی جائے۔جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں پرویز مشرف کے خلاف کارروائی وفاقی حکومت کا کام ہے،عدالت کی نظر میں نگران حکومت کے پاس مکمل مینڈیٹ ہوتا ہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ دکھ کی بات ہے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں ہوتا۔ پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے جج بھی پرویز مشرف کی معاونت کرنے والوں میں شامل تھے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ وفاق ایسا سمجھتا ہے تو ججوں پر مقدمہ چلائے عدالت حاضر ہے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ جن 14 ججوں نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ جاری کیا ان سب نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ یہ نہ سمجھیں کہ ججوں کا نام آئے گا تو ہم کارروائی سے رک جائیں گے۔ عدالت کی برہمی کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کی پہلی ترجیح انتخابات ہیں لہذا پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ نہیں چلاسکتے۔ سماعت کے موقع پر نگران حکومت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف بظاہر مقدمے سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے جواب داخل کرنے کی مزید مہلت طلب کی۔اس موقع پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے حکومت کی جانب سے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ ابھی طے کرنا باقی ہے کہ آیا الیکشن سے قبل سابق صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا مناسب ہو گا یا نہیں۔ حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ نگراں حکومت کی پہلی ترجیح ملک میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد ہے اورموجودہ حالات میں یہ مقدمہ درج کرنے سے اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی موقف تھا کہ وزارت داخلہ ہزاروں الیکشن امیدواروں کے سیکیورٹی انتظامات میں مصروف ہے، لہذا کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کی جائے تاکہ حکومت کوئی فیصلہ کر سکے۔واضح رہے کہ عدالت نے پیر کو حکومت سے جواب طلب کیا تھا کہ کیا مشرف کاآئین کی شق چھ کے تحت ٹرائل کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟۔بعدازاں عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر کو تمام دستاویزات کے ساتھ طلب کر لیا ہے اور سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ پرویز مشرف کو ان دنوں آئین توڑنے اور نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد اعلی عدلیہ کے ججوں کو غیر قانونی نظر بند کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں متعدد درخواستوں کا سامنا ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے پاس ہونے والی سینیٹ کی قرارداد پر اب تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ کیس کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل سے متعلق پرویز مشرف کے وکلاءکی درخواست چیف جسٹس کو بھجوائی جائے اس درخواست پر فیصلہ کریں گے عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ سینیٹ قرارداد پر دستاویزی ثبوت فراہم کریں جسٹس جواد خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دورکنی بینچ نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے دائر پانچ درخواستوں کی سماعت کی عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ سے 31 جولائی 2009ءکے سپریم کورٹ کے فیصلہ اور سینیٹ میں پاس ہونے والی قرارداد کی روشنی میں کئے گئے اقدامات کی تفصیل طلب کی ہے عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ بظاہر وفاق نے درخواستوں میں اٹھائے گئے نکات پر اقدام نہیں کیاگیا ۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ 31 جولائی 2009ءکے فیصلہ پر موقف پیش کر ے کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا چاہیے یا نہیں؟ عدالت نے حکومت سے یہ بھی پوچھا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے گزشتہ چار سال کے دوران کیا اقدامات کئے گئے؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت جو بھی موقف دے اس کا اپنا اختیار ہے لیکن عدالت یہ سمجھتی ہے کہ نگران حکومت مکمل طورپر بااختیار ہے اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروائے جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ نگران حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی، نگران وزیر اعظم کے پاس دوسرے کاموں کے لیے وقت ہے مگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کے لیے وقت نہیں اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے لیے اس قسم کے الفاظ استعمال نہ کئے جائیں وہ پورے ملک اور قوم کی نمائندگی کرتے ہیں جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ سیدھی سی بات ہے کہ غداری کا مقدمہ درج کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے عدالت کے حکم کرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا جا رہا وقفے کے بعد اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالتی حکم پر وفاق کا جواب عدالت میں جمع کرا دیا جواب میں کہا گیا ہے کہ نگران کابینہ عوامی نوعیت کے تین سوالات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کیا نگران حکومت کا میندیٹ آزاد اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا نہیں ہے کیاغداری مقدمہ پر کارروائی نگران حکومت کی غیر جانبداری متاثر نہیں کرے گی کیا یہ مناسب ہے کہ اس طرح کی کارروائی انتخابات سے قبل یا اس کے بعد کی جائے جبکہ وفاقی حکومت نے دوبارہ تفصیلی جواب جمع کروانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ قانون ہے کہ ٹرائل کے لیے خصوصی عدالت فیصلہ ہونے تک مجرم کو حراست میں رکھے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ یہ کوئی عام کیس نہیں ہے وفاق کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالہ سے کارروائی کرے درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت وفاق کی عدم دلچسپی پر توہین عدالت کی کارروائی کا حکم دے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ سنگین غداری کے مقدمہ میں باقاعدہ ٹرائل ضروری ہے جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ہم جرم ثابت ہونے تک گرفتاری کا حکم نہیں دے سکتے یہ کوئی توہین عدالت کا کیس نہیں کہ پرویز مشرف کو عدالت میں بلا لیا جائے ۔

مزید :

صفحہ اول -