کیا آج بھی بھٹو زندہ ہے؟

کیا آج بھی بھٹو زندہ ہے؟
 کیا آج بھی بھٹو زندہ ہے؟

  

سابق وزیر اعظم پاکستان محترم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم بلا شبہ ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت میں مقنا طیسی کشش تھی ،جن لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو قریب یا دور سے دیکھا وہ ان کی شخصیت سے متا ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور آج تک ان کے سحر میں گرفتار ہیں۔ ان کی ذات وطن عزیز کے لئے کس قدر مفید یا نقصان دہ ثابت ہوئی ، اس وقت میرا یہ موضوع نہیں ہے ۔اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف رہا ہو کہ ان کی شخصیت بلا کی حد تک متاثر کن تھی۔ ان کو ہم سے بچھڑے 37برس ہو گئے ہیں مگر آج بھی یہ نعر ہ کسی نہ کسی صورت میں ہمارے کانو ں میں گونجتا ہے ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا ، آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘ ۔ یہ حقیقت کہ بھٹو کی اس سدا بہار ’’ زندگی ‘‘ میں زیادہ کردار ان کی سحر انگیز اور مقناطیسی شخصیت کا ہی ہے مگر یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ بھٹو کی اس ’’ ابدی زندگی‘‘ میں سب سے بڑا رول محترمہ بینظیر بھٹو کا رہا ہے ۔ بینظیر بھٹو اپنے باپ کی حقیقی معنو ں میں جاں نشین تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے باپ اور ان کی بنائی ہوئی پارٹی کو زندہ و توانا رکھا ،بلکہ پاکستان کی سیاست پر اپنے بھی گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو بھلانا پاکستانی قوم کے لئے اتنا آسان نہیں ہے ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ جس پارٹی کا پرچم ان کے والد نے بلند کیا تھا انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اسے سر نگوں نہیں ہونے دیا ۔محترمہ کے جہان فانی سے رخصت ہو جانے کے بعد ہمیں ان کا جاں نشین ڈھونڈنے میں مشکل کا سامنا ہے ۔ جنا ب آصف علی زرداری اپنی تمام جملہ خوبیوں اور صلاحیتو ں کے با وجود ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے کسی صورت بھی جاں نشین ثابت نہیں ہو سکے یا کیے جاسکے ۔جہاں تک تعلق جناب بلاول بھٹو زرداری کا ہے ،تو جب تک ان پر ’’ زرداری آسیب‘‘ کا سایہ ہے وہ نہ تو اپنے نا نا کے جاں نشین اور نہ ہی اپنی والدہ کی سیاست کے اب تک حقیقی وارث ثابت ہوئے ہیں ۔اگر وہ بھٹو کو ’’ زندہ ‘‘ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں زرداری آسیب کی ’’ قید‘‘ سے نجات حاصل کرنا ہوگی ۔ چونکہ میرا تعلق اس پارٹی سے کبھی نہیں رہا اس لئے شاید مجھے یہ مشور ہ نہیں دینا چاہیے، لیکن پھر بھی عرض کر دیتا ہو ں کہ اگر جناب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کی پارٹی کو اسی حالت میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ملک کے ’’ رحمانی ‘‘ حصار کو توڑتے ہوئے عوام میں نکلنا ہوگا۔ انہیں گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ ، راولپنڈی کے لیاقت باغ ، فیصل آباد کے گھنٹہ گھر چوک اور لاہور کے موچی دروازہ کے بڑے بڑے جلسوں میں اپنے جوشِ خطابت سے مائک گرانا ہونگے، عمران خان کی ریلیوں کا ’’ ریلا‘‘ ان کی رہی سہی پارٹی کو بھی بہا لے جائے گا۔ اور ’’ کل بھی بھٹو زندہ تھا ، آج بھی بھٹو زندہ ہے ‘‘ ماضی کا ایک نعرہ بن کے رہ جائے گا۔

