زبردستی شادی سے بچنے کیلئے نوجوان سعودی لڑکی گھر سے بھاگ نکلی لیکن جیسے ہی جاکر جہاز میں سوار ہوئی تو ایسا منظر کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، وہ کام ہوگیا جس کا کبھی خوابوں میں بھی تصور نہ کیا تھا

زبردستی شادی سے بچنے کیلئے نوجوان سعودی لڑکی گھر سے بھاگ نکلی لیکن جیسے ہی ...
زبردستی شادی سے بچنے کیلئے نوجوان سعودی لڑکی گھر سے بھاگ نکلی لیکن جیسے ہی جاکر جہاز میں سوار ہوئی تو ایسا منظر کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، وہ کام ہوگیا جس کا کبھی خوابوں میں بھی تصور نہ کیا تھا

  

منیلا (مانیٹرنگ ڈیسک) جبری شادی سے بچنے کے لئے آسٹریلیا فرار ہونے کی کوشش کے دوران فلپائن کے منیلا ائیرپورٹ پر پکڑی جانے والی سعودی لڑکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آگئی ہے، جس میں کئے گئے انکشافات نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق دینہ علی نامی لڑکی نے اپنی ویڈیو میں بتایا ہے کہ وہ زبردستی کی شادی سے بچنے کیلئے آسٹریلیا فرار ہونے کی کوشش کررہی تھی کہ منیلا ائیرپورٹ پر اسے پکڑلیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ اہلکاروں نے اسے 13 گھنٹوں تک محبوس رکھا اور پھر اس کے انکل زبردستی اسے سعودی عرب واپس لے گئے۔

دینہ علی نے اپنی ویڈیو میں کہا ہے کہ اس کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا ”براہ کرم میری مدد کریں۔ میں یہ ویڈیو مدد مانگنے کیلئے ریکارڈ کررہی ہوں۔ میرے خاندان والے مجھے قتل کرسکتے ہیں۔“ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی ایک کینیڈین خاتون کے حوالے سے بتایا ہے کہ لڑکی جبری شادی سے بچنے کیلئے فرار ہورہی تھی۔

شادی کی تقریب میں کھانے کے دوران ایسا کام ہوگیا کہ دلہن نے شادی سے ہی انکار کردیا، دولہا اور باراتی منتیں کرتے رہے لیکن وہ نہ مانی کیونکہ۔۔۔

رپورٹ کے مطابق کینیڈین خاتون کا کہنا ہے کہ اس نے فلپائن ائیرپورٹ پر دینہ علی کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور اس نے دیکھا کہ جب اس کے انکل پہنچے تو وہ خوف سے چلا رہی تھی۔ ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی دینہ علی کی تصاویر بھی اسی کینیڈین خاتون نے بنائی تھیں۔ میگن خان نامی اس خاتون کا کہنا ہے کہ دینہ علی نے اپنی ویڈیوز بھی انہی کے موبائل فون سے بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔

منیلا ائیرپورٹ کے ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ دینہ علی کے انکل اس کے منہ پر ٹیپ لگاکر اور اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر اسے فلپائن سے واپس سعودی عرب لے گئے۔ دوسری جانب جب ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے فلپائن امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ انہیں دینہ علی نامی کسی سعودی لڑکی کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔ فلپائنی ڈیپارٹمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے کسی سعودی شہری کو تحویل میں نہیں لیا اور نہ ہی انہیں مذکورہ خاتون یا اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ دینہ علی کو گزشتہ منگل کی رات سعودی ائیرلائن کی ایک پرواز میں لیجایا گیا، لیکن جب یہ پرواز کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کی تو دیگر مسافروں کے ساتھ دینہ علی اس میں سے نہیں اتری، باوجود اس کے کہ متعدد خواتین مسافروں نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک نوجوان لڑکی کو زبردستی جہاز میں لیجائے جانے کا منظر دیکھا تھا۔

دینا علی کے واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر عام ہونے کے بعد تقریباً 10 انسانی حقوق کارکن ائیرپورٹ پر پہنچے۔ ان میں 23 سالہ طالبہ اعلیٰ الانزی بھی شامل تھیں۔ اعلیٰ کی بہن ندا کا کہنا ہے کہ اس نے جب ائیرپورٹ اہلکاروں سے دینہ علی کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی تو اسے بھی تحویل میں لے لیا گیا اور اب تک اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -