تعلیمی بورڈ کے کچھ معاملات

تعلیمی بورڈ کے کچھ معاملات

یہ امتحانات کا موسم ہے۔ حکومت بھی امتحان سے گزر رہی ہے اور طلبہ و طالبات بھی۔ میٹرک کے امتحانات اختتام پذیر ہیں اور انٹر کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔ امتحانی نظام تو کسی حد تک شفافیت کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے تو نقل مافیا کی خبریں آتی رہتی ہیں، لیکن پنجاب کے شہروں سے نقل کی خبریں آنا بند ہو گئی ہیں۔ اس ضمن میں دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک تویہ کہ امتحانی نظام ٹھیک کر لیا گیا ہے۔ دوسری یہ کہ تعلیمی بورڈز کے حکام کے اخبارات اور ٹی وی چینلوں سے تعلقات خوش گوار ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ اول الذکر بات درست ہے۔ میں یہ بات پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور اب مکرر لکھ رہا ہوں کہ بقول مشتاق احمد یوسفی بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں میں رات کو سوتے میں ایک آنکھ کھلی رکھنا پڑتی ہے۔ کسی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کے لئے بھی یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اسے بھی ہر وقت ایک آنکھ کھلی رکھنا پڑتی ہے۔ اگر اس کی دونوں آنکھیں بند ہو جائیں تو قوم کے نونہالوں سے کھلواڑ کرنے والوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے، جس طرح ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

امتحانات اور مارکنگ کے مراحل طے ہونے کے بعد جب نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے تو طلبہ و طالبات اور والدین کی طرف سے غلط مارکنگ کی شکایات کے انبار لگ جاتے ہیں۔ جس کے سو میں سے 18نمبر ہوتے ہیں، اس کے دراصل 81نمبر ہوتے ہیں۔ سب ایگزامینر روپے کمانے کی دوڑ میں اتنی پھرتی دکھاتا ہے کہ انجانے میں کسی بھی بچے کے مستقبل سے کھیل جاتا ہے۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کرام کو چونکہ احتساب کا کچھ نہ کچھ ڈر ہوتا ہے، اس لئے وہ مارکنگ کے دوران میں کسی حد تک ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے بیش تر اساتذہ کرام، عیدالاضحی کے تین دنوں میں نمودار ہونے والے قصابوں کی طرح بچوں کو ذبح کرتے ہیں۔ انہیں بچوں کے مستقبل سے زیادہ اس چیک سے غرض ہوتی ہے جو مارکنگ کے معاوضے کے طور پر انہیں ملتا ہے۔

لاہور بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نصراللہ ورک کو اپنے عہدے پر براجمان ہوئے کئی برس ہو چکے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ وہ بورڈ کے تقریباً سارے معاملات کو سمجھ چکے ہیں، لیکن بعض معاملات میں اب بھی ان کا ماتحت عملہ، ان سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اس ماتحت عملے نے بعض معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ ان سے وہ سرِمو انحراف نہیں کرتے۔۔۔ مثلاً یہ کہ لاہور بورڈ میں انٹر کے امتحان میں سرکاری کالجوں کے جن اساتذہ کرام کو ہیڈ ایگزامینر لگایا جاتا ہے، تین سال مسلسل کام لینے کے بعد انہیں یہ کہہ کر فارغ کر دیا جاتا ہے کہ ایک سال کا وقفہ بہت ضروری ہے۔ اس وقفے کے دوران میں جب سرکاری کالجوں کے پروفیسر صاحبان گھر بیٹھ جاتے ہیں تو ماتحت عملہ اپنی مرضی سے نجی اور خود مختار اداروں کے ان اساتذہ کرام کو ہیڈایگزامینر لگاتا ہے جو عام طورپر تجربے سے عاری ہوتے ہیں۔ میں یہ بات بھی پہلے لکھ چکا ہوں کہ سرکاری کالجوں کے اساتذہ کرام پہلے ہی مارکنگ کے لئے آنے سے احتراز کرتے ہیں اور اگر وہ یہ کام کرنے کے لئے آ ہی جاتے ہیں تو ان سے ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ آپ ہی کام چھوڑ جاتے ہیں۔ جو پروفیسر صاحبان بغیر کسی وقفے کے مارکنگ کرنا چاہتے ہیں، انہیں کام کرنے دیا جانا چاہیے۔ پنجاب کے دوسرے تعلیمی بورڈوں میں وقفے کی کوئی روایت نہیں۔

