A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنات کا غلام۔۔۔ انتیسویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔ انتیسویں قسط

Apr 18, 2016 | 19:41:PM

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

اٹھائیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

اس کے ماں باپ بھی اس کی حرکت پر مجھ سے معافیاں مانگنے لگے۔

میں نے کہا ’’اس بے چاری کا کیا قصور تھا۔ شکر کریں یہ جلدی قابو میں آ گئی۔ ورنہ نہ جانے یہ میرے ساتھ کیا سلوک کرتی‘‘ میں نے خوشگوار لہجے میں کہا اور پھر انہیں حویلی کے باہر تک چھوڑ آیا۔ وہ تانگہ لے کر آئے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ بلقیس یکدم خاموش ہو گئی تھی اور بار بار چپکے چپکے میری طرف دیکھ لیتی تھی۔ اللہ حافظ کہہ کر میں ریاض شاہ کے پاس گیا۔ وہ تھیلے سے کوئی شے نکال رہا تھا۔

’’آ گئے ۔۔۔ اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر‘‘ وہ مجھے دیکھ کر ہنسنے لگا مجھے غصہ آ گیا

’’شاہ صاحب ۔۔۔ آپ نے اچھا نہیں کیا‘‘

’’میرے چاند ۔۔۔ میں کیا کرتا مجھے موقع ہی نہیں ملا بڑی تیزی سے اس نے وار کیا تھا‘‘ ریاض شاہ نے میرے غصہ کو انجوائے کرتے ہوئے کہا ’’دیکھا بے چاری کو اب تم پر کتنا رحم آ رہا تھا‘‘

’’رحم نہیں افسوس ہو رہا تھا‘‘ میں نے کہا

’’ہوش میں آنے کے بعد جب اسے بتایا کہ تم نے شاہد میاں کا کیا حال کر دیا تھا تو پریشان ہو گئی۔ کہنے لگی میں تو اب ان سے ملوں گی۔ مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے‘‘

’’کیسی گڑبڑ‘‘ میں نے استفہامیہ لہجے میں پوچھا

’’اس کے دل میں تمہارے لئے ایک جذبہ پیدا ہوتا ہوا محسوس کیا ہے میں نے‘‘ ریاض شاہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

’’خبردار ۔۔۔ خبردار ۔۔۔ دیکھیں شاہ جی۔ بالکل نہیں۔ ایسی بات نہیں کرنی۔ بڑی معصوم لڑکی ہے۔ اس کی شرمندگی کو کسی اور جذبہ سے منسوب نہ کریں‘‘ میں نے ناراضگی کے ساتھ کہا

’’پہلے اس پر جن سوار تھے۔ وہ تو اتر گئے۔ یہ مکھن شاہ کی چھوڑی اس کی موکلہ ہے۔ یہ بھی دفعان ہو جائے گی لیکن مجھے ڈر ہے اگر اس پر عشق کا بھوت سوار ہو گیا تو کیا بنے گا۔ نہ بابا۔ مجھ سے یہ بھوت نہیں اتارا جائے گا‘‘ اس روز ریاض شاہ بہت زیادہ خوشگوار دکھائی دے رہا تھا۔

’’شاہ صاحب ۔۔۔ یہ زیادتی ہے۔ آپ جانتے ہیں۔۔۔میں‘‘ میں کہتے کہتے رک گیا۔

’’بولو ۔۔۔ رک کیوں گئے‘‘ ریاض شاہ کی آنکھیں میرا تمسخر اڑا رہی تھیں۔ ’’کیا میں نہیں جانتا۔ مجھے اب بتاؤ گے کہ تم ان جذبوں سے ناآشنا ہو‘‘

میں کچھ نہ بولا کہنے لگا ’’اپنے وعدے کا پاس رکھنا شاہد میاں۔ آگ میں کودو گے تو جل جاؤ گے‘‘

’’آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں‘‘ میں نے اپنے لہجے کی ناگواری کو محسوس کرائے بغیر بمشکل کہا’’سمجھا رہا ہوں۔ تم نے جن بزرگوں کے سامنے وعدہ کیا تھا اسے نبھانا ہے تمہیں‘‘ ریاض شاہ کی آنکھوں میں اب سرخ ڈورے نظر آنے لگے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے کس آگ میں کودنے سے باز رہنے کی تلقین کر رہا تھا۔ اس نے زلیخا کو جس والہانہ انداز میں مجھے بلقیس سے بچاتے ہوئے دیکھا تھا وہ اس کے لئے ناقابل برداشت منظر تھا۔ زلیخا کے جذبات کھل کر سامنے آ گئے تھے ریاض شاہ جیسے شاطر اور گہرے آدمی سے یہ سب کیسے چھپا رہ سکتا تھا۔