دراصل میرے نہایت قریبی دوست چودھری شوکت علی جٹ نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے آنے والے انتخابات میں این اے 95سے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ قریب ایک سال قبل وہ میرے گھر اپنے دوقریبی دوستوں اور مشیر وں چودھری اشرف مجید کمبوہ اور چودھری محمد خالد مہر کے ہمراہ مشور لینے کے لئے تشریف لائے ۔ میں نے چودھری شوکت علی جٹ کو ’’ پرہیز ‘‘ کا ہی مشورہ دیا تھا،لیکن ان پر انتخابات میں حصہ لینے کا بھوت یا تو سوار تھا یا سوار کر دیا گیاتھا لہذا انہوں نے میرے مشورے کے مطابق ’’ پرہیز ‘‘ کرنے کی بجائے مجھ سے مشور ہ کرنے سے ہی ’’ گریز ‘‘ کرنا شروع کر دیا ،اور گذشتہ دنوں اپنے سیاسی مشیروں کے مشورے سے ایک جلسے کا انعقاد کر کے با قاعدہ اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی کردیا۔میری یادداشت کے مطابق چودھری شوکت علی جٹ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مسلم لیگ ق سے کیا تھا ۔ محترمہ ظلِ ہما عثمان کی زیر قیادت انہوں نے سیاست کے میدان میں سفر شروع کیا ۔ظلِ ہما عثمان کی وفات کے بعد وہ ادھر اُدھر بھٹکتے رہے ۔جب عمران خان کا طوطی بولنے لگا تو وہ پی ٹی آئی کے ایک ’’ ریلوے اسٹیشن ‘‘ پر خان صاحب کی ’’ گاڑی ‘‘کا انتظار کرنے لگے۔خان صاحب کی گاڑی کو لیٹ پاتے ہوئے چودھری شوکت علی جٹ واپس ’’ گھر‘‘ کو لوٹ آئے اور پیپلز پارٹی میں سینگ سمانے کی کو ششیں کرنے لگے۔ یہ ’’ جلسہ ‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

این اے 95 مسلم لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔یہاں سے مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ بیرسٹر عثمان ابرا ہیم متعدد بار ممبر صوبائی اسمبلی و قومی اسمبلی منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ بیرسٹر عثمان ابراہیم کی پارٹی پوزیشن کے علا وہ ان کی اس حلقہ میں برادری ہزاروں کی تعداد میں آباد ہے۔ اس حلقہ میں درج شدہ انصاری برادری ووٹوں کی تعداد 25ہزار سے بھی زائد بتائی جاتی ہے ،جبکہ اس حلقہ میں جٹ برادری کی تعداد اس کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر بیرسٹر علی اشرف مغل کی برادری بھی ہے اور نہایت مضبوط فیملی بیک گراؤنڈ بھی ۔ اگر لاہور کے ضمنی انتخاب کی طرح انہیں پیسہ پانی کی طرح بہانا پڑے تو ان کے لئے مسئلہ نہیں ہے اور ویسے بھی ایم این اے کا الیکشن اب 10کروڑ روپوں سے شروع ہوتا ہے ۔دوسرا مجھے جو عمران خان کی کمپین میں گرم جوشی نظر آرہی ہے اس کے بعد پھر میں اپنا مشورہ دہرانے پر مجبور ہوں۔ ماننا نہ ماننا تو چودھری شوکت علی جٹ کی مرضی پر منحصر ہے ۔

مذکور’’ جلسہ ‘‘ جس سے انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا ہے کے مہمان خصوصی پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما جناب جہانگیر بدر تھے ۔ اس ’’جلسہ ‘‘ کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کا نام دیا گیا تھا ۔ مگر اس کے با وجود بھی جیالوں کا وہ جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا جو اس پارٹی کے کارکنوں کاخاصہ رہاہے ۔ اسی بنیاد پر میں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ’’ کل تو بھٹو زندہ تھا کیا آج بھی بھٹو زندہ ہے ؟اور کیا آنے والے کل بھی بھٹو ’’ زندہ‘‘ رہے گا؟‘‘ ۔ محترم قارئین ! یہ محض ایک سوال ہے ۔ براہِ مہربانی اسے میرا تجزیہ ہرگز نہ سمجھا جائے ۔ بہرکیف چودھری شوکت علی جٹ نے کمر کس لی ہے اور وہ بڑی سنجیدگی سے انتخابی مہم میں حصہ لینا چاہتے ہیں ۔میں جانتا ہوں وہ بڑے دلیر ، باہمت اور مہم جو آدمی ہیں ، لیکن ایم این اے کا الیکشن لڑنا لمبی سانس کا کھیل ہے اور اس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ’’ تیز دوڑنا ‘‘ شرط ہے ۔ کیا چودھری شوکت علی جٹ اپنے بھاری جسم کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر اتنا تیز دوڑ پائیں گے ؟ اس کے لئے تو شیر کی سی طاقت چاہیے ۔

مزید :

کالم -