مشرف کو غاصب قراردیتے ہوئے عدلیہ کو میری وزارتِ عظمیٰ بھی بحال کرنا چاہئے تھی :نواز شریف

مشرف کو غاصب قراردیتے ہوئے عدلیہ کو میری وزارتِ عظمیٰ بھی بحال کرنا چاہئے ...
مشرف کو غاصب قراردیتے ہوئے عدلیہ کو میری وزارتِ عظمیٰ بھی بحال کرنا چاہئے تھی :نواز شریف

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مشرف کو 12اکتوبر 1999ءوالے اقدامات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ وہ پاکستان کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔پرویز مشرف سے ذاتی رنجش نہیں ہے لیکن جو کچھ انہوں نے ملک ،آئین و قانون کے ساتھ کیا ہے ،آج وہ اُن کے سامنے آرہا ہے اور ایسا ایک نہ ایک دن ہونا تھا ۔میں بھی یہ چاہتا ہوں جس شخص نے پاکستان کے آئین و قانون کو توڑا، عدلیہ کو تہس نہس کیا ،ججوں کو گھر بٹھا دیا ،اس شخص کا احتساب ضرورہے ہونا چاہیے۔ آپ دیکھیں کہ اس وقت وہ اپنے عدالت سے فرار ہو کر اپنے گھر پر چھپے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ ایک ادارہ ہے اور اس کے احکامات فائنل ہیں ،اگر عدلیہ کے حکم سے وزیر اعظم گھر جا سکتے ہیں تو یہ کون صاحب ہیںجو عدالت کے حکم کو نہ مانیں ۔ مشرف کوعدالت کے فیصلے کوہر حال میں ماننا پڑے گا اور احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔جیو نیوز کے پروگرام’آج کامران خان کے ساتھ‘میں گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ صدر مشرف نے جھوٹے مقدمے میںوزیر اعظم کو گرفتار کر کے سب سے پہلا غیر آئینی کام کیا تھا لیکن مسلم لیگ ن نے کبھی بھی اس بات کا واویلا نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ مشرف نے ججوں کو نظر بند کیا تو سب لوگ انہیں بحال کرانے سڑکوں پر آگئے۔ منتخب وزیر اعظم کے ساتھ جو ہوا،اس کو بھی واپس اپنے عہدے پر بحال کیا جانا چاہیے تھا ۔ جو لوگ ملک کا آئین توڑنے میں مشرف کے ساتھ ملوث تھے ،ان کا بھی احتساب ہو نا چاہیے کیو نکہ مارشل لاءلگانے میں وہ بھی برابر کے شریک تھے ۔کارگل ایڈونچر میں ملوث افراد کابھی احتساب ہونا چاہیے اورلوگوںکے سامنے حقائق آنے چاہئیں۔

مزید :

قومی -