’’شاہ صاحب ۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں ایک محتاط انسان ہوں۔ اپنے وعدے نبھاتا ہوں لیکن آپ مجھے دھمکیاں نہ دیا کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ مجھے سمجھا رہے ہیں یا ڈرا رہے ہیں۔ میں آج آپ کو ایک بات عرض کر دینا چاہتا ہوں‘‘ میں نے سنبھلتے ہوئے اپنی جبلت کا اظہار کرنا مناسب سمجھا۔ ’’میں ایک حد تک برداشت کرتا ہوں۔ جب میرا پندار صبر لبریز ہو جاتا ہے تو پھر میں نفع نقصان نہیں دیکھتا۔ اس سمے مجھے زندگی اور موت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ میں ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ہوں لیکن جب میری توہین کی جائے اور مسلسل یہ رویہ اختیار کیا جائے تو میرا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں نے بزرگوں سے جو وعدہ کیا ہے اسے کیسے نبھانا ہے لیکن میں آپ سے بھی ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ آگ کو بھڑکائیں نہیں۔ آگ کو جگہ جگہ نہ پھیلائیں۔ اکثر اوقات اپنی جلائی آگ میں اپنا دامن اور ہاتھ بھی جل جاتے ہیں۔ یہ مکافات عمل ہے۔ ہاں اس میں دیر سویر ہو جاتی ہے لیکن یہ ہوتا ضرور ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی انسان نے شیطانیت کا لبادہ اوڑھا ہے، اس نے آسمانوں پر اپنا تخت بچھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا پردہ چاک ہوا ہے اور وہ زمین کی پستیوں میں آ کر دفن ہو گیا ہے‘‘ میں بولتا چلا گیا۔ ریاض شاہ کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور چلے گئے لیکن وہ اپنے جذبات کو چھپانے کی قدرت رکھتا تھا۔

’’بول لیا ۔۔۔ بس ۔۔۔ دیکھو تم میرے بھائی ہو مجھے تم سے بڑی محبت ہے۔ کوشش کروں گا کہ تمہاری بدگمانیاں ختم کر دوں ۔لو ۔۔۔ صلح ۔آج کے بعد میں تمہیں دھمکی نہیں دوں گا۔ اگر کوئی ناگوار بات لگے گی تو پیار سے سمجھا دیا کروں گا‘‘ ریاض شاہ نے مجھے گلے لگاتے ہوئے کہا ’’آؤ میں تمہارے زخموں پر مرہم لگا دوں‘‘

’’شکریہ دوا تو لگا لی ہے‘‘ میں نے کہا

’’جانتا ہوں کہ تم دوا لگا چکے ہو لیکن چندا ۔۔۔ یہ زخم اس دوا سے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ یہ تو سحری زخم ہیں۔ شاید تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کہ جب کسی سحرزدہ انسان کے اندر طاغوتی و شیطانی جنس ہلچل مچاتی اور قہر میں آ کر کسی کو زخمی کرتی ہے تو اس کے دئیے زخموں میں عملیاتی زہر اتر جاتا ہے۔ اسی لئے ہم لوگوں نے ایک عملیاتی دوا بنائی ہوتی ہے۔بعض اوقات کوئی کیس کرتے ہوئے ہمیں ہاتھا پائی ہونا پڑتا ہے اور کوئی زخم آ جائے تو ہم یہ دوا لگاتے ہیں۔ مجھے یہ دوا بابا جی سرکار نے بنا کر دی تھی‘‘ ریاض شاہ نے ایک ڈبیہ سے سفید سفوف نما دوا نکال کر میرے زخموں پر لگا دی۔ دوا کے لگتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے کوئی ٹھنڈی شے زخموں پررکھ دی گئی ہے۔ پورے بدن میں راحت آمیز ٹھنڈک کا احساس ہوا اور میرے ذہن پر چھایا اضمحلال ختم ہو گیا۔ میں شاہ صاحب سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن میں نے اپنے امتحان کی تیاری کی خاطر اس وقت ان سے کچھ سوالات نہ کئے۔

میں کچھ دیر بعد دوبارہ کمرے میں چلا گیا۔ دوا لگنے سے ذہن تازہ ہو گیا تھا۔ کتاب کھول کر اسباق دیکھنے لگا اور پھر کتاب پڑھتے پڑھتے ہی مجھے نیند نے آ لیا۔ میں بہت گہری نیند سویا تھا لیکن ایک خواب نے میری نیند منتشر کر دی۔ خواب انتہائی خوفناک تھا۔ جب اس سے بیدار ہوا تو احساس ہوا کہ خواب کی دہشت تو مجھ پر ابھی تک طاری ہے۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں فضا میں اڑتا چلا جا رہا ہوں۔ ہرے بھرے کھیت‘ گاؤں‘ پہاڑ‘ آبشاریں اور شہروں کے اوپر سے اڑتا بادلوں میں تیرتا انتہائی مسرور دکھائی دیتا تھا۔ پھر میں ایک بلند عمارات والے شہر کے اوپر پہنچتا ہوں کہ یکایک ایک اژدھا میرے پیچھے لگ جاتا ہے۔ سر آسمان کو چھو رہا تھا اور دم نیچے زمین کے پندار کو چھو رہی تھی۔ اژدھے کے منہ سے آگ نکل رہی تھی۔ میں ڈر گیا کہ کہیں یہ مجھے کھا نہ جائے۔ میں تیزی سے اپنا رخ بدل کر لیتا ہوں۔ اژدھا کروٹ لے کر میری طرف پلٹتا ہے۔ وہ مجھ پر آگ پھینکتا ہے میں خوفزدہ ہو کر آگ سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آگ میرے پورے جسم کو چھوتی ہے لیکن مجھے ہلکی سی تپش تو محسوس ہوتی ہے جسم جھلستا نہیں ۔ اژدھا میرے بہت قریب آ جاتا ہے اور مسلسل آگ پھینکتا ہے لیکن آگ سے میرا بدن پھر بھی نہیں جھلستا۔ خوف کے مارے میرا دل بری طرح دھڑکنے لگتا ہے اور میں اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر اژدھے کا سر میرے منہ سے دو فٹ قریب آ جاتا ہے۔ وہ اپنا جبڑا کھولتا ہے تو لگتا ہے اس میں پوری دنیا سما سکتی ہے لیکن کوشش کے باوجود وہ مجھے ہڑپ نہیں کر سکتا۔ میں کچھ نہیں سمجھتا اور اپنے بچاؤ کے لئے چیخنے چلانے لگتا ہوں۔ میری چیخ و پکار سن کر اژدھا قہقہے لگانے لگتا ہے اور پھر اس کے کھلے ہوئے جبڑوں سے نکلتی آگ میں ایک خوفناک انسان کا ہیولہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ میں غور سے دیکھتا ہوں تو اس کی شکل مکھن سائیں سے مشابہ ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر میں جان لیتا ہوں کہ یہ اژدھا مکھن سائیں کا چھوڑا ہوا ہے اور اس نے اسے مجھے ہلاک کرنے کے لئے مامور کیا ہوا ہے۔ میں زور زور سے کہتا ہوں۔

’’مکھن سائیں تمہاری مجھ سے کیا دشمنی ہے‘‘

آگ کے شعلوں میں بھڑکتے ہوئے ہیولے کی آواز آئی ’’جو ہمارے منہ سے نوالا چھینتا ہے ہم اس کا منہ بند کر دیتے ہیں۔ مکھن سائیں سے دشمنی ٹھان کر تم نے اچھا نہیں کیا۔ تم میرے انتقام کی آگ میں جھلس کر راکھ ہو جاؤ گے‘‘ یہ کہہ کر مکھن سائیں آگ کا ایک بڑا سا گولا میری طرف پھینکتا ہے۔ جوں جوں آگ کا گولا میر ے قریب آتا ہے اس کے اندر سے بہت سے گولے پھیل کر میرے گرد جال سا بن دیتے ہیں اور پھر مجھے محسوس ہوتا ہے میری پرواز کی سکت ختم ہو جاگئی ہے اور میں آسمان کی بلندیوں سے پاتال کی طرف گرتا چلا جاتا ہوں۔ آگ کے گولے شہاب ثاقب بن کر میر ے تعاقب میں ہیں‘ اور اژدھے کے جبڑے میں کھڑا مکھن سائیں میری حالت دیکھ کر قہقہے لگاتا چلا جا رہا ہے۔ میری آواز دہشت سے پھٹ جاتی ہے اور دل دھڑکنا رک جاتا ہے۔ یونہی ہاتھ پاؤں مارتے مارتے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میں بستر سے نیچے گر جاتا ہوں۔ آنکھ کھلنے کے باوجود میں ہاتھ پاؤں مارتا جا رہا ہوں۔ گلے سے خرخر کی آوازیں نکال رہا ہوں اور پھر بے سدھ ہو کر پڑا رہتا ہوں۔ میرا پورا جسم پسینے میں شرابور ہے۔ دل ڈھول کی طرح بج رہا ہے۔ آنکھیں جب کمرے میں چلے بلب پر مرکوز ہوتی ہیں تو ہوش واپس آنے لگتے ہیں اور پھر مجھے خواب سے حقیقت کی دنیا میں لوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ میں نے اٹھ کر وضو کیا۔

تہجد کا وقت ہو رہا تھا۔ نوافل ادا کرنے کے بعد میں ٹاہلی والی سرکار اور بابا جی سرکار کا دیا وظیفہ پڑھنے بیٹھ جاتا ہوں۔ یہ وظیفہ سجدے میں گر کر پڑھنا شروع کیا تھا۔ آدھ گھنٹہ یونہی سجدے میں پڑے رہنے میں اپنے رب سے اس کی حفاظت و وکالت اور رحمت مانگتا رہا۔ پھر خشیت الہٰی کو اپنے رگ و پے میں محسوس کرنے لگا۔ میرا رواں رواں خواب کے اذیت ناک احساس سے نجات پانے لگا۔ ٹاہلی والی سرکار نے سچ کہا تھا۔ تہجد کے وقت ایک مسلمان کو اپنے رب سے جو قربت میسر آتی ہے شاید وہ کسی اور وقت کی عبادت و ریاضت میں نصیب نہ ہو۔ قبولیت کی گھڑی کے اوقات کا تعین اس رب کائنات کے اختیار میں ہے‘ اس کا فضل اور رحمت ساعتوں کی پابند نہیں ہے۔ لیکن جو نزاکت و لطافت تہجد کی ان ساعتوں میں محسوس ہوتی ہے یہ اس بندے سے پوچھا جا سکتا ہے جو شب گزاری کا عادی ہو۔ جسے عبادت و ریاضت میں سرخروئی حاصل ہو۔ یہ تو وہ لمحات ہوتے ہیں جب میرا مولائے کل اپنے بندے کی سسکیوں کو تھپتھپاتا ہے۔ اپنے بندے سے خوش ہو کر اپنے فرشتوں سے کہتا ہے دیکھو تو میرے اس بندے کو۔ اس نے رات آنکھوں میں گزار دی صرف میرے لئے۔ یہ مجھ سے جو مانگے گا میں اسے دوں گا۔ اللہ اللہ۔ کیا شان ہے میرے سوہنے اللہ کی۔ وہ بندے سے کبھی دور نہیں ہوا۔ وہ بڑی محبت سے اپنے بندے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن افسوس بندہ غفلت سے بیدار ہی نہیں ہوتا۔ میں نے اس رات ۔۔۔ اپنی برسوں کی عبادت کا ایک نیا ہی لطف اٹھایا۔ میں نے عہد کیا کہ اب میں روزانہ رات کے اس لمحے جب ساری دنیا سو رہی ہوتی ہے میں صرف اور صرف اپنی جان کے مالک اللہ کے لئے جاگا کروں گا لیکن افسوس ۔۔۔ اس ذات کامل نے اپنی ایک رات کی عبادت سے اتنا فیض دے دیا کہ میں اس کی لاج نہ رکھ سکا اور ناشکروں کی طرح یہ بھول گیا کہ میں نے اس رات جو عہد کیا تھا اس کا کیا ہوا۔۔۔ میں بھی ان بندوں کی طرح دنیا کے پیچھے لگ گیا جو اللہ سے قربت محض دنیا کی طلب کے لئے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگلی صبح میں جلد بیدار ہو گیا تو ریاض شاہ کو اپنا خواب سنایا۔ اس نے مجھے تسلی دی اور کہا آج رات بابا جی سرکار آئیں گے تو ان سے بات کرنے کے بعد میں مکھن سائیں کا بندوبست کرتا ہوں‘‘ ریاض شاہ نے کچھ پڑھ کر میرے سینے پر پھونک ماری اور کہا ’’بابا جی نے تمہیں جو وظیفہ دیا ہوا ہے اسے پڑھتے ہوئے جانا۔ اللہ خیر کرے گا‘‘

اس روز خلاف توقع میرا پرچہ بہت اچھا ہوا تھا حالانکہ میں پریشان تھا۔ اللہ نے میرے لئے پرچہ آسان بنا دیا تھا۔ میں ملکوال آنے کے لئے لاری اڈے پر پہنچا اور بس پر سوار ہو کر میں سیٹ پر دبک کر بیٹھ گیا۔ میں نے خالی الذہن بیٹھنے کی بجائے اللہ کا ذکر کرنا مناسب سمجھا اور بزرگوں کا دیا وظیفہ پڑھنے لگا۔ میں اس وقت وظیفہ پڑھنے میں اتنا مگن تھا جب کنڈیکٹر نے مجھ سے ٹکٹ کے پیسے مانگے میں نے پیسے نکال کر دئیے تو اس نے پوچھا ’’کہاں جانا ہے‘‘

میں نے سمبڑیال کی نہر کے سٹاپ کا بتایا تو وہ بولا ’’باؤ جی یہ بس سمبڑیال نہیں جا رہی‘‘

’’ہیں ۔۔۔ تو پھر کہاں جا رہی ہے‘‘ میں نے چونک کر پوچھا اور پھر میری نظریں بس سے باہر کا منظر دیکھنے لگیں۔ بس شیخ مولا بخش کے تالاب کے قریب سے گزر رہی تھی۔

’’جناب بس ظفروال کی طرف جا رہی ہے‘‘

’’تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا‘‘ میں نے غصے سے کہا۔ سواریاں میری طرف دیکھنے لگیں۔ ظفروال سیالکوٹ کے بارڈر کی طرف ایک قصبہ تھا۔ دیہاتی لوگ اور طالب علموں سے بس کھچا کھچ بھری تھی۔

’’آپ کو نہیں پتہ بس کہاں جا رہی ہے حیرت ہے۔میں تو دھائی دے دے کر سواریاں اکٹھی کر رہا ہوں سب کو پتہ ہے بس کدھر جا رہی ہے‘‘

کنڈیکٹر الٹا مجھے غصے سے دیکھنے لگا

’’اچھا تو مجھے اتار دو‘‘ میں سیٹ سے نکلنے لگا۔ وہ بس رکوانے لگا تھا کہ معاً ایک قریب بیٹھی سواری نے دوسرے سے سوال کیا