اسی طرح لاہور بورڈ نے ایک اور اصول بھی بنا رکھا ہے کہ اگرکسی پروفیسر صاحب کا کوئی بچہ انٹر کے امتحان میں شریک ہو تو انہیں اس سال اس پارٹ کے پرچے مارک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ،جس کے اس کے بچے نے پرچے دیئے ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ شِق دراصل بورڈ کی اپنی خفیہ پالیسی پر عدم اعتماد ہے۔ اب سیکریسی کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ کوئی سب ایگزامینر یا ہیڈ ایگزامینر کسی خاص بچے کا پرچہ تلاش نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی سائنس کے پرچے مارکنگ کے لئے اب دوسرے شہروں میں بھیجے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ سارے اصول اچھے اور تجربہ کار اساتذہ کرام کو مارکنگ کے کام سے باہر رکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ میں خود بھی پچھلے تین برسوں سے اردو کا ہیڈ ایگزامینر تھا، لیکن اس سال کہا گیا ہے کہ وقفہ بہت ضروری ہے ۔ گویا تعلیمی بورڈ نہ ہوا، بہبود آبادی کا ادارہ ہو گیا۔ بورڈ کی یہ واحد ذمہ داری ہے جو میں نہایت ذوق و شوق کے ساتھ نبھاتا ہوں، کیونکہ میرے دل میں قوم کے نونہالوں کا درد ہے۔ میں بھی چیئرمین صاحب کی طرح چاہتا ہوں کہ بچوں کے ساتھ انصاف ہو۔ انہیں ان کی محنت کا پھل ملے۔

چیئرمین تعلیمی بورڈ پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ ورک اگر واقعی مارکنگ کا نظام درست کرنے کے آرزومند ہیں تو براہ کرم اس سارے عمل کی خود نگرانی کریں اور ایگزامینرز کے لئے بنائے گئے غیر ضروری قوانین اور ضابطوں کو ختم کریں۔ جو کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں کام کرنے دیں۔ اگر آپ نے صورت حال کا بغور تجزیہ نہ کیا تو ناانصافی کا شکار ہونے والے بچے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں گے۔ میں نے زنجیر ہلا دی ہے، فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔

آخر میں اپنی ایک غزل نما، نظم قارئین کی نذر کر رہا ہوں جو اہلِ لاہور کو اپنے دل کی آواز محسوس ہوگی:

ہے ٹریفک کا ہجوم بے کراں لاہور میں

روز رہتا ہے قیامت کا سماں، لاہور میں

شہریوں کے چہرے ہیں یا پھول مرجھائے ہوئے

جس طرف دیکھو ہے مٹی اور دھواں، لاہور میں

جھنجھلاہٹ، چڑچڑاپن، حادثے اور لوٹ مار

ہر مصیبت ہو رہی ہے پھر جواں، لاہور میں

لوٹ لیتے ہیں فقیروں کی کمائی راہ زن

ہے عجب کچھ صورت امن و اماں، لاہور میں

دیکھیے تو کوئی بھی اس شہر کا وارث نہیں

کہنے کو رہتے ہیں سارے حکمراں، لاہور میں

کامیابی کے لئے دو نمبری درکار ہے

ہو گئی ہے زندگی، اک امتحان، لاہور میں

آپ آئے ہیں یہاں دوچار دن کے واسطے

کیا کریں وہ لوگ جن کے ہیں مکاں، لاہور میں؟

مزید : کالم