’’سیداں والی یہاں سے کتنی دور ہے‘‘

’’اورے ۔۔۔۔۔۔ سے اگلا سٹاپ ہے‘‘ دوسری سواری نے بتایا

’’سیداں والی‘‘ یہ نام سنتے ہی جیسے میرے ذہن میں ہلچل سی مچ اٹھی۔ بابا تیلے شاہ نے مجھے سیداں والی آنے کے لئے کہا تھا اور میں وعدہ کرنے کے باوجود بھول گیا تھا۔ کئی روز بیت گئے تھے۔ میں دوبارہ سیٹ پر بیٹھ گیا اور کنڈیکٹر سے کہا ’’مجھے سیداں والی اتار دینا‘‘ میں نے اسے کرایہ دیا تو وہ عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس وقت میری اضطراری حالت ہی ایسی تھی۔ میں کئی برسوں سے سیداں والی جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ہمیشہ کوئی نہ کوئی رکاوٹ ایسی آتی تھی کہ میں اپنے ارادے پر عمل نہ کر سکتا تھا لیکن آج تقدیر نے خود مجھے اس راہ پر ڈال دیا تھا۔

***

بس اورے جا کر ٹھہری تو میں جلدی سے نیچے اتر گیا۔ ’’ پل ایک ‘‘ کے پہلو میں واقعہ یہگاؤں خاصا قدیم تھا۔ اورے سے سیداں والی شریف زیادہ دور نہیں تھی۔ میرے والدین میری پیدائش سے بہت پہلے یہاں رہ چکے تھے۔ والدہ کی زبانی میں پیر کاکے شاہ کے بارے بہت سی حکایات سن چکا تھا میرے ذہن کے ایک گوشے میں اس مجذوب ولی کی کرامات کا بسیرا تھا۔ بس سے اترتے ہی میرے قلب و ذہن پر ان کی نورانی پرچھائیاں رینگنے لگیں۔ اس وقت دھوپ پھیلی ہوئی تھی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے بس سے اتر کر اندازہ ہوا کہ میں نے غلط سٹاپ کا انتخاب کیا ہے۔ سیداں والی جانے کے لئے بس قصبہ کے قریب سے ہو کر گزرتی تھی لیکن میں ایک سٹاپ پہلے ہی اتر گیا تھا۔ میں نے ایک دیہاتی سے سیداں والی کا راستہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ دو کوس دور ہے ۔ مجھے بھوک بھی ستا رہی تھی۔ میں نے ہوٹل پر کھانے کا سوچا۔ ایک ٹوٹے پھوٹے کھوکھے میں ایک دیہاتی بوڑھا جس نے بنیان اور دھوتی پہنی تھی نان پکوڑے بیچ رہا تھا ۔ دس بارہ لوگ وہاں بیٹھ کر نان پکوڑے کھا رہے تھے۔ اس کے سوا دور دور تک کوئی ہوٹل نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں کھوکھے والے کے پاس گیا اور پانچ روپے دے کر نان پکوڑے مانگے تو وہ میری طرف دیکھنے لگا۔’’پتر پردیسی ہو‘‘

’’پردیسی‘‘ مجھے اس لفظ میں بڑی اپنائیت محسوس ہوئی۔ دیہاتی لوگ دوسرے شہروں سے آنے والوں کو پردیسی ہی کہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں تو پردیسی سے مراد دوسرے دیس سے آئے ہوئے انسان کو کہا جاتا ہے۔ ہماری دیہی زندگی میں دور دراز کے دیہاتوں اور شہروں کو بھی دوسرا دیس ہی سمجھا جاتا ہے۔ کھوکھے کے پاس ایک ٹوٹی پھوٹی چوکی پڑی تھی ۔ میں اس پر بیٹھ گیا۔

’’ہاں بابا ۔۔۔ میں پردیسی ہوں لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا‘‘ میں نے پوچھا۔

’’پتر جی جمعرات کو میں نان پکوڑے پیسے لے کر نہیں بیچتا۔ یہ نذر نیاز کا دن ہوتا ہے۔ دور دور سے لوگ اس روز میرے نان پکوڑے کھانے آتے ہیں اس لئے میں جان گیا کہ تم پردیسی ہو۔ بابا بوٹے کی دکان کا رواج نہیں جانتے‘‘

’’سوری بابا ۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا‘‘ میں نے کہا تو اس نے ایک ٹھنڈے نان کے اوپر چند گرم گرم پکوڑے رکھ کر دے دئیے۔ میں نے ایک لقمہ ہی لیا تھا کہ خشک نان کا ٹکڑا میرے گلے میں پھنس گیا ۔میں نے بابا بوٹے سے پانی مانگا تو ان نے ایک صراحی کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے پاس مٹی کا ایک پختہ گلاس پڑا تھا۔ میں نے جلدی سے صراحی سے پانی لیا اور غٹاغٹ پی گیا۔ پانی پیتے ہی نان کا ٹکڑا میرے معدے میں اتر گیا ۔ میری حالت دیکھ کر پاس بیٹھے دیہاتی ہنسنے لگے۔ بابا بوٹے نے یہ دیکھا تو وہ انہیں ڈانٹ کر بولا ’’اوئے پاگلو ۔۔۔ اس بیچارے نے پیر کاکے شاہ کا لنگر پہلی بار کھایا ہے اس لئے گلے میں پھندہ لگ گیا تھا‘‘

پیر کاکے شاہ کا نام سن کر میں چونکا اور میری نظر پانی والی صراحی پر جا لگی۔ اس پر لکھا تھا ’’کاکے شاہ دی سبیل‘‘ مجھے بابا بوٹے کی ذات میں دلچسپی محسوس ہونے لگی۔ میں جب نان پکوڑے کھا چکا تو بابا بوٹے نے میری طرف دیکھا۔ ’’اور دوں‘‘

’’شکریہ بابا پیٹ بھر گیا ہے‘‘

’’کہاں سے آئے ہو اور کہاں جانا ہے‘‘ اس نے پوچھا

میں نے اپنے قصبے کا نام بتایا اور کہا ’’پیر کاکے شاہ کے مزار پر حاضری دینے جا رہا ہوں‘‘

’’ماشاء اللہ ۔۔۔ دیکھو میرے پیر کی کرامت۔ لوگ دور دور سے مزار پر دعا کرنے آتے ہیں‘‘ بابا بوٹا پکوڑوں کی کڑاہی چھوڑ کر میرے پاس آ گیا۔ اس کے جھریوں زدہ چہرے پر عجیب سی چمک آ گئی تھی۔ میرے ہاتھ اپنے استخوانی ہاتھوں میں لے کر لرزتی آواز میں بولا ’’پتر مزار پر جا کر دعا کرنا۔ میری چھوٹ ہو جائے۔ میرے لئے دو نفل پڑھ دینا۔ سورہ یسین کی تلاوت ضرور کرنا۔ اللہ سے دعا کرنا میری چھوٹ ہو جائے‘‘ بابا بوٹے کی آنکھوں سے دو آنسو جھریوں میں راستے بناتے ہوئے نیچے گرنے لگے تو میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے آنسو زمین پر گرنے سے بچا لئے‘

’’بابا ۔۔۔ میں دعا کروں گا‘‘ میں نے ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ کر اسے تسلی دی۔

’’بابا ایک بات پوچھوں‘‘

’’جی پتر ۔۔۔ سو بار پوچھو‘‘ میری تسلی نے اس کے دل کو سکون بخش دیا تھا۔

’’بابا ۔۔۔ کب سے یہ نذر و نیاز کر رہے ہو۔ کیا آپ نے کبھی پیر کاکے شاہ کو دیکھا ہے‘‘

بابا بوٹے کے ماتھے کی سلوٹیں سمٹنے لگیں آنکھیں سکڑ گئیں اور ہونٹ کھنچ گئے۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا‘‘ پتر ایک بار دیکھا ہے اس گناہ گار نے ۔۔۔ پتر آج تک کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا تھا۔ میں نے بھی کسی کو نہیں بتایا۔ آج تو نے پوچھا ہے تو میں تجھے بتاؤں گا۔ لیکن کچھ دیر ٹھہر جا میں نیاز بانٹ لوں۔ فارغ ہو کر تمہیں بتاتا ہوں‘‘

بابا بوٹے نے بیس پچیس منٹ میں ساری نیاز بانٹ دی۔ چھابے میں ایک نان اور دو پکڑے بچ گئے تھے ۔اس نے ایک رنگین کپڑے میں نان پکوڑے تہ کرکے کھوکھے کے اندر رکھ دئیے۔

’’بابا آپ بھی کھا لو۔ باتیں بعد میں کر لیں گے نان پکوڑے ٹھنڈے ہو جائیں گے‘‘۔ میں نے کہا۔

’’پتر ۔۔۔ میں رات کو کھاؤں گا‘‘ وہ بولا ’’یہ تو کسی کی امانت ہیں۔ جو میں نے سنبھال کر رکھ دی ہے‘‘

باہر دھوپ بڑھ گئی تھی بابا بوٹا فارغ ہو گیا تو ہم دونوں کھوکھے کے اندر بیٹھ گئے۔ ۔ بابا کہنے لگا ’’پتر جی! کیا تم بتا سکتے ہو میری عمر کتنی ہو گی‘‘ میں نے اس کے چہرے پر غور کیا‘ ماتھے کی سلوٹوں کو شمار کیا۔ دھندلائی آنکھوں کے عقب میں جھانک کر دیکھا۔ اس کے ہاتھوں میں ابھری بے گوشت رگوں کو دیکھا۔’’ یہی کوئی ستر اسی سال ہو گی‘‘ میں نے اس بوڑھے برگد کے درخت کی مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جس کی عمر جاننے کے لئے جب اس کے تنے کو کاٹا جاتا ہے تو اس کا ہر پرت سالوں کی کہانیاں سناتا ہے۔

’’ایک سو سال عمر ہے میری‘‘ بابا بوٹا بولا ’’شاید دو چار سال زیادہ ہی ہو‘‘

میں نے حیرت سے اسے ایک بار پھر غور سے دیکھا۔ ستر اور سو کے پھیر میں اس کی زندگی کا حساب لگانا بڑا مشکل لگا ۔

’’میں اس وقت گبھرو جوان تھا‘‘ وہ پرخیال انداز میں بولا تو اس کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔’’میں بھینس اور گھوڑیاں چوری کیا کرتا‘‘

’’یعنی چور تھے آپ‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا

’’ہاں چور تھا میں ۔۔۔ آج کے چوروں میں اور ہمارے دور کے چوروں میں بڑا فرق ہوتا تھا۔ آج کا چور ہمیشہ کی طرح بزدل اور ہمارے دور کا چور بڑا جی دار ہوتا تھا۔ ہم دو طرح سے چوری کیا کرتے تھے۔ ایک تو ڈھاٹا باندھ کر چوری کرتے تھے اور دوسری قسم کے چور لنگوٹا کس کر پورے بدن میں تیل کی مالش کرکے چوری کرتے تھے۔ لنگوٹے والے چور عموماً گھروں کے اندر گھس کر سامان اٹھا کر بھاگ جاتے تھے۔ تیل کی مالش اس لئے کرتے تھے اگر کوئی پکڑ لے تو اس کے ہاتھوں سے پھسل کر نکل جانے کا موقع مل جاتا۔ ڈھاٹا باندھنے والے چور جنس کی چوری کرتے تھے۔ بھینس‘ بکریاں‘ گھوڑے‘ بیل ۔۔۔ میں بھی ڈھاٹا باندھ کر چوری کرتا تھا۔ بڑے بڑے چودھری اور ملک مجھ سے کام لیتے تھے۔ ایک بار مجھے ایک ملک نے سیداں والی سے ایک گھوڑی کھول کر لانے کی فرمائش کر دی۔ ان دنوں سیلاب آیا ہوا تھا اور ایک (نالہ ایک) چڑھی ہوئی تھی۔ آگے پیچھے کے گاؤں اور فصلیں پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ میں نے ملک کو بتایا کہ سیلاب کے دنوں میں چوری کرنا مشکل تو نہیں ہے لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ ان دنوں پانی کے ڈر سے گھوڑی کو کسی اور جگہ لے جایا گیا ہو، کیونکہ جو گھوڑی وہ چوری کرانا چاہتا تھا وہ ایک سیدزادے کی تھی اور اسے پاکپتن کے بزرگوں نے تحفہ میں دی ہوئی تھی۔ میں نہیں جانتا لیکن میں نے یہ سن رکھا تھا کہ وہ گھوڑی اصیل نسل تھی اور گھوڑوں کی اس نسل میں سے تھی جس نے کربلا میں اپنا خون بہایا تھا۔ میں مذہبی طور پر باغی قسم کا نوجوان تھا۔ مجھے کھانے پینے اور پہلوانی کا شوق تھا۔ راتوں کو چوری کرتا‘ دنوں کو کبوتر اڑاتا۔ نماز روزہ کا کوئی خیال نہیں تھا مجھے ۔۔۔ خیر ۔۔۔ ملک کے اصرار پر میں سیداں والی چلا آیا ۔ ادھر جہاں ہم دونوں بیٹھے ہیں‘ اس وقت سڑک نہیں بھی تھی۔ کچا اور نشیبی علاقہ تھا۔ درخت بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ میں شام سے پہلے ادھر آ گیا تھا۔ کوئی انسان ادھر نظر نہیں آ رہا تھا۔ سیداں والی کو جانے والا سارا راستہ پانی میں گم تھا۔ میں نے اچھا کام یہ کیا کہ نالہ ایک کی پٹری پر چلا گیا ۔کئی جگہ سے پٹری سے اوپر بھی پانی آیا ہوا تھا۔ پانی میں تیزی تھی۔ میں نے جب دیکھا کہ ٹوٹی پٹری کی وجہ سے میں سیداں والی کی طرف نہیں جا سکوں گا تو میں نے نالہ تیر کر عبور کر لیا۔ مجھے بڑی مشکل آئی۔ کئی بار تو ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ بالاخر میں نالے کی دوسری طرف پہنچا تو مجھے ایک مجذوب سا آدمی ملا۔ وہ نالہ کے اندر اترنے کی کوشش کر رہا تھا اس نے صرف تہبند باندھ رکھا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ شخص نالہ میں ڈوب جائے گا لہٰذا میں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور کہا ’’ڈوب مرنے کا ارادہ ہے‘‘

وہ کچھ نہ بولا اور جھٹکے سے بازو چھڑوا کر نالہ کے اندر اتر گیا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا جلال تھا۔ اس دوران چار پانچ مرد بھی ادھر آ گئے۔ میں نے انہیں بھی کہا ’’اس کو روکو یہ ڈوب جائے گا پانی بڑا تیز ہے‘‘

وہ مجھے کہنے لگے ’’لگتا ہے تو نہیں جانتا یہ کون ہیں۔ یہ کاکے شاہ سرکار ہیں جب تک یہ نالہ ایک میں نہیں اتریں گے اس کا زور ختم نہیں ہو گا‘‘

میں ہنس دیا ’’پاگل ہو گئے ہو تم۔ پانی نے بڑے بڑے بند توڑ دئیے ہیں یہ کیسے روکے گا‘‘

’’یقین نہیں آتا تو دیکھ لو‘‘ ایک شخص نے کہا ’’ہر سال جب سیلاب آتا ہے تو سرکار نالہ ایک میں کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کی بات سن کر میں ہنسنے لگا۔ دیہاتیوں نے میری اس حرکت پر منہ بنا لیا میں بھی ازراہ تفریح وہاں ٹھہر گیا کہ دیکھوں پانی کیسے ٹھہرتا ہے۔

شام ہونے میں ابھی خاصا وقت تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اندھیرا ابھی سے چھانے لگاہے۔ آسمان کی طرف دیکھا تو سیاہ بادل بڑی تیزی سے پھیلتے ہوئے روشنیوں کو نگل رہے تھے۔ کچھ ہی لمحے میں آناً فاناً موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ بجلیاں کڑکنے لگیں سمجھئے دوپہر میں رات کی سیاہی گھل مل گئی تھی۔ اس موسم میں گھوڑی کھول کر لے جانا مشکل تھا۔ کیونکہ طوفانی بارش کے اندھیرے میں لالٹین نہیں جلائی جا سکتی تھی۔ میں نے سوچا کہ میں واپس چلا جاتا ہوں لیکن جب ارادہ کیا تو مجھے اس طوفان میں واپسی کا راستہ ملنا مشکل نظر آیا۔ سو میں نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور پیر کاکے شاہ کی طرف دیکھنے لگا جو نالہ ایک کے بپھرے پانیوں میں اتر گئے تھے۔ ان کے ہاتھ اور چہرہ آسمان کی طرف بلند تھا وہ پانی میں یوں چل رہے تھے جیسے وہ پانی میں نہیں پختہ راستے پر چل رہے ہوں۔ میرے لئے یہ بات حیرانی سے کم نہیں تھی۔ گہرے پانیوں میں چلا نہیں جاتا بلکہ تیرنا پڑتا ہے۔ پانی ان کے کندھوں تک نظر آ رہا تھا حالانکہ میرے اندازے کے مطابق نالہ بیس پچیس گز گہرا تھا۔ میں نے دیہاتیوں کی طرف دیکھا تو وہ میری طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ گویا مجھے سمجھا رہے تھے کہ دیکھا تم ہم پر ہنس رہے تھے لو اب اپنی عقل پر ہنس لو میرے بچے۔ روحانی لائن میں عقل محو تماشا ہوتی ہے۔ اس کو ضعف آ جاتا ہے یہ تو دل کی دنیا ہے اس میں عقل کا کیا کام۔ پیر کاکے شاہ آدھ گھنٹہ پانی میں کھڑے رہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ پانی ان کے کاندھوں سے نیچے ہو رہا ہے اور پھر ان کی کمر سے ہوتا ہوا ان کے گھٹنوں تک آ گیا۔ میرے سامنے کناروں کو اپنی وحشت میں غرق کرنے والا پانی پیر کاکے شاہ کے پیروں تک بیٹھ گیا تھا۔ میں بار بار اپنا سر جھٹکتا ہوہا کہ کہیں میں نیند کی حالت میں تو نہیں ہوں۔ لیکن میرے سامنے ایک سربستہ راز حقیقت بے نقاب ہو رہی تھی۔ میں دم بخود حیرت کے سمندروں میں غوطے کھا رہا تھا۔ جب ایک دیہاتی نے میرا کاندھا تھپتھپایا اور کہا ’’تم کہاں سے آئے ہو‘‘

میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور کہا ’’میں بہت دور سے آیا تھا راستہ بھول گیا ہوں‘‘ میں اسے کیا بتایا کہ میں ان کے گاؤں میں چوری کرنے آیا ہوں۔

کچھ دیر بعد پیر کاکے شاہ نالہ ایک سے باہر آئے اور شان بے نیازی سے ایک اچٹتی نگاہ مجھ پر ڈالی اور سیداں والی کی طرف چل دئیے۔ دیہاتی ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ میں اپنی جگہ بت بنا کبھی نالہ ایک کو دیکھتا اور کبھی پیر کاکے شاہ کی طرف۔ تھوڑا سا آگے جا کر وہ پلٹے اور میری طرف دیکھ کر زور سے ہاتھ ہلا کر بولے ’’جا ۔۔۔ جا ۔۔۔ چورا‘‘

تیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں